غوث سیوانی، نئی دہلی
علامہ اقبال نے مذہب سے بالاتر ہوکر جن شخصیات کو اپنی تحریروں میں جگہ دی ہے،ان میں وشوا متر بھی شامل ہیں۔ یوں تو وشوامتر کو مائتھالوجی کا ایک کردار سمجھا جاتا ہے مگراقبال نے انہیں ایک قابل احترام شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے اور ان کی زبان سے نصیحتیں کی ہیں ، پیغامات دیئے ہیں۔ ویدک روایت کے اس عظیم سنت کا تذکرہ خاص طور پر "جاوید نامہ" میں ہے جو فارسی زبان میں ہے۔
کون ہیں وشومترا؟
وشوامتر کوئی تاریخی کردار نہیں بلکہ ان کا تذکرہ ہندو مذہبی متون میں ملتا ہے۔ان کتابوں میں انہیں ایک عظیم رشی قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا ذکر رگ وید، رامائن، مہابھارت اور متعدد پرانوں میں ملتا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ابتدا میں وشوامتر ایک طاقتور راجا تھے۔ ان کا نام کوشک(कौशिक) تھا اور وہ ایک چھتری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔وہ ایک جنگ میں رشی وششٹھ سے ہارگئے تھے۔ بعد میں انہوں نے سخت تپسیا کی ،جس سے انہیں "برہم رشی" کا مقام حاصل ہوا۔ انہیں بھگوان رام کا گرو بھی بتایا جاتا ہے جس نے رام جی کو "دیویاستر"دیئے تھے۔
رامائن کی روایتوں کے مطابق وہ یگیہ کرتے تھے تو انہیں راکشش پریشان کرتے تھے اور ان کے کام میں رکاوٹ ڈالتے تھے، ایسے میں انہوں نے ایودھیا کے راجہ دسرتھ کو شکایت کی تو یگیہ کی حفاظت کے لئے رام اور لکشمن کو بھیجا گیا۔ یہ وشوامتر ہی تھے جن کی سرپرستی میں رام جی، راجہ جنک کے دربار میں پہنچے اور سیتا کے سوئمبر میں شامل ہوکر شیودھنش کو توڑا اور شادی کرکے سیتا کو ساتھ لائے۔
روایات کے مطابق ان کی رشی وششٹھ(वशिष्ठ) کے ساتھ سخت رقابت تھی اور ایسے میں وہ رشی وششٹھ سے ہارجاتے ہیں۔پھر سخت تپسیا کرتے ہیں اور برہم رشی کا مقام حاصل کرتے ہیں۔قدیم ہندو روایت میں وشوامتر کو علم، تپسیا، ارادے کی مضبوطی اور روحانی ارتقا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کا شمار ہندوستان کی قدیم مذہبی اور فکری روایت کے اہم ترین رشیوں میں ہوتا ہے۔گایتری منتر جسے تمام منتروں میں سب سے افضل واعلیٰ تصور کیا جاتا ہے،اس کے بارے میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ وشوامتر پر ہی اس منتر کا الہام ہوا تھا۔ وشوامتر کے حالات زندگی یوں تو متعدد گرنتھوں میں ملتے ہیں مگر بالمیکی رامائن میں ان کا تذکرہ زیادہ ہے ۔

اقبال کی پسند وشوامتر
اقبال نے جن شخصیات کو اپنی نظم ونثر کے موضوع کے طور پر منتخب کیا ہے،ان میں ایک وشوامتر بھی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وشوامتر کو ہی کیوں منتخب کیا،دوسری بہت سی شخصیات ہیں جن پر وہ لکھ سکتے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اقبال کا زور حرکت وعمل اور "خودی" پر تھا اور اس پہلو سے وشوامتر کی شخصیت ان کے لئے مناسب تھی۔ویدک روایات کے مطابق وشوامتر ہی تھے جو شکست کھانے کے بعد،شکست کو قسمت مان کر نہیں بیٹھے بلکہ انہوں نے سخت محنت کی، یہاں تک کہ رشی وششٹھ نے انہیں "برہم رشی" کا خطاب دیا۔ مطلب یہ کہ وشوامتر کے کردار میں جدوجہد ہے، عمل پیہم ہے اور فلسفہ خودی کی جھلک ہے۔ اسی خوبی نے اقبال کی توجہ وشوامتر کی طرف کھینچی ہے۔ان کا بہت مشہور شعر ہے:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
جاوید نامہ میں وشوا متر
اقبال کی شاعری کی مقبولیت یوں تو زمان ومکان سے ماوریٰ ہے مگر انہیں جن نظموں یا کتابوں کے لئے ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا، ان میں ایک "جاویدنامہ" بھی ہے جو 1932ء میں شائع ہوئی تھی۔ یہ محض ایک شعری تصنیف نہیں بلکہ ایک روحانی، فکری اور تہذیبی سفرنامہ ہے، جس میں اقبال اپنے روحانی مرشد مولانا جلال الدین رومی کی معیت میں مختلف افلاک کی سیر کرتے ہیں اور تاریخ، فلسفے، مذہب اور تہذیب کی اہم شخصیات سے ملاقات کرتے ہیں، ان سے گفتگو کرتے ہیں اور ان کے نظریات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان شخصیات میں انبیا، اولیا، مسلم مفکرین، مغربی فلاسفہ اور ہندوستانی روایت کی نمایاں ہستیاں اور میرجعفر ومیر صادق جیسے تاریخ کے ولن بھی شامل ہیں۔
سیر افلاک کے دوران جن شخصیات سے اقبال کی ملاقات ہوتی ہے ان میں وشوامتر بھی شامل ہیں، جنہیں اقبال نے غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ انہیں اقبال نے "عارف ہندی" اور "جہاں دوست" کے لقب سے پکارا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال نہ صرف بھارت کی قدیم تہذیب، فکری روایات اور لٹریچر سے بخوبی آگاہی رکھتے تھے بلکہ اس کی مثبت اور تعمیری جہات کو قدر کی نگاہ سے بھی دیکھتے تھے۔ جاوید نامہ میں آزادی اور جدوجہد کا پیغام دینے کے لئے اقبال نے وشوامتر کے کردار کو منتخب کیا ہے۔
جاوید نامہ کی نظم لکھے جانے کا زمانہ وہ زمانہ تھا، جب ہندوستان کی جنگ آزادی عروج پر تھی۔ ہزاروں جان نثار وطن پرا پنی جانیں نثار کر چکے تھے اور ملک کے کروڑوں لوگ آزادی کے نعرے لگارہے تھے،ایسے میں اقبال نے وشوا متر کی زبان سے جو پیغام دلوایا ہے، وہ دراصل قومی بیداری، آزادی اور خود اعتمادی کا پیغام ہے۔
وشوامتر کی شخصیت صرف مذہبی نہیں بلکہ تہذیبی اور فکری اعتبار سے بھی اہم ہے۔ وہ انسانی قوت ارادی، مسلسل جدوجہد اور خود سازی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ یہی اوصاف اقبال کے فلسفۂ خودی سے بھی بڑی حد تک ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔
"جاوید نامہ" میں وشوامتر
جاوید نامہ کے مطابق جب اقبال سیرافلاک کے دوران مختلف آسمانوں کی سیر کرتے ہیں اور مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کرتے ہیں تو ایک مقام پر ان کی ملاقات ہندوستانی اسطر ی کردار وشوامتر سے ہوتی ہے۔اقبال نے لکھا ہے کہ ایک ہندوستانی عارف، جس نے چاند کے غاروں میں سے ایک غار میں خلوت اختیار کر رکھی ہے،ہندوستان والے اسے "جہان دوست" کہتے ہیں۔میں نے اسی غار میں قدم رکھا ۔ اس کے بعد اقبال نے غار کا حسین اور خوابناک منظر بیان کیا ہے کہ یہاں ہر سواجالا تھا،وہ ایک ایسی وادی تھی جہاں ہر پتھر گویا زنّار باندھے ہوئے تھا، اور ہر طرف بلند و بالا کھجوروں کے درخت دیوقامت معلوم ہوتے تھے۔میں سوچنے لگا کہ یہ آب وگل کی دنیا ہے یا میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔
اس کے بعد اقبال کہتے ہیں کہ ایک کھجور کے درخت کے نیچے عارف ہندی (وشوامتر) کو دیکھا جو بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں سرمہ لگا تھا اور ان کے سرپربڑے بڑے بال تھے۔ وہ ننگے بدن تھے اور ان کے گرد ایک سفیدسانپ لپٹا تھا۔ وشوامتر نے مولانا جلال الدین رومی سے دریافت کیا کہ آپ کے ساتھ یہ شخص کون ہے جس کی نگاہوں میں زندگی کی آرزو مجھے دکھائی دیتی ہے؟ وشوا متر کے سوال پر رومی نے اقبال کے تعلق سے کچھ باتیں بتائیں جنہیں سننے کے بعد وشوامتر نے کہا:
عالم از رنگ است و بے رنگی است حق
چیست عالم؟ چیست آدم؟ چیست حق؟
یعنی "دنیا مختلف رنگوں سے عبارت ہے، جبکہ خدا بے رنگ ہے۔آخر یہ عالم کیا ہے؟ انسان کیا ہے؟ اور حق کی حقیقت کیا ہے؟اقبال یہاں ایک گہرا فلسفیانہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کائنات کی ہر شے کا کوئی نہ کوئی رنگ ہے،یا مخلوقات رنگوں سے عبارت ہیں جب کہ خالق ہر رنگ سے بلند تر ہےیعنی دنیا، انسان، مخلوقات اور خدا کی حقیقت وماہیت کے بارے میں بنیادی وجودی سوالات پیش کیے گئے ہیں۔ اس قسم کے سوالات اور پھر ان کے جوابات میں غوروفکر کی دعوت دینا ، اقبال کی شاعری اور جاوید نامہ کے فکری مباحث کا اہم حصہ ہیں۔ اس روحانی سفر کے دوران وشوامتر کے بعد رومی ،خدا کے تعلق سے کچھ فلسفیانہ باتیں رکھتے ہیں اور اس بارے میں مشرق ومغرب کے نظریات کا فرق سمجھاتے ہیں۔ جس کا جواب دیتے ہوئے وشوامتر کہتے ہیں۔
بروجود و بر عدم پیچیدہ است
مشرق ایں اسرار را کم دیدہ است
یعنی وجود اور عدم کے اسرار میں یہ حقیقت لپٹی ہوئی ہے،اور مشرق نے اس راز کو بہت کم سمجھا اور پہچانا ہے۔
کارِ ما افلاکیاں جز دید نیست
جانم از فردائے او نومید نیست
یعنی ہم آسمانی مخلوق کا کام دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کے سوا کچھ نہیں، اور میں اس (انسان) کے آنے والے کل سے مایوس نہیں ہوں۔
یہاں جاوید نامہ کے اشعار میں اقبال وشوامتر کی زبان سے رازہستی کو بیان کررہے ہیں، اسی کے ساتھ یہ امید ظاہر کر رہے ہیں کہ وقت اور حالات اگرچہ دشوار گزار ہیں، لوگ اگرچہ فکری الجھنوں میں گھرے ہوئے ہیں، لیکن ان کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے کیونکہ فرشتے تو محض تماشائی ہیں، جبکہ انسان حرکت و عمل اور جدوجہد کی صلاحیت رکھتا ہے، ایسے میں اس کے مستقبل سے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔اسی بیچ آسمان سے ایک فرشہ اترتا ہے اور دوسری باتوں کے ساتھ وہ یہ بھی کہتا ہے وہ قوم خوش نصیب ہے جو اپنے آپ کو یازیافت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ مزید کہتا ہے:
عرشیاں را صبحِ عید آں ساعتے
چوں شود بیدار چشمِ ملّتے
یعنی عرش والوں کے لیے وہ گھڑی صبح عید کی طرح خوشگوارہوتی ہے،جب کسی قوم کی آنکھ کھل جاتی ہے۔
اقبال کے نزدیک کسی قوم کی فکری، روحانی اور سیاسی بیداری صرف اس قوم ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری کائنات کے لیے مسرت کا باعث ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی ملت غفلت سے نکل کر شعور، آزادی اور عمل کی راہ اختیار کرتی ہے تو گویا آسمان والے بھی اس پر خوشیاں مناتے ہیں۔
وشوامترکے ذریعے دنیا کو پیغام
"جاوید نامہ"کی نظم کے مطابق بہ ظاہر اقبال کا وشوامتر سے ملنا اور گفتگو کرنا ایک شاعرانہ پرواز تخیل ہے مگر حقیقت میں یہ ملاقات اور دونوں کا مکالمہ انسان اور خاص طور پر ہندوستانیوں کو بیدار کرنے کی کوشش ہے۔اقبال کے دور کا ہندوستان آج کے دور سے مختلف تھا اور تب کے سیاسی حالات بھی الگ تھے۔ انگریزی حکومت کے خلاف آواز اٹھانا بڑا جوکھم کا کام تھا،ایسے میں جہاں ایک طرف لوگ انگریزوں پر حملے کرکے سولی کی سزا کو قبول کرلیتے تھے یا کالا پانی بھیج دیئے جاتے تھے، وہیں دوسری طرف اقبال جیسے لوگ بھی تھے جو بڑی حکمت عملی کے ساتھ انگریزوں سے تعلقات استوار کئے ہوئے تھے مگر ہندوستانیوں کو بغاوت پر بھی اکساتے رہتے تھے۔انہیں انگریزی حکومت کی طرف سے خطاب سے نوازا گیا تھا مگر وہ انتہائی حکمت عملی کے ساتھ اپنی تحریروں کے ذریعے ہندوستانیوں کو حب وطن کی دعوت دیتے تھے اور غیرملکی قابضوں کے خلاف تحریک پر اکساتے بھی تھے۔ایسا ہی انہوں نے وشوامتر کے ساتھ مکالمہ والے حصے میں بھی کیاہے۔ یہ مکالمہ محض ایک اسطری رشی کی گفتگو نہیں بلکہ ہندوستان کی تہذیبی روح، روحانی زوال، قومی بیداری اور مستقبل کے امکانات پر ایک گہرا فلسفیانہ اظہار ہے۔
وشوامتر، اقبال کی نظر میں ہندوستان کی قدیم حکمت اور فکری میراث کے نمائندہ ہیں۔اسی کے ساتھ وہ جدوجہد اور عمل پیہم کی علامت بھی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اقبال نے وشوامتر کی زبان سے ہندوستانی قوم کی بیداری اور ملک کی آزادی کے لئے جدوجہد کا پیغام دیاہے۔ اقبال کی شاعری کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ کسی تہذیب سے مناظرہ نہیں کرتے بلکہ مکالمہ کرتے ہیں اور اس کے ذریعے اپنی تحریر کو قوت دیتے ہیں۔ وشوامتر سے ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اقبال یہاں کسی مذہبی مناظرے کے بجائے تہذیبوں کے درمیان مکالمہ قائم کرتے ہیں۔

اقبال کا ماننا تھا کہ ہندوستان ایک قدیم تہذیب کا حامل ملک ہے جس نے دنیا کو اخلاقی اقدار کے ساتھ ساتھ اوربھی بہت کچھ دیا ہے اور اس قوم کے بیدار ہونے کا مطلب دنیا میں ایک روحانی، اخلاقی،فکری اور علمی انقلاب ہے۔ وشوامتر اسی تناظر میں ہندوستان کو بیدار ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ ہندوستانیوں کو خود اعتمادی، علم اور عمل کی طرف بلاتے ہیں۔اسی کے ساتھ اشاروں ،کنایوں میں مغرب پر تنقید بھی ہے جس نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں بڑی کامیابیوں حاصل کی ہیں مگر روحانی اور اخلاقی اعتبار سے پیچھے رہ گیا۔
اقبال نے جاوید نامہ میں صرف ہندورشی وشوامتر سے ہی احترام سے مکالمہ نہیں کیا ہے بلکہ مغرب کے فلسفیوں سے بھی گفتگو کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک طرف انہوں نے ہندوستان کی قدیم فکری روایت کو خراجِ تحسین پیش کیاہے تو دوسری طرف جدیدمغربی افکارکی خوبیوں کو قبول کرتے ہوئے،اسے مشرقی اخلاقی قدروں کو اپنانے کا مشورہ بھی دیا ہے۔