نئی دہلی: لوک سبھا نے بدھ کے روز "بینکرز بکس ایویڈنس بل، 2026" منظور کر لیا، جس کا مقصد عدالتوں میں ڈیجیٹل اور الیکٹرانک بینکاری ریکارڈ کو بطور ثبوت قبول کرنے کے عمل کو جدید، شفاف اور زیادہ واضح بنانا ہے۔ یہ بل 1891 کے نوآبادیاتی دور کے 125 سال پرانے "بینکرز بکس ایویڈنس ایکٹ" کی جگہ لے گا۔
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان یہ بل ایوان میں پیش کیا۔ اپوزیشن ارکان ایودھیا کے رام مندر میں مبینہ چندے کی چوری اور دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کے معاملے پر نعرے بازی کر رہے تھے۔ ایوان کی کارروائی کی صدارت کر رہے جگدمبیکا پال نے بل پر ترامیم پیش کرنے کے لیے اپوزیشن ارکان منوج کمار، این کے پریم چندرن، کے سریش اور دیگر کے نام پکارے، تاہم کسی رکن نے ترمیم پیش نہیں کی۔
ہنگامے کے دوران ہی لوک سبھا نے اس بل کو بحث کے بغیر صوتی ووٹ (Voice Vote) سے منظور کر لیا۔ مجوزہ قانون میں "بینکرز بکس" کی تعریف کو وسیع کرتے ہوئے اس میں ڈیجیٹل، کلاؤڈ پر مبنی اور دیگر الیکٹرانک ریکارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
بل میں عدالتوں کے سامنے ڈیجیٹل اور الیکٹرانک بینکاری ریکارڈ کو بطور ثبوت پیش کرنے اور ان کی تصدیق کے لیے واضح اور یکساں قواعد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بینک افسران کو مضبوط اور معقول وجہ کے بغیر بار بار عدالت میں طلب کیے جانے سے بچانے کے لیے "خصوصی وجہ" (Special Cause) کی شرط بھی شامل کی گئی ہے۔