علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ’’پریم چند کی عصری معنویت‘‘ کے عنوان سے ایک ادبی نشست منعقد کی گئی۔شعبہ اردو کے صدر پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی نے صدارتی کلمات میں کہا کہ پریم چند 1880 عیسوی میں پیدا ہوئے اور 1936 عیسوی میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ اس عرصے میں انہوں نے سینکڑوں افسانے اور متعدد ناول لکھے۔ اس کے علاوہ تراجم اور مضامین بھی تحریر کیے۔ انہوں نے جو کچھ لکھا وہ ہندوستانی معاشرے اور اس کے مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے لکھا۔ پریم چند اپنے دور میں بھی معتبر ادیب تھے اور آج بھی ان کی معنویت برقرار ہے۔
نئے تعلیمی سال میں طلبہ و طالبات کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروفیسر فریدی نے کہا کہ پریم چند کے افسانے اور ناول معاشرے کو ایک نئی راہ دکھاتے ہیں۔ وہ اپنے کرداروں کو فطری انداز میں پیش کرتے ہیں اور آسان زبان میں زندگی کے اسرار و رموز کو بڑی خوبی سے قارئین کے سامنے پیش کردیتے ہیں۔اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر طارق چھتاری نے کہا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ پریم چند صرف حقیقت نگار تھے۔ تاہم یہ ادھوری سچائی ہے۔ وہ انسانی نفسیات کے بھی ماہر تھے اور باریک بینی سے اپنے کرداروں کی نفسیات کو اجاگر کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پریم چند کی کہانیاں آج بھی معنی خیز ہیں۔
پروفیسر امتیاز احمد نے پریم چند کی افسانہ نگاری کی تکنیک پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ پریم چند نے صرف افسانے نہیں لکھے بلکہ دنیا کے بہترین ادب کا بھی مطالعہ کیا تھا جس سے ان کے فن میں وسعت پیدا ہوئی۔ ان کی تحریروں میں اخلاقیات پر بھی خاص زور ملتا ہے۔ڈاکٹر خالد سیف اللہ نے کہا کہ جن لوگوں کو افسانہ نگاری کا شوق ہے انہیں پریم چند کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ ہم ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔
ڈاکٹر معید الرحمن نے کہا کہ بڑے ادیب ہر دور میں پڑھے جاتے ہیں اور ان کی تحریریں ہر زمانے میں ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔ پریم چند بھی ایسے ہی عظیم ادیب تھے۔ڈاکٹر خالد سیف اللہ کے کلمات تشکر کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔