پرانی دہلی میں تعلیم کا چراغ روشن کرنے والے: مقصود احمد

Story by  آمنہ فاروق | Posted by  Aamnah Farooque | Date 13-06-2026
 پرانی دہلی میں تعلیم کا چراغ روشن کرنے والے: مقصود احمد
پرانی دہلی میں تعلیم کا چراغ روشن کرنے والے: مقصود احمد

 



آمنہ فاروق- نئی دہلی
پرانی دہلی کی تنگ گلیوں  اور  قدیم عمارتوں کے درمیان ایک ایسی شخصیت بھی موجود ہے جو گزشتہ تین دہائیوں سے خاموشی کے ساتھ تعلیم، سماجی خدمت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام عام کر رہی ہے۔ یہ شخصیت ہے مقصود احمد کی، جو "علامہ رفیق ٹرسٹ" کے بانی ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ اگر عزم مضبوط ہو تو محدود وسائل کے باوجود معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
مقصود احمد کا سفر کسی بڑے ادارے یا مراعات یافتہ ماحول سے شروع نہیں ہوا۔ ان کی ابتدائی تعلیم ایک سرکاری پرائمری اسکول میں ہوئی، جبکہ بعد میں انہوں نے ایک مندر میں قائم اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ وہ فخر کے ساتھ بتاتے ہیں کہ ان کی پوری تعلیمی زندگی ہندو تعلیمی اداروں میں گزری۔ اسی تجربے نے ان کے اندر مذہبی رواداری، سماجی ہم آہنگی اور خدمت خلق کا جذبہ پیدا کیا۔وہ یاد کرتے ہیں کہ بچپن میں جب نماز کا وقت ہوتا تو مندر کے پجاری انہیں وہیں نماز ادا کرنے کی اجازت دیتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ تجربہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور باہمی احترام کی بہترین مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی وہ محبت، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے پیغام کو اپنی جدوجہد کا محور قرار دیتے ہیں۔
مقصود احمد نے 1996 میں "علامہ رفیق ٹرسٹ" کی بنیاد رکھی۔ اس ٹرسٹ کا نام معروف عالم دین اور سماجی شخصیت علامہ رفیق کے نام پر رکھا گیا، جنہیں علمی، روحانی اور سماجی حلقوں میں بڑی عزت حاصل تھی۔ ٹرسٹ کا بنیادی مقصد تعلیم، انصاف، مساوات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ ابتدائی دنوں میں یہ سفر آسان نہیں تھا۔ مقصود احمد کے مطابق علاقے میں تعلیم کا ماحول کمزور تھا اور لوگ تعلیمی و فلاحی سرگرمیوں کی اہمیت سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ انہیں مختلف سطحوں پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں آج یہ ادارہ سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد کی زندگیوں میں تبدیلی لا چکا ہے۔
علامہ رفیق ٹرسٹ صرف تعلیمی خدمات تک محدود نہیں ہے بلکہ ہنرمندی اور خود کفالت کے فروغ کے لیے بھی سرگرم ہے۔ یہاں کمپیوٹر کورسز، انگلش اسپیکنگ کلاسز، سلائی، مہندی، بیوٹیشن اور دیگر تربیتی پروگرام چلائے جاتے ہیں۔ ان کورسز کے ذریعے بے شمار خواتین معاشی طور پر خود مختار بن چکی ہیں۔
مقصود احمد ایک ایسی خاتون کی مثال دیتے ہیں جن کے شوہر ایک حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔ انہوں نے ٹرسٹ میں سلائی سیکھی تھی، جس کی بدولت وہ آج اپنے بچوں کی کفالت کر رہی ہیں اور کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی محتاج نہیں ہیں۔ ایسی کئی کہانیاں اس ادارے کی کامیابی کا ثبوت ہیں۔
ٹرسٹ کے زیر اہتمام صحت کے شعبے میں بھی قابل ذکر کام کیا جا رہا ہے۔ مختلف اسپتالوں اور طبی اداروں کے اشتراک سے مفت ہیلتھ کیمپ منعقد کیے جاتے ہیں، جہاں مریضوں کو معائنہ، ٹیسٹ اور ادویات کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اپولو، راجیو گاندھی کینسر اسپتال اور دیگر معروف ادارے بھی ان فلاحی سرگرمیوں میں تعاون کرتے رہے ہیں۔تعلیم کے میدان میں بھی اس ادارے نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے کئی طلبہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ مقرر ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد نوجوان طب، فارمیسی اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں کامیابی سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کوئی طالب علم یو پی ایس سی میں کامیاب نہیں ہوا، لیکن مقصود احمد کو یقین ہے کہ مستقبل میں یہ خواب بھی ضرور پورا ہوگا۔
مقصود احمد کا ماننا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راستہ تعلیم، ہنر اور مثبت سوچ سے ہو کر گزرتا ہے۔ وہ نوجوانوں کو شکایتوں اور محرومیوں کے بجائے خود احتسابی، محنت اور تعمیری کردار اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک معاشرے میں محبت، انصاف اور خدمت کا فروغ ہی حقیقی کامیابی ہے۔ لیکن مقصود احمد کا سب سے بڑا خواب ابھی ادھورا ہے۔وہ خواب ہے پرانی دہلی کی بچیوں کے لیے ایک ایسے جدید تعلیمی ادارے کا قیام، جہاں تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہ ہو بلکہ شخصیت سازی، ہنرمندی اور خود اعتمادی کی تربیت بھی دی جائے۔
تقریباً تین دہائیوں سے تعلیم کے میدان میں کام کرنے والے مقصود احمد آج بھی اسی خواب کو حقیقت بنتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر پرانی دہلی کی لڑکیوں کو معیاری تعلیم، بہتر ماحول اور جدید سہولتیں مل جائیں تو وہ نہ صرف
اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔
وہ امید کے ساتھ اس منصوبے کا ذکر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد از جلد اس اسکول کی تعمیر مکمل ہو، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے علم کے نئے دروازے کھل سکیں۔مقصود احمد کے اس خواب میں صرف ایک عمارت شامل نہیں، بلکہ ایک پورا مستقبل پوشیدہ ہے۔ایسا مستقبل جہاں معاشی کمزوری کسی بچی کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ایسا مستقبل جہاں پرانی دہلی کی گلیوں سے ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، سائنس دان اور سماجی رہنما نکلیں۔اور ایسا مستقبل جہاں تعلیم کے ذریعے ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے قریب آئیں، ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھیں اور مل کر ترقی کی نئی داستان لکھیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ مقصود احمد کے لیے اسکول کی تعمیر محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں، بلکہ ایک نسل کو روشنی دینے کا خواب ہے۔ان کا یقین ہے کہ جب ایک بچہ تعلیم حاصل کرتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں بدلتا، بلکہ پورا خاندان بدلتا ہے۔ اور جب ایک لڑکی تعلیم حاصل کرتی ہے تو ایک پوری نسل بدل جاتی ہے۔
اسی خواب کی تعبیر کے لیے مقصود احمد آج بھی پرانی دہلی میں علم کا چراغ روشن کیے ہوئے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ آنے والے برسوں میں یہی چراغ ایک بڑے تعلیمی انقلاب کی شکل اختیار کرے گا۔