کولکاتا: مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے ہفتہ کے روز الزام لگایا کہ ریاست میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی بائیں بازو کی محاذ حکومت اور ترنمول کانگریس نے بنگالی ہندوؤں کی ثقافتی روایات کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت بنگالی ہندوؤں سے جڑی ’’وراثت اور روایات‘‘ کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
شوبھندو نے کیستوپور میں گنیش پوجا کا افتتاح کرنے کے بعد کہا کہ ریاست کی ثقافتی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش تقریباً پانچ دہائیوں سے جاری ہے۔ انہوں نے مغربی بنگال میں بائیں بازو کے محاذ کی 34 سالہ حکومت اور ترنمول کانگریس کی 15 سالہ حکومت کا حوالہ دیا۔
وزیر اعلیٰ نے جیل میں بند بنگلہ دیشی ہندو سنت چنمیہ کرشن داس پربھو کی مبینہ خراب حالت کا بھی ذکر کیا، جس کی عکاسی میڈیا میں شائع ہونے والی تازہ تصاویر سے ہوتی ہے۔ ان تصاویر میں چنمیہ کرشن داس پربھو اپنی والدہ کی میت کے پاس غم زدہ حالت میں نظر آ رہے ہیں۔
شوبھندو نے کہا، ’’چنمیہ پربھو کے آنسوؤں نے دنیا بھر کے ’سناتنیوں‘ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔‘‘ ان کا یہ بیان ترنمول کانگریس کی جانب سے جمعہ کو بنگلہ دیشی ہندو سنت کی مبینہ بدحالی پر خاموشی اختیار کرنے کے لیے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے ایک دن بعد آیا ہے۔ شوبھندو نے تقسیم ہند کے وقت مشرقی پاکستان کے لوگوں کی حالت زار کا بھی ذکر کیا۔ وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ بائیں بازو کی حکومت کے دور میں ہندوؤں کی روایتی رسومات، مذہبی کتابوں اور تہواروں کو ’’جان بوجھ کر حاشیے پر دھکیل دیا گیا‘‘۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران پوجا پنڈالوں میں بائیں بازو کے رہنماؤں کارل مارکس اور لینن کی کتابیں تو مل جاتی تھیں، لیکن سوامی وویکانند، سوامی پرنوانند اور رام کرشن مشن سے متعلق کتابیں وہاں موجود نہیں ہوتیں تھیں۔ شوبھندو نے الزام لگایا، ’’جن لوگوں نے 34 سال تک مغربی بنگال پر حکومت کی، وہ نہیں چاہتے تھے کہ ہم اپنی مذہبی روایات، مذہبی کتابوں اور رسومات کے بارے میں لکھیں یا ان پر عمل کریں۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترنمول حکومت کے 15 سالہ دور حکومت میں مذہب، زبان اور تہواروں کے نام پر لوگوں کے درمیان ’’تقسیم پیدا کرنے‘‘ کی کوششیں کی گئیں۔
شوبھندو نے سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا نام لیے بغیر کہا کہ ماضی میں محرم کی وجہ سے درگا مورتی کے وسرجن پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا، ’’درگا پوجا کے دوران پنچانگ میں جو کچھ لکھا ہے، اس پر عمل کیا جائے گا۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ہم درگا پوجا سے وابستہ روایتی پنچانگ اور رسومات پر عمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی شناخت، مذہب، وراثت اور روایات کو برقرار رکھنے کے لیے متحد رہیں۔