ڈھاکہ: ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کے کولکاتا میں بدھ کی صبح ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے ہلاک ہونے والے 9 افراد میں پانچ بنگلہ دیشی شہری بھی شامل ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی کولکاتا میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن کے حکام جائے وقوعہ پر پہنچے اور ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
کولکاتا میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن نے ایک بیان میں کہا، ’’مقامی حکام کے مطابق اب تک آگ کے واقعے میں مجموعی طور پر 9 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مقامی پولیس نے ہلاک ہونے والوں میں پانچ بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت کی تصدیق کی ہے۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ ڈپٹی ہائی کمیشن نے متاثرین کے اہل خانہ سے رابطہ کیا ہے اور ان میں سے چار افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔
بیان کے مطابق باقی متاثرین کی شناخت کی ابھی تک مقامی حکام نے تصدیق نہیں کی ہے۔ اس کے علاوہ چھ زخمی بنگلہ دیشی شہریوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال سے رخصت کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی ہائی کمیشن کے حکام اسپتال اور مقامی پولیس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ بنگلہ دیشی شہریوں کو چوبیس گھنٹے مدد فراہم کی جا سکے۔
ڈپٹی ہائی کمیشن نے 24 گھنٹے کی ہیلپ لائن بھی قائم کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ اور کولکاتا میں ڈپٹی ہائی کمیشن اس معاملے پر متعلقہ ہندوستانی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ دوسری جانب، مرزا غالب اسٹریٹ پر واقع ایک ہوٹل میں آتشزدگی کے اس المناک واقعے کی تحقیقات کے لیے کولکاتا پولیس نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی ہے۔ اس حادثے میں 9 افراد کی جان گئی ہے۔ پولیس کے مطابق بدھ کی علی الصبح لگنے والی آگ میں ایک بچے سمیت 9 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ تقریباً 60 دیگر افراد کو جلتی ہوئی عمارت سے بحفاظت نکال لیا گیا۔
آتشزدگی کے بعد مغربی بنگال کی وزیر اگنی مترا پال نے کہا کہ حکومت شہر بھر کے ہوٹلوں کے اجازت ناموں اور فائر لائسنس کی جانچ کے لیے ایک ٹیم تشکیل دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس عمارت میں مختلف منزلوں پر چھوٹے کمروں والے متعدد ہوٹل قائم تھے۔ پال جائے وقوعہ پر پہنچیں اور ہوٹل کا معائنہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا، ’’ہم ایک ٹیم تشکیل دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جو یہ جانچ کرے گی کہ ہوٹلوں کے پاس درست اجازت نامے اور فائر لائسنس موجود ہیں یا نہیں۔ ایک ہی عمارت کی تین منزلوں پر 10 ہوٹل چلائے جا رہے ہیں، جن میں چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں۔ اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
‘ انہوں نے مزید کہا، ’’پولیس ابھی یہ جانچ کر رہی ہے کہ متاثرین بنگلہ دیشی ہیں یا ہندوستانی۔ تحقیقات کے بعد پولیس اس کی تصدیق کرے گی۔ یقیناً کارروائی کی جائے گی۔ ہم نے ابھی وزیر اعلیٰ سے بات نہیں کی ہے، لیکن ان سے بات کرنے کے بعد کوئی اعلان کیا جائے گا۔‘‘