خدا بخش لائبریری سمینار:صوفی بھکتی تحریک نے بہار کی تہذیب اور ادب کو نئی شناخت دی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 20-07-2026
خدا بخش لائبریری سمینار:صوفی بھکتی تحریک نے بہار کی تہذیب اور ادب کو نئی شناخت دی
خدا بخش لائبریری سمینار:صوفی بھکتی تحریک نے بہار کی تہذیب اور ادب کو نئی شناخت دی

 



پٹنہ: مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ صوفی بھکتی تحریک نے بہار اور پورے ہندوستان کے ادب۔ ثقافت اور سماج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس تحریک نے بھائی چارے۔ مذہبی رواداری۔ روحانیت۔ مساوات اور گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیا جبکہ علاقائی زبانوں اور عوامی ادب کو نئی شناخت عطا کی۔ مقررین نے اس مشترکہ تہذیبی ورثے پر مزید تحقیق۔ قدیم متون کی ازسرنو جانچ اور انہیں ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ان خیالات کا اظہار خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری میں بہار کے ادب۔ ثقافت اور سماج پر صوفی بھکتی تحریک کے اثرات کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ قومی سمینار کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا گیا۔

پروفیسر محمد زاہد الحق۔ خدا بخش لائبریری کی علمی سرگرمیوں کی نئی شروعات

خدا بخش لائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر محمد زاہد الحق نے استقبالیہ خطاب میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تقرری کے صرف ایک ماہ کے اندر اس نوعیت کے قومی سمینار کا انعقاد ان کے لیے باعث سعادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب خدا بخش لائبریری میں اس طرح کی علمی تقریبات مستقل روایت کا حصہ تھیں اور اب لائبریری دوبارہ اسی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اسے ادارے کے لیے ایک نیک شگون قرار دیا۔

شفیع مشہدی۔ نوجوان قیادت سے نئی امیدیں وابستہ

معروف فکشن نگار اور شاعر شفیع مشہدی نے سمینار کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے بعد خدا بخش لائبریری کو ایک فعال اور نوجوان قیادت ملی ہے۔ ان کے مطابق یہ سمینار مستقبل کے علمی منصوبوں کا پیش خیمہ ہے اور اس کا آغاز ایسے موضوع سے کیا گیا ہے جس نے صدیوں تک سماج میں بھائی چارے اور باہمی احترام کی فضا قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پروفیسر صفدر امام قادری۔ صوفی بھکتی متون پر نئی تحقیق کی ضرورت

معروف دانشور پروفیسر صفدر امام قادری نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے مورخین کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھا کہ صوفی بھکتی تحریک سے متعلق دستیاب متون پر کس حد تک اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ودیاپتی کے متون نسبتاً مستند سمجھے جاتے ہیں لیکن امیر خسرو اور کبیر سے منسوب کئی متون پر اب بھی تحقیق کی ضرورت باقی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ دور کے مورخین اور محققین ان سوالات کے تسلی بخش جوابات تلاش کریں گے۔

پروفیسر رتنیشور مشرا۔ علاقائی زبانوں کو صوفی بھکتی تحریک نے نئی شناخت دی

افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ممتاز مورخ پروفیسر رتنیشور مشرا نے کہا کہ اگرچہ صوفی بھکتی تحریک کی جڑیں قدیم ہیں لیکن سولہویں صدی میں اس نے اپنے عروج کو پہنچ کر عوامی زبانوں کو وقار عطا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی تحریک کی بدولت ودیاپتی نے میتھلی زبان کو نئی شناخت دی جبکہ شیخ شرف الدین یحیٰ منیری نے روحانیت کو عام فہم زبان میں پیش کیا۔ ان کے مطابق یہ پورا علمی سرمایہ ہمارا قیمتی تہذیبی ورثہ ہے۔

ندیم الغفار صدیقی۔ علمی ورثے کی ڈیجیٹل حفاظت وقت کی ضرورت

حکومت بہار کے ایڈیشنل سکریٹری ندیم الغفار صدیقی نے کہا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں قدیم علمی اور ادبی متون کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنا ناگزیر ہو گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں اور آنے والی نسلوں کے لیے یہ ورثہ محفوظ رہے۔

امتیاز احمد کریمی۔ صوفی تحریک نے روحانیت اور انسان دوستی کو فروغ دیا

بہار پبلک سروس کمیشن کے سابق چیئرمین امتیاز احمد کریمی نے کہا کہ صوفی بھکتی تحریک نے خصوصاً بہار کے ادب۔ تہذیب اور سماج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کے مطابق یہ تحریک انسان کو خدا سے قریب کرتی ہے اور روحانیت کی تعلیم دیتی ہے جس کے اثرات معاشرے کی فکری اور اخلاقی تشکیل میں نمایاں نظر آتے ہیں۔

ارشد فیروز۔ خدا بخش لائبریری انسانیت کا پیغام دیتی ہے

گورنمنٹ اردو لائبریری کے سابق چیئرمین ارشد فیروز نے کہا کہ خدا بخش لائبریری ایک قیمتی قومی سرمایہ ہے اور یہاں سے جو پیغام دنیا تک پہنچتا ہے اسے سنجیدگی سے سنا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوفی بھکتی تحریک نے وحدت۔ مساوات اور انسان دوستی کا درس دیا جو آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔

اشرف فرید۔ گنگا جمنی تہذیب کو صوفی تحریک نے مضبوط کیا

روزنامہ قومی تنظیم کے چیف ایڈیٹر اشرف فرید نے کہا کہ صوفی بھکتی تحریک نے مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیا اور انسان کو مذہبی اور سماجی تفریق سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کا سبق دیا۔

خدا بخش لائبریری جرنل کا نیا شمارہ جاری

اس موقع پر خدا بخش لائبریری کے سہ ماہی تحقیقی جرنل کے تازہ شمارے کی بھی رسم اجرا انجام دی گئی۔ انتظامیہ نے بتایا کہ یہ جرنل اپریل 2024 سے تاخیر کا شکار تھا لیکن نئی انتظامیہ کی خصوصی دلچسپی کے باعث اپریل تا دسمبر 2024 کا مشترکہ شمارہ ایک ماہ کے اندر تیار کر لیا گیا۔ آئندہ دو خصوصی شمارے پروفیسر کلیم الدین احمد اور قاضی عبد الودود کے نام سے شائع کیے جائیں گے جن کے لیے محققین سے مقالات طلب کیے گئے ہیں۔

پہلے علمی اجلاس میں چار تحقیقی مقالات پیش

افتتاحی تقریب کے بعد پہلے علمی اجلاس کی مشترکہ صدارت پروفیسر اعجاز علی ارشد سابق وائس چانسلر مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی اور پروفیسر راجیش شکلا صدر شعبۂ تاریخ پاٹلی پترا یونیورسٹی نے کی۔

اس اجلاس میں معصوم عزیز کاظمی نے گیا کی خانقاہوں اور صوفیا کی ادبی خدمات پر مقالہ پیش کیا۔ پروفیسر محمد عارف نے عہد وسطیٰ کے بہار میں سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں صوفیا کے کردار پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر شیو کمار مشرا نے متھلا کے صوفی سنتوں اور ان کے سماجی اثرات کا جائزہ پیش کیا جبکہ پروفیسر تعبیر کلام نے تیرہویں اور چودھویں صدی میں بہار کے صوفیا کے ذریعے ہندوستانی زبانوں کے فروغ پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔

آج دوسرے دن بھی جاری رہیں گے علمی اجلاس

سمینار کے اختتام پر ڈائرکٹر پروفیسر محمد زاہد الحق نے تمام مقررین اور شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اہل علم کی شرکت ہی اس بزم کا اصل سرمایہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 18 جولائی کو صبح 10 بجے سے سمینار کے دوسرے دن کے اجلاس منعقد ہوں گے جن میں ملک بھر کے نامور مورخین۔ ادبا اور ناقدین اپنے تحقیقی مقالات پیش کریں گے۔