نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ہفتہ کے روز ہندوستانی ہاکی ٹیم کی جرسی کا رنگ نیلے سے زعفرانی کرنے کے فیصلے پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا اور سوال اٹھایا کہ اتنا اہم فیصلہ ہاکی انڈیا کے ایگزیکٹو بورڈ کی معلومات اور منظوری کے بغیر کیسے لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف کھیل سے متعلق فیصلہ نہیں بلکہ کروڑوں ہندوستانیوں کے جذبات اور ملک کی کھیلوں کی روایت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں کھڑگے نے کہا کہ ہندوستانی کھلاڑی برسوں سے دنیا بھر میں "مین اِن بلیو"، "دی بلیوز" اور "بلیو ٹائیگرز" جیسی شناخت سے جانے جاتے رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ شناخت صرف جرسی کے رنگ کی نہیں بلکہ ہندوستانی کھیلوں کی ایک تاریخی وراثت ہے، اس لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اس تاریخی شناخت کو تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔ کھڑگے نے کہا کہ اصل مسئلہ کسی مخصوص رنگ کا نہیں بلکہ فیصلہ سازی کے طریقۂ کار، شفافیت اور عوامی جذبات کے احترام کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زعفرانی، سفید اور سبز تینوں رنگ قومی پرچم کا حصہ ہیں اور سبھی کو یکساں احترام حاصل ہے۔