قومی اردو کونسل میں اے آئی پر مبنی لسانی ٹیکنالوجی کے ذریعے فروغِ اردو کے امکانات پر اہم میٹنگ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-04-2026
قومی اردو کونسل میں اے آئی پر مبنی لسانی ٹیکنالوجی کے ذریعے فروغِ اردو کے امکانات پر اہم میٹنگ
قومی اردو کونسل میں اے آئی پر مبنی لسانی ٹیکنالوجی کے ذریعے فروغِ اردو کے امکانات پر اہم میٹنگ

 



نئی دہلی: “جدید ٹکنالوجی کے مؤثر استعمال سے اردو زبان کو دیگر بھارتی زبانوں سے جوڑنا اور اسے ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے”۔ ان خیالات کا اظہار قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے ایک اہم میٹنگ کے دوران کیا، جو اردو کو ٹکنالوجی کے ذریعے فروغ دینے کے مقصد سے قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں منعقد ہوئی۔

اس میٹنگ میں ڈاکٹر شمس اقبال کے علاوہ انووادنی فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور آل انڈیا کونسل برائے تکنیکی تعلیم، وزارت تعلیم، حکومت ہند کے چیف کوآرڈی نیٹنگ آفیسر ڈاکٹر بدھا چندر شیکھر اپنے رفقا کے ساتھ شریک ہوئے۔ ان کے ہمراہ گنیشن، رنجیت، سائیں اور ابھے بھی موجود تھے۔ قومی اردو کونسل کی جانب سے شاہنواز خرم، افضل حسین خان، محمد طاہر، محمد افروز اور محمد مطعم کمالی نے شرکت کی۔

میٹنگ میں انووادنی اے آئی پلیٹ فارم کی مختلف خصوصیات اور اردو زبان کی ترقی میں اس کے ممکنہ استعمالات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ یہ پلیٹ فارم بائیس ہندوستانی اور نواسی غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ کی سہولت فراہم کرتا ہے اور اسے “میک اِن بھارت” پہل کے تحت تیار کیا گیا ہے۔

گفتگو کے دوران اس پلیٹ فارم کی کئی اہم خصوصیات پر غور کیا گیا جن میں ٹکنالوجی سے تقویت یافتہ انسانی ترجمے کے ماڈل کے ذریعے معیاری ترجمہ کاری کو فروغ دینا شامل ہے۔ اسی طرح ملٹی فارمیٹ ترجمے کی سہولت کے تحت مختلف نوعیت کی دستاویزات کو اصل فارمیٹنگ کے ساتھ دوسری زبانوں میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ آواز پر مبنی ٹکنالوجی اور رسائی کے نظام کے ذریعے اردو صارفین کے لیے سہولتوں میں اضافہ بھی زیر بحث آیا۔

میٹنگ میں ادارہ جاتی ذہانت اور گورننس ٹولز کے ذریعے تعلیمی و انتظامی میدان میں اس کے استعمال پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جبکہ انووادنی جیو اے آئی کے ذریعے علاقائی و لسانی تنوع کے مطابق خدمات فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ او سی آر اور ڈیپ لرننگ پر مبنی ترجمہ نظام کے ذریعے اردو مخطوطات، کتابوں اور مطبوعات کی ڈیجیٹلائزیشن کے امکانات کو بھی اہم قرار دیا گیا۔

مزید برآں آواز پر مبنی کثیر لسانی فارم کے ذریعے سروے، فیڈ بیک اور عوامی رابطے کو آسان بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان جدید ٹکنالوجیز کے استعمال سے اردو کو دیگر زبانوں سے قریب لانے، ڈیجیٹل مواد کی تیاری، ای گورننس، تعلیمی مواد کے ترجمے اور قومی سطح پر لسانی شمولیت کو فروغ دینے کے نئے راستے ہموار ہو سکتے ہیں۔

میٹنگ میں ابھرتی ہوئی لسانی ٹکنالوجیز کے ذریعے اردو زبان و ادب کے میدان میں ڈیجیٹل پیش رفت کو مستحکم بنانے اور قومی اردو کونسل و انووادنی کے درمیان باہمی تعاون کے امکانات پر بھی تفصیل سے غور کیا گیا۔