کاسرگوڈ:کیرالا کے ضلع کاسرگوڈ میں انسانیت کی ایک منفرد مثال اس وقت سامنے آئی جب انڈین یونین مسلم لیگ کی خاتون رہنما اور ضلع پنچایت کی رکن عرفانہ اقبال نے ایک لاوارث ہندو بزرگ کی ہندو مذہبی روایات کے مطابق آخری رسومات ادا کیں۔
یہ واقعہ جمعہ کے روز چرگولی کے سرکاری شمشان گھاٹ میں پیش آیا۔ دی نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق 34 سالہ عرفانہ اقبال نے 64 سالہ نارائنن کی میت دو روز تک اہل خانہ کی جانب سے وصول نہ کیے جانے کے بعد خود ذمہ داری سنبھالی اور انہیں باعزت انداز میں آخری وداع دی۔
رپورٹ کے مطابق نارائنن ضلع کاسرگوڈ کے مینچا پنچایت کے رہائشی تھے۔ وہ کئی ماہ سے اپنے اہل خانہ کی بے توجہی کا شکار تھے اور دکانوں کے برآمدوں میں راتیں گزارنے پر مجبور تھے۔ عرفانہ اقبال کی زیر نگرانی شیخ زاید فاؤنڈیشن کی جانب سے چلائے جانے والے بزرگوں کے نگہداشت مرکز نے تقریباً ایک ماہ قبل انہیں اپنی تحویل میں لیا تھا۔ اس مرکز میں اس وقت تقریباً پچاس بے سہارا افراد کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔
🎥 | In an act drawing appreciation on the internet, a Muslim woman panchayat member in Kerala’s northern Kasaragod region performed the last rites of a Hindu man as per his customs after the deceased person’s family declined to claim the body following his death from cancer.… pic.twitter.com/KpgqtkCViD
— The Statesman (@TheStatesmanLtd) June 27, 2026
عرفانہ اقبال نے بتایا کہ نارائنن منہ کے سرطان کے آخری مرحلے میں مبتلا تھے۔ ابتدا میں انہیں کنور کے سرکاری میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کرایا گیا لیکن بعد میں بہتر علاج کے لیے کوژیکوڈ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا جہاں منگل کے روز ان کا انتقال ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ نارائنن کی دو شادیاں ہوئی تھیں اور دونوں بیویوں سے ان کی اولاد بھی تھی لیکن کئی ماہ قبل اہل خانہ نے انہیں تنہا چھوڑ دیا تھا۔ انتقال کے بعد بھی کوئی رشتہ دار میت وصول کرنے نہیں آیا۔ عرفانہ کے مطابق انہوں نے قریبی رشتہ داروں سے رابطہ کیا اور ان کی تحریری رضامندی حاصل کرنے کے بعد ہندو مذہبی روایات کے مطابق آخری رسومات ادا کیں تاکہ مرحوم کو باوقار انداز میں رخصت کیا جا سکے۔

عرفانہ اقبال نے بتایا کہ انہیں تقریباً ایک ماہ قبل ایک مقامی پنچایت رکن کے ذریعے نارائنن کی حالت کا علم ہوا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ضلع کلکٹر اور ضلع میڈیکل افسر سے اجازت حاصل کرکے انہیں اپنے نگہداشت مرکز منتقل کرانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صحت یاب ہونے کے بعد نارائنن کو دوبارہ بزرگوں کے مرکز لے جانا چاہتی تھیں لیکن بیماری شدت اختیار کر گئی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ جمعہ کے روز پورے ملک میں یوم عاشورہ عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا تھا لیکن انہوں نے خود چتا کو آگ دینے کا فیصلہ کیا کیونکہ جب وہ ایک ماہ قبل نارائنن کو سڑک سے اپنے ساتھ لائی تھیں تو مقامی لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گی۔ ان کے بقول وہ زندگی میں انہیں بے سہارا نہیں چھوڑ سکیں تو موت کے بعد بھی انہیں تنہا چھوڑنا مناسب نہیں سمجھا۔عرفانہ اقبال نے سماجی رابطے کی ویب گاہ پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے نارائنن کی آخری رسومات ایک بیٹی کی حیثیت سے ادا کیں کیونکہ انسانیت مذہب اور سیاست سے بالاتر ہے۔