ترواننت پورم: کیرالہ کے وزیرِ اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے کہا ہے کہ کیرالہ انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ فنڈ بورڈ (کے آئی آئی ایف بی) ’’شدید بدانتظامی کی علامت‘‘ بن چکا ہے اور اس کے مکمل فرانزک آڈٹ کی ضرورت ہے۔ یہ مطالبہ انہوں نے اپنی قیادت والی یو ڈی ایف حکومت کی جانب سے ریاست کی مالی حالت پر اسمبلی میں ’’وائٹ پیپر‘‘ پیش کیے جانے کے ایک روز بعد کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر جاری بیان میں ستیسن نے الزام لگایا کہ کے آئی آئی ایف بی بغیر مناسب نگرانی اور احتساب کے ایک ’’متوازی حکومت‘‘ کی طرح کام کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق ادارے نے بلند شرح سود پر قرضے حاصل کیے، جس کے نتیجے میں آئندہ نسلوں پر بھاری مالی بوجھ پڑا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبوں کے لیے فنڈز کی تقسیم اکثر ترقیاتی ترجیحات کے بجائے سیاسی بنیادوں پر کی گئی، اس لیے شفافیت، جوابدہی اور عوامی وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ادارے کا جامع فرانزک آڈٹ ہونا چاہیے۔ ایک روز قبل کیرالہ اسمبلی میں پیش کی گئی ریاستی مالیاتی صورتحال کی رپورٹ میں بھی کے آئی آئی ایف بی کے ذریعے لیے گئے ’’آف بجٹ‘‘ قرضوں پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ریاست کا قرض خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے کیونکہ کے آئی آئی ایف بی نے ریاستی ’’کنسولیڈیٹڈ فنڈ‘‘ کو نظر انداز کرتے ہوئے قرض حاصل کیے۔ وائٹ پیپر میں کہا گیا کہ بلند شرح سود پر لیے گئے قرضے، جن میں متنازع ’’مسالا بانڈز‘‘ بھی شامل ہیں، ریاست پر طویل المدتی مالی ذمہ داریاں عائد کر چکے ہیں جنہیں موجودہ آمدنی سے پورا کرنا مشکل ہے۔
رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ حکومت نے کے آئی آئی ایف بی کو ایک ’’غیر آئینی اضافی ادارے‘‘ کی شکل دے دی، جبکہ منصوبوں کے انتخاب میں ترقیاتی ضرورت کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دی گئی۔ یو ڈی ایف قیادت کا کہنا ہے کہ اگرچہ سابق حکومت انفراسٹرکچر ترقی کے دعوے کرتی رہی، لیکن کے آئی آئی ایف بی کے مالی معاملات میں شفافیت کی کمی نے ریاست کی اصل مالی صورتحال کو عوام سے پوشیدہ رکھا۔
سابق کابینہ سیکریٹری کے ایم چندرشیکھر کی سربراہی میں تیار کردہ اس رپورٹ کے مطابق کے آئی آئی ایف بی نے ریاست پر تقریباً 56 ہزار کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ ڈالا، جس میں 21 ہزار کروڑ روپے کے غیر ادا شدہ قرضے اور 35 ہزار کروڑ روپے کے زیرِ التوا منصوبے شامل ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ کیرالہ اس وقت 5.07 لاکھ کروڑ روپے کے مجموعی قرض اور تقریباً 48 ہزار 733 کروڑ روپے کے واجبات کا سامنا کر رہا ہے۔
وائٹ پیپر میں کے آئی آئی ایف بی کے فرانزک آڈٹ اور اس کے آئینی و انتظامی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ دوسری جانب سابق وزیرِ خزانہ کے این بالاگوپال نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی حقیقی مالی ذمہ داریاں پہلے لگائے گئے اندازوں سے کہیں کم ہیں اور انہیں معمول کی حکومتی انتظامیہ کے ذریعے سنبھالا جا سکتا ہے۔ ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے کیرالہ صدر راجیو چندرشیکھر نے سابق سی پی آئی (ایم) حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاستی معیشت کو ’’پونزی اسکیم‘‘ کی طرز پر چلایا گیا اور عوام سے اصل مالی صورتحال چھپائی گئی۔