نئی دہلی: کیدار ناتھ دھام میں جاری یاترا کے ابتدائی تین مہینوں میں ہی جتنا کچرا پیدا ہوا ہے، وہ 2022 میں پیدا ہونے والے کچرے کی مقدار سے تجاوز کر چکا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس کچرے کا بڑا حصہ بغیر کسی انتظام کے بغیر بیس کیمپ کے قریب پھینک دیا گیا ہے۔
ماحولیات کے ماہر امیت گپتا کی طرف سے دائر اطلاع کے حق (آر ٹی آئی) درخواست کے جواب میں نگر پنچایت کیدار ناتھ نے بتایا کہ مئی سے جولائی 2025 کے درمیان اس ہمالیائی دھام میں کل 17.6 میٹرک ٹن کچرا پیدا ہوا۔ اس میں سے صرف 7.1 میٹرک ٹن کچرے کو ری سائیکل کیا جا سکا جبکہ 10.5 میٹرک ٹن کچرا بغیر کسی پروسیسنگ کے بیس کیمپ کے قریب بنائے گئے نئے لینڈفل میں پھینک دیا گیا جس کی گنجائش 1,500 فٹ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مئی میں 8.4 میٹرک ٹن، جون میں 5.6 میٹرک ٹن اور جولائی میں 3.6 میٹرک ٹن کچرا پیدا ہوا۔ ان میں سے صرف محدود مقدار کا ہی انتظام کیا جا سکا، باقی سارا کچرا براہِ راست لینڈفل میں جمع کر دیا گیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ 2022 میں کیدار ناتھ میں مجموعی طور پر 13.85 میٹرک ٹن کچرا پیدا ہوا تھا، جب کہ موجودہ سال کے ابتدائی تین مہینوں میں ہی یہ تعداد اس سے بڑھ چکی ہے۔
گپتا کو ملے پچھلے آر ٹی آئی جوابات سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ 2022 سے 2024 کے درمیان دھام میں کل 72.53 میٹرک ٹن کچرا پیدا ہوا، جس میں سے صرف 32 فیصد کا ہی انتظام ہو سکا جبکہ باقی 68 فیصد بغیر کسی پروسیسنگ کے پھینک دیا گیا۔ ان برسوں میں 49.18 میٹرک ٹن نامیاتی اور 23.35 میٹرک ٹن غیر نامیاتی کچرا جمع ہوا، مگر اس کے باوجود نہ کوئی باضابطہ شکایت درج ہوئی اور نہ ہی کسی پر جرمانہ عائد کیا گیا۔
امیت گپتا نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کیدار ناتھ میں مناسب کچرا انتظام کی سہولت موجود نہیں ہے، اسی وجہ سے بھاری مقدار میں کچرا براہِ راست لینڈفل میں ڈالا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک پر پابندی کو سختی سے نافذ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ کیدار ناتھ مندر، جو سمندر کی سطح سے 3,584 میٹر کی بلندی پر واقع ہے، چار دھام یاترا کے سب سے اہم مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
یہ مندر ہر سال اپریل یا مئی میں کھلتا ہے اور برفباری کے باعث اکتوبر یا نومبر میں بند کر دیا جاتا ہے۔ اس برس جولائی کے اختتام تک یہاں 14 لاکھ سے زائد عقیدت مند پہنچ چکے ہیں، جو چاروں دھام مقامات میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ یاترا نہ صرف مذہبی عقیدت کا مرکز ہے بلکہ مقامی معیشت کا بھی بڑا سہارا ہے۔ رواں سال کے صرف ابتدائی 48 دنوں میں ٹرانسپورٹ، مہمان نوازی، گھوڑے-خچر اور ہیلی کاپٹر خدمات کے ذریعے تقریباً 300 کروڑ روپے کا کاروبار ہوا۔