سری نگر: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ کشمیر صدیوں سے مختلف مذاہب، ثقافتوں اور روایات کے باہمی احترام، رواداری اور مشترکہ تہذیب کا گہوارہ رہا ہے۔ اس خطے کی مذہبی تکثیریت، انسان دوستی اور روحانی اقدار پر مبنی روایت کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
وہ سری نگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (SKICC) میں "بین المذاہب مکالمہ، اردو، کشمیریت اور مشترکہ ثقافتی روایات" کے موضوع پر منعقدہ قومی سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔
منوج سنہا نے کہا کہ کشمیر کی صدیوں پر محیط مشترکہ تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھنے اور فروغ دینے کے لیے ماہرین تعلیم، جامعات اور سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ بین المذاہب ہم آہنگی کی مضبوط بنیادیں قائم رہیں۔
یہ سیمینار انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا (IFHFI) اور قومی اردو کونسل (NCPUL) نے مشترکہ طور پر ٹیمپل آف انڈرسٹینڈنگ-انڈیا، دارا شکوہ سینٹر سری نگر اور کشمیر رائٹرز ایسوسی ایشن کے تعاون سے منعقد کیا۔
Addressed the Interfaith Dialogue organized by @CouncilUrdu & Inter-Faith Harmony Foundation of India.
— Office of LG J&K (@OfficeOfLGJandK) June 27, 2026
Sharing my speechhttps://t.co/haOarOLiCv pic.twitter.com/NdKf4FnWJt
اردو تہذیبوں کو جوڑنے والی زبان ہے
قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان ایک مضبوط پل ہے۔ ان کے مطابق اردو نے ہمیشہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کے بہترین عناصر کو اپنے اندر سمویا ہے۔
کشمیر بین المذاہب ہم آہنگی کی بہترین مثال
انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد نے کہا کہ ان کی تنظیم برسوں سے مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیر جیسے خطے پر خصوصی توجہ دی جائے، جو صدیوں سے مذہبی رواداری، روحانی یکجہتی اور ثقافتی تنوع کی بہترین مثال رہا ہے۔انہوں نے اظہارِ امید کیا کہ کشمیر کی مشترکہ تہذیبی روایت کی بحالی قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرے گی۔
ثقافتی ورثے کے تحفظ میں جامعات کا کردار
دارا شکوہ سینٹر کی بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر جیوتسنا سنگھ نے کہا کہ ان کا ادارہ کشمیر کے روایتی فنون، دستکاری اور مقامی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مکالمے، باہمی احترام اور تہذیبی تبادلے کی فکری روایت کو بھی زندہ رکھنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔اسی موقع پر کشمیر یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر نیلوفر خان نے کہا کہ موجودہ دور میں جامعات کو ایسے علمی مراکز بننا چاہیے جہاں مختلف خیالات کھلے ماحول، احترام اور علمی آزادی کے ساتھ زیر بحث آ سکیں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ کشمیر یونیورسٹی ہمیشہ ایسے پروگراموں کی حمایت کرتی رہے گی جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی، کشمیر کی مشترکہ ثقافت کے تحفظ اور قومی اہمیت کے حامل موضوعات پر علمی تحقیق کو فروغ دیں۔
Addressed the Interfaith Dialogue organized by @CouncilUrdu & Inter-Faith Harmony Foundation of India. Highlighted India’s legacy as an ancient civilization rooted in mutual respect, where diverse faiths coexist, flourish, and teach the world the wisdom of peace. pic.twitter.com/xjBnjedyTG
— Office of LG J&K (@OfficeOfLGJandK) June 27, 2026
تمام مذاہب کی بنیاد مشترکہ انسانی اقدار ہیں
سیمینار کے صدارتی خطاب میں معروف سیاست دان اور ٹیمپل آف انڈرسٹینڈنگ-انڈیا کے صدر ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ دنیا کی تمام روحانی روایات بالآخر رحم، سچائی، خدمت اور انسان دوستی جیسی مشترکہ اقدار پر متفق ہیں۔
انہوں نے معروف شاعر فیض احمد فیض کے اشعار بھی سنائے اور کہا کہ شاعری میں یہ قوت موجود ہے کہ وہ مذہب، ذات اور سماجی تقسیم سے بلند ہو کر انسانوں کے درمیان مشترکہ شعور اور احساس پیدا کرے۔