کرناٹک اردو اکاڈمی کرے گی شا ئع کنڑ زبان میں سرسید احمد خاں کی سوانح حیات

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 15-02-2026
 کرناٹک  اردو اکاڈمی کرے گی شا ئع کنڑ زبان میں سرسید احمد خاں کی سوانح حیات
کرناٹک اردو اکاڈمی کرے گی شا ئع کنڑ زبان میں سرسید احمد خاں کی سوانح حیات

 



علی گڑھ،: کرناٹک اردو اکیڈمی کی رکن، معروف شاعرہ، مترجم اور فکشن نگار ڈاکٹر شائستہ یوسف کی قیادت میں کرناٹک سے آئے ایک علمی وفد نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شائستہ یوسف نے اعلان کیا کہ کرناٹک اردو اکیڈمی سرسید احمد خاں کی سوانح حیات کو کنڑ زبان میں شائع کرے گی تاکہ جنوبی ہند میں نئی نسل کو سرسید کی حیات، خدمات اور علی گڑھ تحریک سے بہتر طور پر روشناس کرایا جا سکے۔

اس دورے کے دوران سرسید اکیڈمی، اے ایم یو میں ڈاکٹر شائستہ یوسف کے ناول ”صدیوں کا رقص“ پر ایک باوقار مذاکرہ بھی منعقد ہوا جس میں ناقدین اور فکشن کے ماہرین نے ناول کو موضوع، اسلوب اور تکنیک کے اعتبار سے جدت اور انفرادیت کا حامل قرار دیا۔

اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر آذرمی دخت صفوی، اعزازی مشیر، پرشین انسٹی ٹیوٹ، اے ایم یو نے کہا کہ اس ناول میں ثقافت، اقدار، طرز زندگی، ٹکنالوجی اور انسانی زندگی سے جڑے اہم سوالات کا گہرا احاطہ کیا گیا ہے جن سے آج کا معاشرہ براہ راست دوچار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک تخلیق کار جب نئی فکر اور اسلوب پیش کرتا ہے تو وہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، اور اس ناول میں ماضی اور حال کے تناظر میں استعارہ کے ذریعے مستقبل کی ایک معنی خیز تصویر پیش کی گئی ہے۔

ڈاکٹر شائستہ یوسف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرسید احمد خاں ہمارے لیے ایک فکری ورثہ چھوڑ گئے ہیں جو آج بھی ہمارے اذہان میں زندہ ہے۔ انہوں نے اپنے تخلیقی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تحریر ان کی زندگی کا لازمی حصہ ہے اور لکھنے کے بغیر ان کا دن ادھورا محسوس ہوتا ہے۔

سرسید اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر شافع قدوائی نے ڈاکٹر شائستہ یوسف کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالی اور ان کے شعری مجموعوں ”گل خود رو“ اور ”سونی پرچھائیاں“ کے ساتھ ساتھ دیگر اہم تصانیف کا ذکر کیا۔ ناول ”صدیوں کا رقص“ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زندگی کے پیچیدہ مسائل کو تخلیقی تجربے کے طور پر پیش کرنا ایک بڑے ادیب کی شناخت ہوتی ہے، اور اس ناول میں عہد جدید، سائنس و ٹکنالوجی اور انسانی وجودی مسائل کو علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

پروفیسر صغیر افراہیم نے ڈاکٹر شائستہ یوسف کے تخلیقی سفر اور ان کی شعری و نثری خدمات پر جامع گفتگو کی، جبکہ پروفیسر طارق چھتاری نے ناول کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانوں کی جھلک نمایاں ہے اور تاریخی، تہذیبی اور لسانی جہات کو فنی مہارت سے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ناول کا مرکزی کردار انسانی رویوں، ماحولیات اور حیاتیاتی دنیا کے ساتھ انسان کے غیر انسانی سلوک کو گہرے احساس کے ساتھ سامنے لاتا ہے اور یہی اس کی فکری انفرادیت ہے۔

ڈاکٹر عذرا نقوی نے ناول کی تخلیقی ندرت کو سراہتے ہوئے مصنفہ کو مبارکباد پیش کی، جبکہ ڈاکٹر شہناز رحمٰن نے اپنے مقالے میں کہا کہ معاصر اردو ناول میں ”صدیوں کا رقص“ ایک منفرد اضافہ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ناول کا راوی احمد ایک تعلیم یافتہ فوٹوگرافر ہے جس کی ذہنی اور روحانی مسافت دراصل ناول کی بنیادی اساس ہے اور اس کے نفسیاتی و سماجی تجربات عہد حاضر کے تضادات کی عکاسی کرتے ہیں۔

تقریب کے دوران ناول کی باقاعدہ رونمائی بھی عمل میں آئی۔ آخر میں ڈپٹی ڈائریکٹر سرسید اکیڈمی ڈاکٹر محمد شاہد نے شکریہ ادا کیا جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر احسن ایوبی نے انجام دیے۔