بنگلورو: کرناٹک کے وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے جمعرات کو اعلیٰ سرکاری افسران کے ساتھ جائزہ اجلاس میں انتظامی امور کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل پیش کرتے ہوئے ہدایت دی کہ تمام محکمے ’’مثبت طرزِ عمل‘‘ اپنائیں اور حکومتی ترجیحات پر مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ اجلاس کے دوران وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت مذہب، ذات پات یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر کسی قسم کی جانبداری پر یقین نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شفافیت کو یقینی بنائے گی اور عوامی مسائل حل کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے تمام افسران کو مثبت رویہ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ڈی کے شیوکمار نے تمام محکموں کو 15 دن کے اندر تفصیلی عملی منصوبہ تیار کرنے اور اس پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا۔
انہوں نے سیکریٹریوں کو ہدایت دی کہ وہ باقاعدگی سے اضلاع اور تعلقہ سطح کے علاقوں کا دورہ کریں، مقامی اجلاس منعقد کریں اور سرکاری منصوبوں اور عوامی مسائل کی خود نگرانی کریں۔ وزیرِ اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی اہل شہری اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔ انہوں نے ووٹر اندراج کے عمل میں ممکنہ بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو عوامی آگاہی، ضروری دستاویزات اور ضابطوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ عوامی شکایات کے ازالے کے حوالے سے انہوں نے اعلان کیا کہ انتظامیہ کے اندر ایک علیحدہ نظام قائم کیا جائے گا جو احتجاجی مظاہروں اور عوامی شکایات کا جائزہ لے گا اور ان کی قانونی حیثیت کو منظم انداز میں پرکھے گا۔
مالیاتی نظم و نسق کے حوالے سے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) فنڈز کی مد میں تقریباً 8 ہزار سے 8 ہزار 500 کروڑ روپے کی رقم کے استعمال اور نگرانی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے، خصوصاً نئے اسکولوں کی تعمیر، کو ترجیح دی جائے تاکہ طلبہ کو تعلیم کے لیے بنگلورو ہجرت نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے بتایا کہ سی ایس آر پالیسی کے رہنما اصول جلد جاری کیے جائیں گے اور متعلقہ اداروں کو حکومت کے ساتھ تمام تفصیلات شیئر کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق حکومت کی اولین ترجیح ابتدائی تعلیم اور تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی بہتری ہے۔ ڈی کے شیوکمار نے وزراء، اراکینِ اسمبلی اور سرکاری افسران کو ہدایت دی کہ وہ فیصلوں اور منظوریوں کے معاملے میں کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کو قبول نہ کریں اور شفاف طرزِ حکمرانی کو برقرار رکھیں۔
امن و امان کے حوالے سے انہوں نے ہر تعلقہ میں خصوصی پولیس دستے قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ جرائم پیشہ عناصر اور شرپسند افراد کی سرگرمیوں پر مؤثر نظر رکھی جا سکے۔ وزیرِ اعلیٰ نے دہلی میں واقع کرناٹک بھون کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ جلد دہلی جا کر اس کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت میں خدمات انجام دینے والے کرناٹک سے تعلق رکھنے والے افسران اور ریٹائرڈ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کی جائیں گی تاکہ ریاست کی ترقی میں ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔