کلیم الدین احمد کی نگارشات ہمارے ذہنوں کو روشن کرتی ہیں : پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-04-2026
کلیم الدین احمد کی نگارشات ہمارے ذہنوں کو روشن کرتی ہیں : پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی
کلیم الدین احمد کی نگارشات ہمارے ذہنوں کو روشن کرتی ہیں : پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی

 



نئی دہلی: “کلیم الدین احمد کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو تنقید کو ایک نئی فکری سمت عطا کی اور ہمارے ادبی شعور کو تازگی بخشی”۔ ان خیالات کا اظہار بزرگ ناقد پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اس موقع پر کیا جب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے “کلیم الدین احمد کی نگارشات: ایک بازدید” کے عنوان سے سی آئی ٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کانفرنس ہال میں ایک روزہ سمینار منعقد ہوا۔ اس سمینار میں کلیم الدین احمد کی شخصیت، افکار اور ادبی خدمات پر سنجیدہ اور فکر انگیز مقالات و خطبات پیش کیے گئے۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا کہ کلیم الدین احمد نے اپنے دور کی یک رخی اردو تنقید کو نئے زاویوں سے روشناس کرایا اور ادب میں تجزیہ و تفکر کی روایت کو مستحکم کیا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعد کے ادوار میں ان کے نظریات پر جس گہرائی سے غور ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہو سکا، تاہم موجودہ سمینار اس کمی کو پورا کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔

قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ کلیم الدین احمد ایک ہمہ جہت علمی شخصیت تھے جنہیں مختلف علوم و فنون اور زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ انہوں نے روایت پسند تنقیدی نظریات کو مدلل انداز میں چیلنج کیا اور اپنی جرأت مندانہ آرا سے ادبی حلقوں میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کو کلیم الدین احمد جیسے عظیم ناقد سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر پروفیسر کوثر مظہری نے اپنے تعارفی کلمات میں کہا کہ یہ سمینار دہلی میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد علمی اجتماع ہے جس میں کلیم الدین احمد کی شخصیت اور ان کی نگارشات کا ہمہ گیر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے افکار پر مسلسل علمی مکالمہ جاری رہنا چاہیے تاکہ ان کی خدمات کا صحیح ادراک ہو سکے۔

کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے معروف ناقد پروفیسر شافع قدوائی نے کلیم الدین احمد کی مختلف تصانیف کے حوالے سے ان کے تنقیدی نظریات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے خاص طور پر نفسیاتی تنقید کے حوالے سے ان کی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اردو کے پہلے ناقد تھے جنہوں نے تحلیل نفسی اور ادب کے تعلق کو اپنے مطالعے کا مرکز بنایا۔

مہمان خصوصی پروفیسر ابوبکر رضوی نے کہا کہ کلیم الدین احمد کی غیر معمولی علمی حیثیت کے باوجود انہیں وہ اعتراف نہیں مل سکا جس کے وہ مستحق تھے۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ ان کی علمی دیانت اور تحقیقی سنجیدگی کو اپنا شعار بنائیں۔

افتتاحی اجلاس کی نظامت پروفیسر سرور الہدیٰ نے کی جبکہ ڈاکٹر شاداب شمیم کے اظہار تشکر پر اجلاس کا اختتام ہوا۔

اس کے بعد سمینار کے تین تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے جن میں مختلف ماہرین نے کلیم الدین احمد کی تنقید، شاعری، داستان، غزل، مغربی تناظر اور ترقی پسند نظریات سے متعلق ان کے افکار پر تفصیلی مقالات پیش کیے۔ ان سیشنز کی صدارت بالترتیب پروفیسر انور پاشا، پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی اور پروفیسر شہپر رسول نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مختلف اسکالرز نے انجام دیے۔

سمینار میں بڑی تعداد میں طلبہ، اساتذہ اور دانشوروں نے شرکت کی اور آخر تک علمی مباحث میں بھرپور دلچسپی لی، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کلیم الدین احمد کی فکری وراثت آج بھی علمی حلقوں میں زندہ اور متحرک ہے۔