صحافت چمک دمک نہیں بلکہ قومی شعور کی ترجمان ہے: لئیق رضوی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 10-02-2026
صحافت چمک دمک نہیں بلکہ قومی شعور کی ترجمان ہے: لئیق رضوی
صحافت چمک دمک نہیں بلکہ قومی شعور کی ترجمان ہے: لئیق رضوی

 



نئی دہلی: اردو صحافت محض خبروں کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ یہ قومی شعور کو بیدار کرنے اور سماج کی فکری رہنمائی کا ایک مؤثر ذریعہ رہی ہے۔ اس کی تاریخ مولوی محمد باقر کی قربانی کے لہو سے منور ہے۔ اگرچہ اردو چینلوں کی اسکرین پر مصنوعی چکاچوند کم دکھائی دیتی ہے مگر اپنے مواد اور ادارتی فکر کے اعتبار سے وہ کسی سے کم نہیں۔ اردو بلیٹن تیار کرتے وقت بنیادی طور پر اردو بولنے اور سمجھنے والے قارئین اور ناظرین کی ضرورت اور پسند کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ جلد بازی میں غیر ضروری مواد نشر کرنے کی جو روایت مین اسٹریم میڈیا میں عام ہے وہ اردو صحافت میں بہت کم دکھائی دیتی ہے۔ خبروں کے ساتھ ساتھ اردو چینلوں پر ہونے والے مذاکرے بھی صحافتی اصولوں اور اخلاقی دائرے میں رہتے ہیں جہاں شور شرابے اور سنسنی کے بجائے سنجیدہ گفتگو کو اہمیت دی جاتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار معروف صحافی لئیق رضوی نے شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے زیر اہتمام شمیم حنفی سیمینار ہال میں اردو صحافت چیلنجز اور امکانات کے عنوان سے منعقدہ توسیعی خطبے میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اردو صحافت آج کئی علمی اور عملی مسائل سے دوچار ہے۔ بڑے پیمانے پر شائع ہونے والے اخبارات محدود ہوتے جا رہے ہیں اور سرکولیشن کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ وسائل کی کمی تربیت اور تکنیکی مہارت کا فقدان بھی اردو صحافت کے لیے چیلنج ہے۔ معاشی دباؤ قارئین کے بدلتے رجحانات تکنیکی پسماندگی تعلیمی و لسانی مسائل اور سماجی تاثر ایسے اسباب ہیں جو اردو صحافت کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

لئیق رضوی نے مستقبل کے امکانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا اردو صحافت کے لیے سب سے بڑا میدان بن چکا ہے۔ یوٹیوب پوڈکاسٹ اور ای میگزین کے ذریعے نئی نسل تک رسائی ممکن ہے۔ اسی طرح ڈیٹا جرنلزم میں بھی اردو صحافت کے وسیع امکانات موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

صدر شعبہ اردو پروفیسر کوثر مظہری نے صدارتی خطاب میں مہمان مقرر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطبہ صرف معلوماتی نہیں بلکہ درد مندی اور اخلاص سے بھرپور تھا۔ انہوں نے کہا کہ اخبار محض خبر پہنچانے کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیبی سیاسی سماجی اور ادبی شعور کا سرچشمہ بھی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اردو صحافت کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اردو داں طبقہ اردو اخبارات کی خریداری کو اپنا فریضہ سمجھے۔ راشٹریہ سہارا کا بند ہونا اردو صحافت کے ایک روشن باب کے خاتمے کے مترادف ہے۔

کنوینر پروفیسر سرورالہدیٰ نے تعارفی کلمات میں کہا کہ اردو کا صحافتی نظام ایک ہمہ گیر تاریخی قومی تہذیبی اور تخلیقی ورثہ رکھتا ہے اور ادبی روایت کو صحافتی تاریخ سے الگ کرنا مناسب نہیں۔ اظہار تشکر کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ لئیق رضوی کے لیے صحافت محض پیشہ نہیں بلکہ زندگی ہے کیونکہ علم سوز دماغ چاہتا ہے اور زندگی سوز جگر۔

تقریب کا آغاز ریسرچ اسکالر عبدالرحمن عابد کی تلاوت سے ہوا۔ اس موقع پر اساتذہ کرام ریسرچ اسکالرز اور بڑی تعداد میں طلبا و طالبات موجود تھے جنہوں نے اس توسیعی خطبے سے فکری رہنمائی حاصل کی۔