جموں و کشمیر : ممتاز عالم دین مفتی فیض الوحید کا انتقال

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | Date 02-06-2021
مفتی فیض الوحید
مفتی فیض الوحید

 

 

سری نگر :! مفسرقرآن ، اسلامی سکالر، جموں و کشمیر کے ممتاز عالم دین اور اسلامی دانشگاہ مرکز المعارف بٹھنڈی جموں کے صدر مفتی، مفتی فیض الوحید قاسمی منگل کی صبح 7بجکر45منٹ پر جموں کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔

ہسپتال کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر راجندر رتن پال نے بتایا کہ موصوف کے متعدد اعضا ء نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور وہ لائف سپورٹ نظام پر تھے۔اس پورے وقت کے دوران اور انتقال کرنے کے بعد بھی ان کا کووڈ 19ٹیسٹ منفی آیا۔موصوف 12مئی سے اچاریہ شری چندر کالج میڈیکل سائنس جموںمیں زیر علاج تھے جبکہ وہ 9مئی کو ہی بیمار ہوگئے تھے۔

 موصوف حافظ قرآن ،عالم ،مفتی اورمفسر قرآن بھی تھے۔انہوں نے قرآن پاک کا گوجری میںترجمہ اورتفسیربھی عمل می لایاتھا جس کا گذشتہ سال سے اردو میں ترجمہ ہورہا تھا۔معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے پہاڑی زبان میںبھی کئی پاروں کا ترجمہ بھی کیا تھا۔وہ فی الوقت مرکزالمعارف (دارالعلوم )کے صدر مفتی ہونے کے علاوہ مدینہ مسجد بٹھنڈی میںنماز جمعہ کے فرائض انجام دیتے تھے۔

موصوف المعارف پبلک ہائی سکول کے سربراہ بھی تھے جہاں 1000بچے زیر تعلیم ہیںجبکہ مرکز المعارف میں600بچے لاک ڈائون سے قبل تعلیم حاصل کررہے تھے۔مفتی فیض الوحید صوبہ جموں کے تھنہ منڈی (دوداسن ) راجوری میں 1966 میں پیدا ہوئے۔انہوں نے دارالعلوم دیوبند سے افتاء کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد خود کو دینی خدمات کیلئے وقف کر دیا تھااوروہ فقہ کے استاد مانے جاتے تھے۔مفتی فیض الوحید گوجری زبان میں قرآن پاک کا ترجمہ کرنے والے پہلے اسکالر ہیں۔انہوںنے سیرت نبویؐ پر ’سراجاً منیرا‘(گوجری اور اردو)نامی ایک ضخیم کتاب کے علاوہ دیگر کئی کتابوں کے مصنف تھے ۔انہیں عوامی حلقوں میں ایک بے باک مقرر اور داعی کی حیثیت سے بھی پہچانا جاتا تھا۔