نئی دہلی، 16 جون: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے مرکزی حکومت اور ریاستی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دہرادون ضلع کے وکاس نگر علاقے کے بیرگی والا گاؤں میں ونود کشیپ کے قتل اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کی منصفانہ تحقیقات کرائی جائیں، نیز تشدد سے متاثر ہونے والے بے گناہ شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ارسال کردہ ایک خط میں مولانا محمود مدنی نے ونود کشیپ کے قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس جرم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مقتول کے اہل خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا بھی اظہار کیا۔
خط میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ قتل کے بعد وکاس نگر کے بیرگی والا گاؤں میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگئی۔ جمعیۃ علماء ہند کی مقامی یونٹ کے مطابق، واقعے کے بعد اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے گھروں، دکانوں، گاڑیوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث کئی خاندانوں کو اپنی جان و مال کے تحفظ کے پیش نظر علاقے سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔
مولانا مدنی نے قتل اور اس کے بعد پیش آنے والے تشدد، آتش زنی، توڑ پھوڑ اور مذہبی مقامات پر حملوں کے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے والی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
جمعیۃ علماء ہند نے متاثرہ خاندانوں کی محفوظ واپسی، علاقے میں معمولات زندگی کی بحالی اور نقصان اٹھانے والے افراد کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے مقتول ونود کشیپ کے اہل خانہ کے لیے بھی مالی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔
ملزم کے مکان کو منہدم کیے جانے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ کسی بھی تعزیری کارروائی کو قانونی اور انتظامی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ہی انجام دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئینی جمہوریت میں قانون کی حکمرانی اور ضابطۂ کار کی پابندی انتہائی ضروری ہے۔
اس خط کی نقول اترا کھنڈ کے گورنر اور وزیر اعلی ، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دہرادون کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔
اس سے قبل آج دہرادون میں جمعیۃ علماء ہند کی مقامی یونٹ کے ایک وفد نے نئی دہلی میں مولانا محمود مدنی سے ملاقات کرکے علاقے کی صورت حال پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ مولانا مدنی نے مقامی ذمہ داران کو ہدایت دی کہ وہ امن و امان کے قیام میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کریں۔