بالائی آسام کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے جمعیۃ علماء ہند کی 2.25 کروڑ کی امدادی مہم

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 19-08-2026
بالائی آسام کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے جمعیۃ علماء ہند کی 2.25 کروڑ کی امدادی مہم
بالائی آسام کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے جمعیۃ علماء ہند کی 2.25 کروڑ کی امدادی مہم

 



 نئی دہلی/آسام :  بالائی آسام میں تباہ کن سیلاب سے متاثرہ ہزاروں خاندانوں کی فوری امداد کے ساتھ ان کی مستقل بازآبادکاری کے لیے جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء آسام نے 2 کروڑ 25 لاکھ روپے کی مجموعی امدادی مہم شروع کی ہے۔

مولانا سید ارشد مدنی کی خصوصی ہدایت و سرپرستی اور جمعیۃ علماء آسام کے صدر مولانا مشتاق عنفر کی نگرانی میں جاری اس مہم کو صرف راشن اور ضروری سامان کی تقسیم تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ متاثرہ علاقوں میں گھر گھر سروے، نقصانات کی درجہ بندی، مستحق خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد، حادثات میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کی مدد، یتیم بچوں کی تعلیمی کفالت اور تباہ شدہ خاندانوں کی مستقل بازآبادکاری کو اس کا بنیادی حصہ بنایا گیا ہے۔جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایک کروڑ روپے، جبکہ عنفر فاؤنڈیشن کی طرف سے ایک کروڑ 25 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ یہ رقم جمعیۃ علماء آسام کے ذریعے متاثرین کی فوری ضروریات پوری کرنے اور مرحلہ وار انہیں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ تنظیم کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تقریباً 30 لاکھ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں، جبکہ چار لاکھ روپے مالیت کی ٹین کی چادریں، ایک لاکھ روپے کا فینائل اور تقریباً ڈھائی لاکھ روپے کی ادویات بھی متاثرہ علاقوں میں تقسیم کی گئی ہیں۔

بالائی آسام کے سیلاب نے بڑی تعداد میں خاندانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ متعدد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوگئے، گھریلو سامان اور زندگی بھر کی جمع پونجی ضائع ہوگئی اور بہت سے لوگوں کے ذرائع معاش بھی ختم ہوگئے۔ اس صورت حال کے پیش نظر جمعیۃ علماء آسام نے ابتدائی امدادی کارروائیوں کے ساتھ ہی یہ فیصلہ کیا کہ متاثرین کے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لے کر انہیں ضرورت اور نقصان کی شدت کے مطابق براہِ راست مالی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے بالائی آسام میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسان مالکِ کائنات کے بندے ہیں اور اس کے ہر فیصلے پر سرِ تسلیم خم کرنا بندگی کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ ہی ہر پریشانی کا حقیقی مداوا کرنے والا ہے، تاہم اسباب کے درجے میں جمعیۃ علماء ہند، اس کے خدام اور اس کی شاخیں اپنی استطاعت بھر مولانا مشتاق عنفر کی نگرانی میں متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔

مولانا مدنی نے کہا کہ کوئی مصیبت یہ پوچھ کر نہیں آتی کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان۔ قدرتی آفت جب آتی ہے تو وہ سب کو اپنی زد میں لیتی ہے۔ بالائی آسام کے متاثرین میں بھی مختلف مذاہب، ذاتوں اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں اور جمعیۃ علماء ہند بلا تفریق مذہب و ملت سب کی مدد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی انسانیت کا تقاضا ہے اور اسلام بھی انسانوں کی بلاامتیاز مدد کا درس دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی ایک طویل تاریخ ہے اور اس نے قدرتی آفات، فسادات اور مختلف انسانی بحرانوں کے دوران بلا تفریق مذہب و ملت متاثرین کی مدد کی ہے۔ بالائی آسام میں بھی مقصد صرف چند دن کا راشن تقسیم کرنا نہیں بلکہ ان خاندانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے جن کے گھر، گھریلو سامان اور روزگار کے ذرائع سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں۔

صدر جمعیۃ علماء آسام مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ امدادی مہم کو ابتدا ہی سے اس انداز میں منظم کیا گیا ہے کہ فوری ریلیف کے ساتھ مستقل بازآبادکاری بھی یقینی بنائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے بعد متاثرین کو صرف راشن اور ضروری سامان دے کر چھوڑ دینا کافی نہیں، کیونکہ بہت سے خاندانوں سے ان کے مکانات، گھریلو سامان، ذرائع معاش اور زندگی بھر کی جمع پونجی چھن گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جمعیۃ علماء آسام کی ٹیمیں مسلسل متاثرہ علاقوں میں گھر گھر پہنچ رہی ہیں۔ سروے کے ذریعے حقیقی مستحقین کی نشاندہی، نقصانات کا درست تخمینہ اور ضرورت کے مطابق امداد کی شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ اب تک شیوساگر، جورہاٹ، گولاگھاٹ اور چرائی دیو اضلاع کے متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل کیا جاچکا ہے۔

اس مقصد کے لیے تقریباً 30 سے 35 افراد پر مشتمل خصوصی سروے ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ ٹیمیں متاثرہ خاندانوں کے مکانات، گھریلو سامان اور ذرائع معاش کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت اور شدت کا جائزہ لے کر خاندانوں کی درجہ بندی کررہی ہیں۔ متاثرین کے آدھار کارڈ، بینک اکاؤنٹ اور دیگر ضروری دستاویزات کی بھی تصدیق کی جارہی ہے، تاکہ مالی امداد حتی الامکان براہِ راست حقیقی مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاسکے۔

مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ امدادی کارروائی میں مکمل شفافیت اور مستحق تک براہِ راست تعاون پہنچانا جمعیۃ علماء آسام کی اولین ترجیح ہے۔ گھر گھر سروے اور نقصانات کی درجہ بندی کی بنیاد پر تقریباً 2,400 سے 2,500 متاثرہ خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

منصوبے کے مطابق شدید نقصان اٹھانے والے مستحق خاندانوں کو 10 ہزار روپے، درمیانی درجے کے نقصان والے خاندانوں کو 7 ہزار روپے جبکہ نسبتاً کم نقصان والے مستحق خاندانوں کو 5 ہزار روپے تک مالی امداد دی جائے گی۔ کوشش کی جائے گی کہ یہ رقم براہِ راست مستحق خاندانوں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے، تاکہ امداد میں شفافیت برقرار رہے اور حقیقی ضرورت مند تک رقم پہنچ سکے۔

سیلاب اور اس سے متعلق حادثات میں اپنے عزیزوں کو کھونے والے خاندانوں کے لیے بھی خصوصی مالی تعاون کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایسے بعض خاندانوں کو 50 ہزار روپے فی خاندان جبکہ انتہائی ضرورت مند خاندانوں کو ایک لاکھ روپے تک خصوصی امداد فراہم کی گئی ہے۔

مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ کسی انسانی جان کا کوئی مالی نعم البدل نہیں ہوسکتا، تاہم مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندان کے غم میں شریک ہونا اور اسے فوری مالی سہارا فراہم کرنا انسانی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو یہ احساس دلانا بھی ضروری ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں تنہا نہیں ہیں۔

امدادی مہم کے دوران ایسے یتیم اور بے سہارا بچے بھی سامنے آئے ہیں جن کی تعلیم سیلاب اور گھریلو حالات کے باعث متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ابتدائی طور پر دو بچوں کی دو سالہ تعلیمی کفالت کی ذمہ داری لی گئی ہے۔ انہیں فی بچہ دو ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے تاکہ مالی مشکلات کے باعث ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔

اس کے علاوہ تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کی کتابیں ایک ہزار بچوں میں تقسیم کی گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سیلاب سے متاثر ہونے والے طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں کی طرف دوبارہ لانا اور ان کے تعلیمی نقصان کو کم کرنا ہے۔

سیلاب کے ابتدائی دنوں میں جمعیۃ علماء آسام کی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر بڑی مقدار میں چاول، دال، پیاز، آلو، سرسوں کا تیل، نمک اور دیگر اشیائے خوردونوش تقسیم کیں۔ خواتین کے لیے مختلف ملبوسات، فینائل اور روزمرہ استعمال کا ضروری گھریلو سامان بھی فراہم کیا گیا، تاکہ متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات پوری ہوسکیں۔

جمعیۃ علماء آسام نے امدادی سرگرمیوں میں مقامی سماجی تنظیموں کو بھی شریک کیا ہے۔ بیر لاچت سینا کے سربراہ شرتکھر چالیہا، آسام جاتیہ سنگرامی سینا کے صدر چنتو بروا، آسامی یوا منچ کے جنرل سیکریٹری آکاش شیکیا اور پولاس دتو کے توسط سے بھی تقریباً 400 سیلاب متاثرہ خاندانوں کو اشیائے خوردونوش اور ضروری رہائشی و گھریلو سامان فراہم کیا گیا ہے۔

جمعیۃ علماء آسام کے مطابق پوری امدادی مہم کو تین بنیادی مراحل میں منظم کیا گیا ہے: فوری ریلیف، گھر گھر جامع سروے، اور براہِ راست مالی امداد کے ساتھ مستقل بازآبادکاری۔ اس ترتیب کا مقصد یہ ہے کہ متاثرین کی فوری ضروریات بھی پوری ہوں اور طویل مدت میں انہیں دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لانے کے لیے عملی مدد بھی فراہم کی جاسکے۔

مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ یہ مہم محض چند دن راشن یا امدادی سامان تقسیم کرکے ختم نہیں ہوگی۔ حقیقی مستحقین کی مکمل بازآبادکاری تک کام جاری رکھنے کا عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مرحلے میں شفافیت، بلاامتیاز خدمت اور ضرورت مند تک براہِ راست امداد پہنچانے کے اصول کو مقدم رکھا جائے گا، تاکہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو نہ صرف فوری سہارا ملے بلکہ وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔