جمعیۃ علماء ہند: آسام کے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی مہم عوام سے دل کھول کر تعاون کی اپیل

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 02-08-2026
جمعیۃ علماء ہند: آسام کے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی مہم  عوام سے دل کھول کر تعاون کی اپیل
جمعیۃ علماء ہند: آسام کے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی مہم عوام سے دل کھول کر تعاون کی اپیل

 



نئی دہلی/گوہاٹی: ملک کی ممتاز ملی و سماجی تنظیم جمعیۃ علماء ہند نے آسام میں حالیہ تباہ کن سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے اپنی امدادی سرگرمیوں میں مزید تیزی لاتے ہوئے اہل خیر سے دل کھول کر تعاون کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ آسام اس وقت شدید قدرتی آفت سے دوچار ہے، ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں، سینکڑوں بستیاں زیر آب ہیں اور متاثرین بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں۔ ایسے میں ہر صاحبِ استطاعت فرد کی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے کہ وہ مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کے لیے آگے آئے۔

جمعیۃ علماء ہند نے اپنے عوامی پیغام میں کہا ہے کہ اسلام نے مصیبت زدہ انسانوں کی مدد کو عظیم عبادت قرار دیا ہے۔ تنظیم نے مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ اس نیک مقصد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کی فوری امداد ممکن بنائی جا سکے۔

جمعیۃ علماء ہند کے مطابق اس کی امدادی ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مسلسل سرگرم عمل ہیں اور ضرورت مند افراد تک راشن، صاف پینے کا پانی، ادویات، کپڑے، کمبل، خیمے اور دیگر ضروری اشیائے زندگی پہنچا رہی ہیں۔ کئی علاقوں میں طبی امداد اور راحتی سامان کی تقسیم بھی جاری ہے تاکہ متاثرین کی فوری مشکلات کو کم کیا جا سکے۔

تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ قدرتی آفات کے موقع پر انسانیت کی خدمت ہی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ یہی جذبہ باہمی ہمدردی، قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے تمام اہل خیر سے گزارش کی ہے کہ وہ مالی تعاون کے ذریعے اس انسانی خدمت میں شریک ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ متاثرہ خاندانوں تک امداد پہنچائی جا سکے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے پیغام میں کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہر شخص کو اپنے متاثرہ بھائیوں اور بہنوں کا سہارا بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو دکھی انسانوں کی مدد کرتے ہیں اور ان کی مشکلات آسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آسام میں سیلاب کی موجودہ صورتحال

آسام میں مسلسل بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث سیلاب کی صورت حال اگرچہ گزشتہ چند دنوں کے مقابلے میں کچھ بہتر ہوئی ہے، تاہم بحران اب بھی سنگین ہے۔ ریاست کے متعدد اضلاع میں تقریباً 1.9 لاکھ افراد اب بھی سیلاب سے متاثر ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 82 ہو گئی ہے۔ سیکڑوں دیہات زیر آب ہیں اور ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر امدادی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ 

ریاستی حکومت، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور مختلف سماجی و فلاحی تنظیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی و بچاؤ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ متعدد مقامات پر کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ خوراک، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس کے باوجود دور دراز علاقوں میں متاثرین کو اب بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ماہرین کے مطابق آسام میں ہر سال مون سون کے دوران برہم پتر اور اس کے معاون دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے سے سیلاب آتا ہے، لیکن اس سال بعض علاقوں میں غیر معمولی بارش اور تیز بہاؤ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ حکومت اور امدادی ادارے متاثرین کی بحالی اور معمولاتِ زندگی کی بحالی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔