جمعیۃ علماء ہند کا بڑا اقدام۔ ایک کروڑ اسی لاکھ کے وظائف۔ 1199 طلبہ مستفید۔ 65 غیر مسلم طلبہ بھی شامل۔

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 02-04-2026
جمعیۃ علماء ہند کا بڑا اقدام۔ ایک کروڑ اسی لاکھ کے وظائف۔ 1199 طلبہ مستفید۔ 65 غیر مسلم طلبہ بھی شامل۔
جمعیۃ علماء ہند کا بڑا اقدام۔ ایک کروڑ اسی لاکھ کے وظائف۔ 1199 طلبہ مستفید۔ 65 غیر مسلم طلبہ بھی شامل۔

 



نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نےصدر دفتر سے تعلیمی سال 2025-26 کے لئے میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے 1199 طلبہ کے لئے ایک کڑوڑ اسی لاکھ روپے کے وظائف جاری کردیئے ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ ان طلبہ میں اس بار بھی 65 غیر مسلم طلبہ شامل ہیں۔
وظائف کی رقم طلبہ کے اکاؤنٹ میں براہ راست منتقل کی جارہی ہے۔واضح ہوکہ مالی طور پر کمزور مگر ذہین بچوں کی اعلی اور پیشہ وارانہ تعلیم کے حصول میں مدد کرنے کے مقصد سے جمعیۃ علماء ہند اور ایم ایچ اے مدنی چیریٹیبل ٹرسٹ 2012 سے ہر سال وظائف جاری کر رہی ہے۔
اس کے لئے مولانا حسین احمد مدنی چیریٹیبل ٹرسٹ دیوبند،جمعیۃ علماء ہند ارشد مدنی پبلک ٹرسٹ کی جانب سے باضابطہ طور پر ایک تعلیمی امدادی فنڈ قائم کیا گیا ہے۔تعلیم کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بھی ہے جو ہرسال میرٹ کی بنیاد پر وظائف کے لئے طلبہ کا انتخاب کرتی ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ وظائف کے لئے مذہب کی کوئی قید نہیں ہے چنانچہ ہر سال ایک بڑی تعداد میں غیر مسلم طلبہ بھی اس کے لئے درخواستیں ارسال کرتے ہیں اور اگر وہ میرٹ پر پورا اترتے ہیں تو ان کا بھی انتخاب کسی تفریق کے بغیر وظائف کے لئے ہوتا ہے۔
اس سال سب سے زیادہ 65 ایسے غیر مسلم بچوں کا انتخاب ہوا ہے جو میرٹ پر پورا اترتے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند مذہب کی بنیاد پر کوئی کام نہیں کرتی بلکہ وہ جو کچھ کرتی ہے انسانیت کی بنیاد پر کرتی ہے، اس کے پیچھے ایک ہی مقصد کار فرما ہے کہ غربت اور مالی پریشانی کی وجہ سے ذہین بچے کسی رکاوٹ کے بغیر اپنا تعلیمی سفر جاری رکھ سکیں۔
اس موقع پر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ـ‘دور اندیش قومیں اپنی تاریخ سیاست سے نہیں تعلیم سے مرتب کرتی ہیں۔’ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں وہی قومیں عروج کی منزلیں طے کرتی ہیں جنکی نوجوان نسل تعلیم یافتہ ہوتی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعدہم بحیثیت قوم تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر آکھڑے ہوئے ہیں ہمیں ایک طرف طرح طرح کے مسائل میں الجھایا جارہا ہے تو دوسری طرف ہم پر اقتصادی ،سماجی، سیاسی اور تعلیمی ترقی کی راہیں بند کی جارہی ہیں۔اس سازش کو اگر ہمیں ناکام کرنا ہے اور سربلندی حاصل کرنا ہے تو ہمیں اپنے بچے اور بچیوں کے تعلیمی ادارے خود قائم کرنے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ قومو ں کی تاریخ شاہد ہے کہ ہر دور میں ترقی کی کنجی تعلیم رہی ہے۔اس لئے ہم ایک بارپھر قوم کے مخیراورصاحب حیثیت افرادسے ایہ اپیل کریں گے کہ وہ آگے بڑھ کر بچوں اوربچیوں کے لئے الگ الگ تعلیمی ادارے قائم کریں جہاں وہ کسی ڈراورخوف کے بغیر اپنی مذہبی شناخت اوراسلامی تربیت کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکیں۔یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ، اس کے لئے ہمیں اپنی سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ،
مولانا مدنی نے کہا کہ اس طرح کے تعلیمی اداروں کو ایک مثالی ادارہ بنانے کی کوشش ہونی چاہئے تاکہ ان میں غیر مسلم والدین بھی اپنے بچوں اوربچیوں کو پڑھانے پر مجبورہوجائیں اس سے نہ صرف باہمی میل جول اوربھائی چارہ میں اضافہ ہوگابلکہ ان غلط فہمیوں کا بھی خاتمہ ہوجائیگا، جو مسلمانوں کے خلاف فرقہ پرست عناصرکی طرف سے منصوبہ بندطریقہ سے مسلسل پھیلائی جارہی ہیں۔
اسی منصوبے کے تحت مدنی چیریٹیبل ٹرسٹ کے زیر انتظام منظم طریقے سے بچوں اور بچیوں کے علاحدہ اسکول، آئی ٹی آئی کالج، بی ایڈ کالج اور لا کالج چلائے جارہے ہیں اور اس کے حوصلہ افزا نتائج بھی آرہے ہیں۔ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ گھر بیٹھے کوئی انقلاب نہیں آتا، تاریخ شاہد ہے جو قوم اپنی شناخت، تہذیب اور مذہب کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہے اسے قربانی دینی پڑتی ہے۔
مولانا مدنی نے اس سال یوپی ایس سی میں 53 مسلم نوجوانوں کی شاندار کامیابی پراپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری قوم کے بچے نا مساعد حالات میں بھی اب پورے جوش وخروش کے ساتھ پیشہ وارانہ ہی نہیں مسابقتی تعلیم میں بھی اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں ۔اس بار ٹاپ100 میں 4 مسلم بچے بھی شامل ہیں۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ان بچوں نے یہ کامیابی تب حاصل کی ہے جب ان پر تعلیم اور آگے بڑھنے کی راہیں کٹھن کی جارہی ہیں۔ مولانا آزاد فاونڈیشن سمیت مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لئے چلائی گئی تمام اہم اسکیمیں بند کی جا چکی ہیں اور تعلیمی اداروں میں ان کے ساتھ امتیاز بھی برتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگران رکاوٹوں کے بعد بھی مسلمانوں میں تعلیم کا تناسب بڑھا ہے تو یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہی نہیں بلکہ مسلمانوں میں تعلیم کے حوالے سے آنے والی ایک بڑی تبدیلی کا ثبوت بھی ہے۔مسلمان مجموعی طور پر اقتصادی پسماندگی کا شکار ہیں،یہی وجہ ہے کہ مختلف رپورٹوں میں اس بات کا خلاصہ ہوا ہے کہ بہت سے مسلم بچے درمیان میں ہی تعلیم چھوڑ دیتے ہیں کیوں کہ ان کے والدین تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کے اہل نہیں ہوتے۔اس افسوسناک حقیقت کا انکشاف برسوں پہلے سچر کمیٹی اپنی رپورٹ میں بھی کرچکی ہے۔اس رپورٹ میں یہ انکشاف بھی موجود ہے کہ ملک میں مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بدتر ہے۔اس عرصہ میں مسلمانوں کی اقتصادی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ 2014 کے بعد تو یہ مزید ابتر ہوگئی ہے۔ایسے میں یوپی ایس سی جیسے اہم اور بڑے مسابقتی امتحان میں 53 مسلم نوجوانوں کی کامیابی ایک طرح سے اجتماعی ملی بیداری کا روشن استعارہ ہے۔ان میں سے کئی امیدوار تو ایسے ہیں جنہوں نے مالی تنگی، محدود وسائل کے باوجود اپنی ہمت اور لگن کی بنیاد پر یہ سنگ میل عبور کیا ہے۔
مولانا مدنی کہا کہ ان بچوں نے اپنی جدوجہد اور کامیابی سے یہ ثابت کردیا ہے کہ مسلمان تمام تر سازشوں اور امیتاز کے باوجود ملک کے قومی دھارے میں شامل ہیں،ان میں بے پناہ صلاحتیں موجود ہیں اور اگر انہیں مساوی مواقع میسر ہوں تو یہ لوگ کامیابی کی ہر وہ منزل حاصل کرسکتے ہیں جس کا ہم تصورکرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اگر مسلمان کسی شعبے میں آگے بڑھتا ہے تو بے لگام فرقہ پرست طاقتیں اسے متنازع بنانے کی سازشیں کرنے لگتی ہیں۔غلط بیانی کو سچ مان لیا جاتا ہے اور میڈیا ٹرائل کے ذریعہ ان کے حوصلوں کو پست کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔اس طرح کا ماحول ہمارے نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ہم نے اسی تناظر میں کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ ایک مسلمان ممدانی امریکہ کے نیو یارک شہر کا میئر بن سکتا ہے ، لند ن میں ایک خان میئر بن جاتا ہے لیکن ہمارے اپنے ملک میں ایک مسلمان کو اپنی قائم کردہ یونیورسیٹی کا چانسلر بننے میں بھی حد درجہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کیوں فرقہ پرست طاقتیں کسی مسلمان کی ترقی کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہیں۔اور اگر کوئی اس مقام تک پہنچ بھی جاتا ہے تو مختلف الزامات اور مقدمات کے ذریعہ اسے اعظم ، اقبال اور جاوید کی طرح جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔
مولانا مدنی نے کہاکہ ان افسوسناک حقائق کے بعد بھی اگر لگن سچی ہو تو کوئی بھی رکاوٹ ہماری راہ دیوار نہیں بن سکتی۔ہماری نوجوان نسل مالی تنگی،خوف ودہشت کے ماحول اور مذہبی امتیاز کے بعد بھی کامیابی کی نئی عبارت لکھ رہی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم جب بیدار ہوتی تو دنیا کو نئی سمت دکھاتی ہے۔آج کے حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمان اتحاد،علم اور جدوجہد کا راستہ اختیار کریں کیوں یہی وہ راستہ ہے جو انہیں عزت، کامیابی اور روشن مستقبل کی طرف لے جاسکتا ہے۔ ۔۔۔