جامعہ ہمدرد: کلچرل کارواں 2026 کا آغاز

Story by  ATV | Posted by  Aamnah Farooque | Date 08-04-2026
جامعہ ہمدرد: کلچرل کارواں 2026 کا آغاز
جامعہ ہمدرد: کلچرل کارواں 2026 کا آغاز

 



آمنہ فاروق: نئی دہلی
نئی دہلی واقع جامعہ ہمدرد میں ایک منفرد ثقافتی میلہ کا آغاز ہوا۔ کلچرل کارواں صرف ایک کالج فیسٹ نہیں بلکہ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیت اظہار اور ثقافتی تنوع کا جیتا جاگتا مظہر ہے۔
اس تقریب کو مزید وسعت دینے کے لیے آواز دی وائس میڈیا پارٹنر کے طور پر شامل ہوا۔ آواز دی وائس نے پہلے دن نہ صرف پروگرام کی ہر سرگرمی کو کوریج دی  بلکہ اسے ڈیجیٹل دنیا میں وسیع ناظرین تک پہنچایا جس سے شرکاء کو قومی سطح پر پہچان حاصل کرنے کا موقع ملا۔
۔ 7 اپریل صبح 9:30 بجے پروگرام کا آغاز ہوا۔ اسلامک کوئز اور ڈانس یوگا جیسی سرگرمیاں دن کے آغاز کو علم اور صحت کے امتزاج کے ساتھ خاص بنایا۔ ملٹی پرپز ہال اور آرکائیوز آڈیٹوریم جیسے مقامات پر طلبہ کی بھرپور شرکت ماحول کو زندہ اور پرجوش بنایا۔ اس دوران توانائی جوش اور مقابلے کا جذبہ واضح طور پر نظر آ رہا تھا۔ دوپہر تک یہ فیسٹ اپنی تخلیقی بلندی پر پہنچ  گیا۔ سیلف کمپوزڈ شاعری نعت مقابلہ اور کارٹون اسکیچنگ جیسے پروگرام نے شرکاء کو اپنی تخیل اور فنکارانہ سوچ کے اظہار کا موقع دیا۔ 
دوپہر 2 بجے کے بعد پروگرام نے مزید وسعت اختیار کی۔ اسٹوری رائٹنگ ،ایکسٹیمپور، بیعت بازی اور خطاطی جیسی سرگرمیاں زبان اور اظہار کی گہرائی کو سامنے لائیں۔ موسیقی کے شوقین افراد کے لیے سولو ڈیوٹ گروپ سانگ اور غزل کی پیشکشیں نے آرکائیوز آڈیٹوریم میں دلکش ماحول پیدا کیا۔
  آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ریشما نسرین ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر نے بتایا کہ جامعہ ہمدرد ایک "ڈیّمڈ ٹو بی یونیورسٹی" ہے، جسے 1989 میں یہ درجہ حاصل ہوا۔ دہلی این سی آر میں یہ پہلی یونیورسٹی ہے جس نے این اے اے سی کے ایکریڈیٹیشن میں چوتھا سائیکل بھی مکمل کیا ہے اور اے+ ـ گریڈ حاصل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ ہمدرد کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا آغاز ایک اسکول کے طور پر ہوا تھا، لیکن آج اس کے تحت 11 مختلف اسکولز قائم ہیں، جہاں متعدد کورسز پڑھائے جاتے ہیں۔  فارمیسی کے شعبے میں یہ ملک کے نمایاں اداروں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مینجمنٹ، انجینئرنگ، انٹر ڈسپلنری اسٹڈیز اور سوشل سائنسز کے بھی شعبے موجود ہیں۔فی الحال کیمپس میں تقریباً 12,000 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جو نہ صرف ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے بلکہ بیرونِ ممالک جیسے سعودی عرب، افغانستان، شام، ایران اور عراق سے بھی آتے ہیں۔ اس طرح یہاں ایک متنوع اور صحت مند تعلیمی و ثقافتی ماحول پایا جاتا ہے، جہاں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ادارہ اپنے بانی حکیم عبدالحمید کے وژن پر قائم ہے، جو ایک معروف یونانی طبیب تھے۔ یونانی نظامِ طب میں یہاں منفرد طریقۂ علاج بھی موجود ہیں، اور یونانی میڈیسن کا شعبہ کافی ترقی یافتہ ہے۔ جامعہ میں سینٹر آف ایکسیلینس بھی قائم ہے، جہاں جدید تحقیق اور علاج پر کام ہوتا ہے۔ جامعہ کا ہمدرد یونانی ہسپتال ایک جدید سہولیات سے آراستہ ادارہ ہے۔ اس کے علاوہ یہاں نرسنگ اسکول اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز جیسے شعبے بھی موجود ہیں۔ اگر ہیلتھ کیئر کے پورے نظام کو دیکھا جائے، تو دواؤں کی تیاری (فارمیسی) سے لے کر کیمسٹری، باٹنی، بایو کیمسٹری اور ٹیکنالوجی تک، اور پھر مکمل ہیلتھ سروسز تک، جامعہ ہمدرد ایک جامع نظام فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے آگے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ سوشل سائنسز، انجینئرنگ اور ماس کمیونیکیشن جیسے شعبے بھی فعال ہیں۔ ہر سال نئے اور وقت کی ضرورت کے مطابق کورسز متعارف کروائے جاتے ہیں۔ جامعہ کی خاص توجہ اسکل بیسڈ ایجوکیشن، طلبہ کی روزگار کے قابل بنانے  اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیم فراہم کرنے پر ہے۔
اس میلے کی خاص بات اس کا تنوع تھی۔ اسکیٹ، اسٹینڈ اپ ایکٹ، کولیج ، دھم شراڈز، رنگولی اور قوالی جیسے مقابلے اسے مزید رنگین بنا رہے ہیں۔ ہر پیشکش میں شرکاء کا جذبہ اور ناظرین کی داد اس تقریب کو یادگار بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
ادبی کلب کی نائب صدر ڈاکٹر سحر زیدی نے آواز دی وائس کو کلچرل کارواں کے بارے میں بتایا کہ یہ ثقافت، صلاحیت اور تخلیقی صلاحیتوں کا ایک رنگا رنگ جشن ہے، اور  اس پروگرام کے ذریعے ہم طلبہ کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں اور اپنے مسابقتی جذبے کو پیش کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ لہٰذا ہم جامعہ ہمدرد کے تمام طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ان ہم نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، تاکہ وہ نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ دیگر سرگرمیوں میں بھی اپنی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں۔
اس پروگرام میں ادبی، موسیقی اور تخلیقی نوعیت کے مختلف مقابلے شامل ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 24 سرگرمیاں رکھی گئی ہیں، جن میں فی البدیہ تقریر، اسٹیج ڈرامہ، رنگولی، خطاطی، ڈانس، یوگا، قوالی، انفرادی گائیکی ور اس کے علاوہ بہت کچھ شامل ہے۔
یہ ایک ایسا پروگرام ہے جسے ہم ہر سال منعقد کرتے ہیں، اور اس میں مختلف ادبی اور موسیقی سرگرمیوں کا مجموعہ ہوتا ہے، جس کے ذریعے طلبہ کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور خود اعتمادی حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔
جامعہ ہمدرد کی ڈپٹی ڈی ایس ڈبلیو، ڈاکٹر عظمیٰ بانو نے بتایا کہ جامعہ ہمدرد میں ہمارا شعبہ طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے، جہاں ہم مختلف پروگرامز منعقد کرتے رہتے ہیں اور ہمارے پاس متعدد کلبز بھی موجود ہیں۔اگر آج کی بات کی جائے تو ہمارے پاس تقریباً 13 کلبز ہیں، جن میں کھیلوں کے کلبز بھی شامل ہیں، اور ان میں اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہم ہر سال ایک بڑا میلہ بھی منعقد کرتے ہیں، جو عموماً فروری میں ہوتا ہے، جس میں کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں، اور پوری جامعہ اس میں حصہ لیتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پورے سال مختلف بین الجامعاتی مقابلے بھی ہوتے رہتے ہیں، جن میں کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔ ہم اپنی جامعہ میں بھی پروگرام منعقد کرتے ہیں اور ہمارے طلبہ دیگر جامعات میں بھی شرکت کے لیے جاتے ہیں۔ اس طرح ہمارا شعبہ طلبہ کی بہبود ہر طرح کی سرگرمیوں کو منظم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مزید یہ کہ ہمارے پاس مختلف وظائف بھی موجود ہیں، جو ہم اپنے طلبہ کو فراہم کرتے ہیں۔ پی ایچ ڈی کے طلبہ، نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ، اور مختلف شعبوں سے بہترین طلبہ کا انتخاب باقاعدہ انٹرویو کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہاں طلبہ کے لیے بے شمار سہولیات دستیاب ہیں، اور آج کل طلبہ بھی بہت اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ آخری دن ہماری انعامی تقریب منعقد ہوتی ہے، جس میں ہم کوشش کرتے ہیں کہ کوئی معزز مہمان شرکت کرے، خصوصاً ایسا شخص جس کا تعلق کھیلوں یا ثقافت سے ہو، تاکہ طلبہ کی حوصلہ افزائی ہو اور ہمیں بھی سیکھنے کا موقع ملے۔ ایسے مہمان یہاں آ کر ہماری جامعہ، اس کے طلبہ اور ان کی صلاحیتوں کے بارے میں جان سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام سہولیات ہمارے طلبہ کو فراہم کی جاتی ہیں، اور آپ طلبہ سے بات کر کے بھی ان کے تجربات جان سکتے ہیں۔ یہ میلہ تین دن تک جاری رہے گا اور 10 تاریخ تک چلے گا، جبکہ شام کو اس کا مرکزی پروگرام منعقد ہوگا۔
 ۔7 اپریل کو سب سے پہلے نعت کامپیٹیشن کا پروگرام ہوا۔ جس میں 34 طلبہ نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں باقاعدہ جج شامل ہوئے۔
کلچرل کارواں صرف ایک فیسٹ نہیں بلکہ ایک ایسا موقع ہے جہاں ہر طالب علم اپنی صلاحیت کو پہچان دے رہا ہے۔ یہ  فیسٹ نہ صرف  خود اعتمادی کو بڑھاتا ہے بلکہ طلبہ کو سماجی اور ثقافتی طور پر بھی مضبوط بناتا ہے۔ چار دن تک جاری رہنے والا یہ پروگرام جامعہ ہمدرد کی ثقافتی تاریخ میں ایک نیا باب جوڑ رہا ہے جہاں فن ثقافت اور نوجوانوں کا جوش مل کر ایک ایسی کہانی رقم کر رہا ہے جو طویل عرصے تک یاد رکھی جائے گی۔