نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کا وفد 26 اگست کو نیپال کے بھوٹے کوشی-تریشولی علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا زمینی جائزہ لینے کے بعد اپنے تین روزہ دورے سے واپس آگیا ہے۔ وفد نے سیلاب سے تباہ شدہ علاقوں کا دورہ کیا، متاثرین اور مقامی ذمہ داران سے ملاقاتیں کیں اور اس قدرتی آفت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انسانی ضروریات کا جائزہ لیا۔ وفد کے مشاہدات اور سفارشات کی بنیاد پر جماعت اسلامی ہند نے نیپال میں ہنگامی امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
مرکز کے میڈیا ہال میں منعقدہ ماہانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے قومی سکریٹری مولانا شفیع مدنی نے کہا کہ نیپال میں تباہی کا پیمانہ انتہائی وسیع ہے اور اس وقت اولین ترجیح متاثرہ خاندانوں تک خوراک، طبی سہولیات، صاف پانی اور دیگر ضروری امداد پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیپال کی حکومت اور اس کے متعلقہ ادارے انتہائی مشکل حالات میں غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم تباہی کی شدت اور وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کے باعث ان کی کوششوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی اور بچاؤ کی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو زندہ نکالا جا رہا ہے۔
مولانا شفیع مدنی نے کہا کہ ایک اور اہم تشویش یہ ہے کہ اب تک نیپال حکومت کی جانب سے متاثرین کے لیے معاوضے کا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت فوری توجہ بچاؤ اور ہنگامی امداد پر مرکوز ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وفد کے زمینی مشاہدات کی بنیاد پر جماعت اسلامی ہند نیپال میں نافذ قانونی دائرۂ کار کے اندر رہتے ہوئے ہنگامی امدادی سرگرمیاں انجام دے سکتی ہے۔ بچاؤ کے کام مکمل ہونے کے بعد نقصانات کا درست اندازہ لگانا آسان ہوگا، جس کے بعد متاثرہ آبادیوں کی بازآبادکاری اور تعمیر نو کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے۔
اس موقع پر جماعت اسلامی ہند نے نیپال حکومت، سکیورٹی اداروں، مقامی برادریوں اور انسانی امداد فراہم کرنے والی تنظیموں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ امداد اور بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
ذات پات کی بنیاد پر امتیاز اور مظالم پر تشویش
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے آئینی تحفظات اور قوانین کے باوجود ذات پات کی بنیاد پر امتیاز اور مظالم کے جاری رہنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ این سی آر بی کے تازہ ترین اعداد و شمار انتہائی تشویش ناک ہیں۔ 2023 میں درج فہرست ذاتوں (Scheduled Castes) کے خلاف 57,789 جرائم درج کیے گئے، جبکہ درج فہرست قبائل (Scheduled Tribes) کے خلاف جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش میں ایک دلت طالب علم پر حملہ اور ذات پات کی بنیاد پر گالیاں دینے، جبکہ راجستھان میں دو دلت افراد کی اہانت کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ذات پات کا تعصب آج بھی روزمرہ زندگی میں انسانی عزت و وقار کو مجروح کر رہا ہے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ایس سی/ایس ٹی ایکٹ جیسے قوانین ناگزیر ہیں، لیکن محض قوانین ایسے سماجی رویوں کا خاتمہ نہیں کرسکتے جو تذلیل، امتیاز اور سماجی بائیکاٹ کی اجازت دیتے ہیں۔ انہوں نے موجودہ قوانین کے مؤثر نفاذ، مقدمات کے جلد تصفیے، متاثرین کے تحفظ اور ذہنیت میں تبدیلی کے لیے اخلاقی و تعلیمی کوششوں پر زور دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلام پیدائش، ذات، نسل یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر کسی بھی فرد کے ساتھ امتیاز کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور ہر انسان کے ذاتی وقار اور عزت کو تسلیم کرتا ہے۔
ایس آئی آر اور ووٹروں کے نام حذف کیے جانے پر تشویش
میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ایس۔ امین الحسن نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) اور اس کے نتیجے میں ووٹروں کے حق رائے دہی سے محروم ہونے کے خدشے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے مہاراشٹر، دہلی، تلنگانہ اور کرناٹک میں انتخابی فہرستوں سے بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کی اطلاعات کی طرف توجہ دلائی۔ خاص طور پر مغربی بنگال کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ SIR کی اپیلیٹ ٹریبونلز کے ذریعے نمٹائی گئی 82,782 اپیلوں میں سے 75,443 نام، یعنی 91 فیصد، دوبارہ انتخابی فہرستوں میں بحال کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ووٹ دینے کا حق کسی شہری کی اس صلاحیت سے مشروط نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خود اپنی عدم موجودگی کا پتہ لگائے، پیچیدہ دعوے کے عمل سے گزرے اور پھر اپیل کے ذریعے اپنا نام دوبارہ انتخابی فہرست میں شامل کرانے میں کامیاب ہو۔

مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق کے تحفظ پر زور
مذہبی آزادی کے حوالے سے ایس۔ امین الحسن نے ہندوستان میں مذہبی آزادی کو متاثر کرنے والی قانونی پابندیوں اور سماجی رکاوٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ سہارنپور کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع ایک تاریخی مسجد کا انہدام ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک بدنما داغ ہے اور اس واقعے نے مذہبی آزادی، اقلیتی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس کارروائی کے دوران کیا انہدام سے متعلق سپریم کورٹ کی واضح ہدایات پر عمل کیا گیا یا نہیں؟ ان کے مطابق اگر کئی دہائیوں سے عوام کے استعمال میں آنے والی کسی عبادت گاہ کی حیثیت چند من مانی کرنے والے قائدین اور ان کے تابع افسران طے کرنے لگیں تو اس سے سیاسی نظام اور قانون کی بالادستی پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوگا۔
ایس۔ امین الحسن نے دہلی کے ساکیت پولیس اسٹیشن میں دو مسلم خواتین صحافیوں، شاہین خان اور نفیسہ خان، کے ساتھ مبینہ تشدد اور بدسلوکی کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ کسی فرد کی مذہبی شناخت کو امتیازی سلوک کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔
انہوں نے زور دیا کہ ہر شہری کے لیے ضمیر کی آزادی، مذہبی آزادی اور آزادیٔ صحافت کو جبر اور خوف سے پاک ماحول میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔جماعت اسلامی ہند نے مطالبہ کیا کہ من مانی اختیارات کے استعمال کے بجائے انصاف، قانونی طریقۂ کار اور آئینی حقوق کو بالادستی حاصل ہونی چاہیے۔