‎جماعت اسلامی ہند کے وفد کا محمد علی جوہر یونیورسٹی کا دورہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 24-07-2026
‎جماعت اسلامی ہند کے وفد کا محمد علی جوہر یونیورسٹی کا دورہ
‎جماعت اسلامی ہند کے وفد کا محمد علی جوہر یونیورسٹی کا دورہ

 



رام پور:جماعت اسلامی ہند کے ایک وفد نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کا دورہ کیا اور اساتذہ و احتجاجی طلبہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ وفد نے یونیورسٹی انتظامیہ، مقامی سماجی رہنماؤں اور اعظم خان کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر وفد نے ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے اتر پردیش کی گورنر کو ایک یادداشت پیش کی، جس میں یونیورسٹی کے خلاف مجوزہ انہدامی کارروائی پر فوری روک لگانے کی اپیل کی گئی۔

جماعت اسلامی ہند نے اتر پردیش حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یونیورسٹی کیمپس میں کسی بھی قسم کی انہدامی کارروائی نہ ہو۔یادداشت میں جماعت اسلامی ہند نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ جماعت کا کہنا تھا کہ 30 جولائی 2026 کی مقررہ آخری تاریخ قریب ہے اور اگر انتظامیہ نے اپنے فیصلے پر عمل کیا تو یہ ہزاروں طلبہ کے ساتھ سنگین ناانصافی ہوگی۔

وفد نے ریاست کی گورنر سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ اور ادارے کی آئینی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔جماعت اسلامی ہند نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اس معاملے کو خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ انہدامی حکم کی قانونی حیثیت اور یونیورسٹی کی جانب سے دائرۂ اختیار سے متعلق اٹھائے گئے اعتراضات کا فیصلہ قانونی اور عدالتی عمل کے ذریعے کیا جا سکے۔

وفد نے تقریباً 3,000 طلبہ کے مستقبل پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں بڑی تعداد معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے ایسے طلبہ کی ہے جو فیس میں رعایت حاصل کرکے اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وفد کے مطابق یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کا انہدام درحقیقت پورے ادارے کو تباہ کر دے گا اور ہزاروں طلبہ ایک اہم تعلیمی ادارے سے محروم ہو جائیں گے، جو آئین ہند کے آرٹیکل 30 کے تحت قائم کیا گیا ہے۔

وفد نے اس بات پر زور دیا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی طویل عرصے سے معیاری تعلیم فراہم کر رہی ہے اور اگر انہدامی کارروائی عمل میں لائی گئی تو ہزاروں طلبہ و طالبات کے تعلیمی مستقبل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔وفد نے کہا کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس کے مطابق یہ معاملہ صرف عمارتوں کا نہیں بلکہ تعلیم کے حق اور نوجوانوں کے مستقبل کا ہے۔ وفد نے حکومت پر زور دیا کہ انہدام کے بجائے عمارتوں کو قانونی حیثیت دینے کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی انتظامی کارروائی کے نتیجے میں کوئی طالب علم تعلیم سے محروم نہ ہو۔

جماعت اسلامی ہند کے وفد میں قومی سیکرٹری مولانا محمد شفیع مدنی، محمد احمد، اسسٹنٹ سیکرٹری انعام الرحمٰن، مولانا ضمیر الحسن فلاحی، امیر حلقہ اتر پردیش مغرب، اور دیگر ذمہ داران شامل تھے۔