جلال لکھنوی کے علمی آثارکا احاطہ ”جلال فہمی“کے بغیر ممکن نہیں۔حکیم سیم احمد اعظمی
لکھنؤ: ڈاکٹر محمد سعید اختر کی مرتب کردہ کتاب’جلال فہمی‘ میں جلال کی شخصیت اور فن پر1910ء سے 2025ء تک شائع بیشتر تحریروں کااس خوبی اور فنی ہنر مندی سے احاطہ کیا گیا ہے کہ جلال لکھنوی کے عملی آثارپر قلم اُٹھانے والا ہر شخص اس کو اساس بنائے گا۔ڈاکٹر عمیر منظرکے ’پیش لفظ‘ اور مرتب ِ کتاب ڈاکٹر محمد سعید اختر کے جامع’دیباچہ‘نے جلال فہمی کی راہ آسان کردی ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف محقق اور سینٹرل کونسل آف ریسرچ ان یونانی میڈیسن کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر حکیم وسیم احمد اعظمی نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں ڈاکٹر محمد سعید اختر کی کتاب جلال فہمی (1910تا2025)کی رسم رونمائی کے موقع پر کیا۔تقریب میں مقررین نے کتاب کی علمی و تحقیقی اہمیت کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر محمد سعید اختر کو مبارک باد پیش کی۔حکیم وسیم احمد اعظمی نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر یہ کتاب تین عناوین پرمبنی ہے۔ تذکروں میں محاکمہئ جلال، ادبی مورخین کی نظر میں جلال،ادبی محققین اور جلال،اور ...دور حاضر میں جلال۔حکیم وسیم احمد اعظمی نے کہا کہ ڈاکٹر محمد سعید اختر کی مرتب کردہ یہ کتاب ان کے ذوق ِ مطالعہ اور حسن ترتیب کی روشن مثال ہے۔انہوں نے مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی،لکھنؤ کیمپس سے’میر ضامن علی جلال لکھنوی کی ادبی خدمات کا تنقیدی مطالعہ‘ کے عنوان سے ڈاکٹر عمیر منظر کی رہنمائی میں تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور اس طرح جلال لکھنوی کی کل کائنات پر ان کی نظر رہی ہے۔
کیمپس کی انچارج پروفیسر ہما یعقوب نے اس اہم ادبی کاوش پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس نوع کی ادبی سرگرمیاں کیمپس کے طلبہ کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ کیمپس کے علمی اور ادبی ماحول کو بہتر سے بہتر بنانے میں سابق طلبہ کے سرگرم علمی تعاو ن کا ہم استقبال کرتے ہیں۔
ڈاکٹر مجاہد الاسلام نے کتاب پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ”جلال فہمی“ محض منتشر مواد کی ترتیب و تدوین نہیں، بلکہ جلال لکھنوی کے مطالعے کے لیے ایک اہم تحقیقی کاوش ہے،جو طلبہ، محققین، اساتذہ اور کلاسیکی ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک مفید علمی سرمایہ ثابت ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ کتاب کی اہمیت اس اعتبار سے بھی ہے کہ ڈاکٹر محمد سعید اختر نے کئی برسوں کی تحقیقی جستجو کے بعد زمانی ترتیب کے ساتھ یکجا صورت میں پیش کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر محمد سعید اختر کا مبسوط مقدمہ جلال شناسی کے مزید امکانات بھی روشن کرتا ہے۔
ڈاکٹر عمیر منظر نے ”جلال فہمی“کو جلال لکھنوی کی بازیافت قرار دیا اور کہا کہ اس کتاب سے ایک صدی پہلے کے لکھنؤ کی ادبی سرگرمیوں کا خاطر خواہ اندازہ کیا جاسکتا ہے اور ان میں جلال کے متنوع کردار بھی سامنے آتا ہے۔ڈاکٹر محمد سعید اختر نے اس کتاب کے توسط اپنے ادبی شوق کا آغاز کیا ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس کے لیے یہ لمحہ باعث فخر ہے۔
ڈاکٹر عشرت ناہید نے کہا کہ کلاسیکی شعراء میں جلال لکھنوی کا اہم مقام رہا ہے۔اصلاح زبان،لغت نویسی،عروض دانی،فن تاریخ گوئی میں ان کی ادبی خدمات بے بہاہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر سعید اختر نے 'جلال فہمی 'ترتیب دے کر ان کی اہمیت کو عصر حاضر میں حیات نو عطا کر دی ہے، جس کے لیے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
ڈاکٹر نور فاطمہ نے کہا کہ سعید اختر کی کتاب ’جلال فہمی‘) 1910 تا 2025) جلال شناسی کے سلسلے میں ایک بنیادی حوالہ ثابت ہوگی۔ڈاکٹر نور فاطمہ نے کہا کہ آج بھی جلال کی شاعری میں استفادے کی بھر پور صلاحیت موجود ہے۔مجھے امید ہے کہ اس کتاب کے وسیلے سے ہمیں جلال لکھنوی کو سمجھنے کا نیا نظریہ فراہم ہوگا۔انھوں نے سعید اختر کواس کتاب کی اشاعت کے لیے مبارک باد پیش کی۔
ڈاکٹر اکبر علی خاں نے کہا کہ یہ بہت اہم ادبی کاوش ہے۔لکھنؤ اور جلال لازم و ملزوم ہیں۔اس کتاب کے توسط سے ہمیں اس عہد کو دیکھنے کے لیے ادھر ادھر جانے کے بجائے ایک جگہ تمام مواد مل جائے گا۔کیمپس کے سابق طالب علم کو اس ادبی کارنامے کے لیے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
پروگرام میں کیمپس کے اساتذہ، طلبہ اور ریسرچ اسکالرز نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کی۔