امیر حسن عابدی کی علمی میراث سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت : پروفیسر چندر شیکھر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-04-2026
امیر حسن عابدی کی علمی میراث سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت : پروفیسر چندر شیکھر
امیر حسن عابدی کی علمی میراث سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت : پروفیسر چندر شیکھر

 



نئی دہلی: “امیر حسن عابدی جیسی نابغۂ روزگار شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے اور ان کی علمی دیانت و تحقیقی بصیرت نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے”۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر علیم اشرف خان نے اس موقع پر کیا جب قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان اور شعبۂ فارسی ذاکر حسین دہلی کالج کے اشتراک سے چوتھا امیر حسن عابدی میموریل لیکچر اور پینل ڈسکشن کالج کے سمینار ہال میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں فارسی زبان و ادب کے طلبہ، اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ جات کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

صدارتی خطاب میں پروفیسر علیم اشرف خان نے امیر حسن عابدی کی علمی و تحقیقی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تحقیق کو ایک مشن کے طور پر اختیار کیا اور اپنی پوری زندگی علم کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ ان کے مطابق عابدی صاحب کی محنت، لگن اور موضوع سے گہری وابستگی ہر محقق کے لیے قابلِ تقلید ہے۔

اس موقع پر دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر شعبۂ فارسی پروفیسر چندر شیکھر نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امیر حسن عابدی نہایت بااخلاق اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے جو اپنے شاگردوں کی رہنمائی میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ انہوں نے فارسی مخطوطات کے حوالے سے ان کی خدمات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندوستان میں فارسی ادب کی روایت کو نئی زندگی بخشی۔

پروفیسر وجیہ الدین علوی نے بھی آن لائن اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عابدی صاحب ایک چلتی پھرتی لائبریری کی حیثیت رکھتے تھے اور مخطوطات کی تلاش میں ہمیشہ سرگرم رہتے تھے۔ انہوں نے تحقیق کے میدان میں ان کی جستجو، صبر اور استقامت کو مثالی قرار دیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر شعبۂ فارسی پروفیسر عراق رضا زیدی نے کہا کہ امیر حسن عابدی کی خدمات اس قدر وسیع ہیں کہ انہیں چند الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی فارسی زبان و ادب کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔

پروفیسر سید کلیم اصغر نے اپنی پہلی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ عابدی صاحب نہایت متاثر کن شخصیت کے مالک تھے اور انہوں نے ایران، افغانستان اور دیگر ممالک کی لائبریریوں کا سفر کر کے نایاب مخطوطات کو تلاش کیا۔ وہ تحقیق میں جدت اور نئے موضوعات کے انتخاب پر ہمیشہ زور دیتے تھے۔

پروفیسر شمیم الحق صدیقی نے بھی ان کے ساتھ گزارے گئے لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ عابدی صاحب کا اندازِ کار منظم اور سنجیدہ تھا اور ان کی علمی مستقل مزاجی ہر محقق کے لیے نمونہ ہے۔

دیگر مقررین میں پروفیسر جمیل الرحمٰن، سہیل عابدی، ڈاکٹر شعیب رضا وارثی، ڈاکٹر مہتاب جہاں، ڈاکٹر زین العبا اور ڈاکٹر عمران چودھری شامل تھے، جنہوں نے امیر حسن عابدی کی زندگی اور خدمات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

پروگرام کی نظامت ڈاکٹر خورشید احمد نے انجام دی جبکہ شکریہ کی رسم ڈاکٹر ممتاز احمد نے ادا کی۔ اس موقع پر پروفیسر محمود فیاض کی مرتبہ کتاب “امیر حسن عابدی خطبات” کا اجرا بھی کیا گیا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امیر حسن عابدی کے علمی مشن کو آگے بڑھایا جائے گا اور فارسی زبان و ادب کی ترویج کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔