پی ایم مودی سے ملاقات کی خواہش، راجوری سے پیدل روانہ ہوئے عرفان آوانہ اور امیت سنگھ

Story by  آمنہ فاروق | Posted by  Aamnah Farooque | Date 18-06-2026
پی ایم مودی سے ملاقات کی خواہش، راجوری سے پیدل روانہ ہوئے عرفان آوانہ اور امیت سنگھ
پی ایم مودی سے ملاقات کی خواہش، راجوری سے پیدل روانہ ہوئے عرفان آوانہ اور امیت سنگھ

 



آمنہ فاروق ۔ نئی دہلی
آج کے دور میں جہاں اکثر لوگ اپنی ذاتی مشکلات اور مفادات تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں، وہیں جموں و کشمیر کے ضلع راجوری کے دو نوجوانوں نے اپنے علاقے کی ترقی، قومی یکجہتی اور عوامی مسائل کو اعلیٰ قیادت تک پہنچانے کے لیے ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔ راجوری سے تعلق رکھنے والے عرفان آوانہ اور امیت سنگھ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے لیے پیدل دہلی کا سفر شروع کیا ہے۔ یہ ایک سفر نہیں بلکہ عزم، بھائی چارے، حب الوطنی اور عوامی خدمت کے جذبے کی علامت بن چکی ہے۔
راجوری سے دہلی تک پیدل سفر پر نکلنے والے امیت سنگھ اور عرفان آوانہ سے ملاقات کے بعد کئی لوگوں نے ان کے جذبے اور حوصلے کی تعریف کی۔ ان کا یہ سفر صرف منزل تک پہنچنے کا نام نہیں بلکہ قومی یکجہتی، باہمی محبت اور ملک سے وابستگی کا ایک متاثر کن پیغام بھی ہے۔ امیت سنگھ اور عرفان آوانہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہندو اور مسلمان مل کر ملک کی ترقی اور سماج کی بہتری کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ ان کا یہ سفر باہمی احترام، محبت اور قومی اتحاد کی ایک خوبصورت مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مقامی سوشل میڈیا پوسٹس کے مطابق بی جے پی رہنما رویندر رینا نے وزیرِ اعظم سے ملاقات سے قبل انہیں اپنی گاڑی میں سفر کرنے کی پیشکش کی، لیکن دونوں نوجوانوں نے یہ پیشکش مؤدبانہ انداز میں مسترد کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا سفر پیدل شروع کیا ہے اور اسے پیدل ہی مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
ان کے اس جواب نے سوشل میڈیا پر جذباتی ردِعمل پیدا کیا، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کی قوتِ ارادی، صبر اور عزم کی تعریف کی۔ عرفان آوانہ اور امیت سنگھ کے لیے یہ سفر صرف دہلی پہنچنے کا نام نہیں بلکہ اس مشن کو اسی جذبے کے ساتھ مکمل کرنا ہے جس جذبے کے ساتھ انہوں نے اس کا آغاز کیا تھا۔ راجوری ضلع کے کوٹرنکہ علاقے کی پنچایت کھا نمبر دو کے رہائشی عرفان آوانہ، ولد محمد مسر، اور ان کے ساتھی امیت سنگھ نے اپنے علاقے کے مسائل اور ترقیاتی مطالبات کو ملک کی اعلیٰ ترین قیادت تک پہنچانے کے لیے یہ منفرد قدم اٹھایا ہے۔  
عرفان آوانہ اور امیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف وزیرِ اعظم سے ملاقات کرنا نہیں بلکہ راجوری اور پورے پیر پنجال خطے کی آواز کو مرکزی حکومت تک پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق پیر پنجال علاقہ قدرتی حسن، تاریخی اہمیت اور سیاحت کی بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال ہے، لیکن اس کے باوجود ترقی اور بنیادی سہولتوں کے میدان میں اب بھی کافی پیچھے ہے۔ مناسب تشہیر اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باعث یہ خطہ سیاحتی نقشے پر اپنی حقیقی شناخت حاصل نہیں کر سکا۔
سیاحت کے بے شمار امکانات
دونوں نوجوانوں نے خاص طور پر بدھل علاقے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کی دلکش وادیاں، بلند پہاڑ، گھنے جنگلات اور قدرتی وسائل نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم سڑکوں کے ناقص رابطے، سیاحتی سہولتوں کی کمی، بہتر صحت خدمات اور معیاری تعلیمی نظام کے فقدان کے باعث یہ علاقہ طویل عرصے سے نظرانداز ہوتا آ رہا ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اس علاقے کے لیے خصوصی ترقیاتی منصوبے متعارف کرائے تو نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ عرفان آوانہ اور امیت سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی سے پیر پنجال اور بدھل علاقوں کی ترقی کے لیے خصوصی پیکیج دینے کی درخواست کریں گے۔ اس کے علاوہ سیاحت، سڑکوں کے رابطے، صحت اور تعلیم سے متعلق نئی منصوبہ بندی اور ترقیاتی اسکیموں کے آغاز کا مطالبہ بھی کریں گے تاکہ علاقے کے عوام کو بہتر سہولتیں میسر آ سکیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر درست سمت میں سنجیدہ کوششیں کی جائیں تو یہ خطہ مستقبل میں ملک کے نمایاں سیاحتی مقامات میں اپنی منفرد شناخت قائم کر سکتا ہے۔ان کی اس منفرد  سفر کی خبر سامنے آنے کے بعد مقامی لوگوں میں جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مختلف سماجی تنظیموں اور مقامی باشندوں نے دونوں نوجوانوں کے حوصلے اور اپنے علاقے کی ترقی کے لیے اٹھائے گئے اس قدم کی بھرپور تعریف کی ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں جہاں اکثر افراد صرف اپنی ذاتی مشکلات تک محدود رہتے ہیں، وہاں عرفان آوانہ اور امیت سنگھ پورے پیر پنجال خطے کی نمائندگی کرتے ہوئے پیدل دہلی جا رہے ہیں، جو یقیناً ایک قابلِ ستائش مثال ہے۔
دونوں نوجوانوں نے بتایا کہ سفر کے دوران عوام کی جانب سے بھرپور محبت، تعاون اور حوصلہ افزائی مل رہی ہے۔ راستے میں ملنے والے لوگ انہیں کھانے پینے کی اشیا اور دیگر ضروری سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق عوام کی اس محبت نے ان کے حوصلے کو مزید مضبوط کیا ہے۔
انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ کر وزیرِ اعظم کے سامنے پیر پنجال خطے کی ترقی، سیاحت کے فروغ، بہتر سڑکوں، صحت اور تعلیم سے متعلق مسائل کو مؤثر انداز میں پیش کریں گے تاکہ آنے والے وقت میں اس خطے کے عوام کو ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع میسر آ سکیں۔ عرفان آوانہ اور امیت سنگھ کا یہ سفر محض راجوری سے دہلی تک کا فاصلہ طے کرنے کی کوشش نہیں بلکہ امید، عزم، قومی یکجہتی اور عوامی خدمت کے جذبے کی ایک زندہ مثال ہے۔ ان دونوں نوجوانوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت خالص ہو اور مقصد عوام کی بھلائی ہو تو محدود وسائل بھی بڑے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے۔