آئی آر سی ٹی سی کھوٹالہ:لالو پرساد پہنچے ہائی کورٹ

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 03-01-2026
آئی آر سی ٹی سی کھوٹالہ:لالو پرساد پہنچے ہائی کورٹ
آئی آر سی ٹی سی کھوٹالہ:لالو پرساد پہنچے ہائی کورٹ

 



نئی دہلی : بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو نے مبینہ آئی آر سی ٹی سی گھوٹالے میں ان کے خلاف بدعنوانی اور مجرمانہ سازش کے الزامات عائد کرنے والے ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

یہ عرضی پیر کے روز جسٹس سورنا کانتا شرما کے روبرو سماعت کے لیے درج کی گئی ہے۔ اکتوبر 2025 میں ٹرائل کورٹ نے انڈین ریلوے کیٹرنگ اینڈ ٹورزم کارپوریشن (IRCTC) کی جانب سے ٹینڈرز دیے جانے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں لالو پرساد یادو کے خلاف الزامات طے کیے تھے۔

اس مقدمے میں لالو پرساد یادو کی اہلیہ، بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی اور ان کے بیٹے تیجسوی یادو، جو اس وقت بہار اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ہیں، کو بھی مجرمانہ سازش اور دھوکہ دہی سمیت دیگر الزامات کے تحت نامزد کیا گیا ہے۔

الزامات طے کرتے وقت راؤس ایونیو عدالت کے خصوصی جج (انسدادِ بدعنوانی ایکٹ) وشال گوگنے نے مشاہدہ کیا کہ لالو پرساد یادو نے بطور مرکزی وزیر ریلوے اپنے عہدے کا مبینہ طور پر ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے زمین کے ٹینڈر کے عمل میں اہلیت کی شرائط میں رد و بدل کیا۔ عدالت نے کہا کہ لالو پرساد یادو مبینہ سازش سے مکمل طور پر واقف تھے اور انہوں نے فیصلہ سازی کے عمل میں براہِ راست مداخلت کی، جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔

یہ مقدمہ 2017 میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے درج ایف آئی آر سے شروع ہوا تھا، جس میں لالو پرساد یادو، ان کے اہلِ خانہ، آئی آر سی ٹی سی کے افسران اور دیگر نجی افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔

سی بی آئی کا الزام ہے کہ 2004 سے 2009 کے درمیان، جب لالو پرساد یادو وزیر ریلوے تھے، پٹنہ اور پوری میں واقع آئی آر سی ٹی سی کے ہوٹلوں کے ٹینڈرز من پسند فریقوں کو دینے کے لیے ایک مجرمانہ سازش کی گئی، جس کے بدلے رشوت کے طور پر قیمتی زمین اور شیئرز حاصل کیے گئے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سی بی آئی نے لالو پرساد یادو سمیت 11 دیگر ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔