سوامی رام تیرتھ سے اقبال کا خاص تعلق

Story by  غوث سیوانی | Posted by  [email protected] | Date 08-09-2026
سوامی رام تیرتھ سے اقبال کا خاص تعلق
سوامی رام تیرتھ سے اقبال کا خاص تعلق

 



غوث سیوانی،نئی دہلی

اردو زبان نے جس طرح مختلف زبانوں کے الفاظ لئے ہیں،اسی طرح اس نے مختلف تہذیبوں کو بھی اپنے وسیع دامن میں سمیٹا ہے۔اس کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی کشادہ دلی، مذہبی رواداری اور انسانی اخوت ہے۔اردو زبان کے شاعروں نے سبھی مذاہب کی شخصیات پر نظمیں کہی ہیں اور اس کی سب سے بہترین مثال علامہ اقبال ہیں جن کی شاعری اگرچہ اسلامی فکر سے لبریز ہے،باوجود اس کے انہوں نے ہندوشخصیات پر نظمیں لکھی ہیں۔ اقبال کے ممدوحوں میں سوامی رام تیرتھ بھی شامل ہیں۔ حالانکہ اقبال نے بھگوان رام ،گرونانک جی اور گوتم بدھ کے ساتھ سری کرشن جی کی بھی مدح کی ہے مگر سوامی جی کی خاص بات یہ تھی کہ اقبال ان سے ذاتی طور پر بھی واقف تھے۔سوامی جی اپنے عہد کے ایک معروف  ہندو فلسفی اور ویدانتی سنت تھے جن کی شخصیت پر اقبال نے ایک خوبصورت نظم لکھی تھی۔آخر سوامی جی کون تھے جن کی شخصیت نے اقبال جیسی علمی شخصیت کو متاثر کیا تھا؟آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں ۔

سوامی رام تیرتھ کون تھے؟

سوامی رام تیرتھ کی پیدائش 22 اکتوبر 1873ء کو موجودہ پاکستان کے ضلع گوجرانوالہ کے ایک برہمن خاندان میں ہوئی۔ ان کا اصل نام تیرتھ رام تھا۔ بچپن ہی سے وہ غیر معمولی ذہانت کے حامل تھے، مگر ان کی زندگی آسان نہ تھی۔ غربت، بھوک اور معاشی مشکلات کے باوجود انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنی محنت سے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ لاہور آئے اور پنجاب یونیورسٹی سے بی اے میں پورے صوبے میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جس پر انہیں ماہانہ نوّے روپے کی اسکالرشپ ملی۔ بعد ازاں انہوں نے ریاضی میں ایم اے کیا اور اسی ادارے میں ریاضی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ان کی تعلیم مدرسے سے ہوئی تھی اور اردو وفارسی میں مہارت رکھتے تھے، بعد میں انہوں نے سنسکرت میں بھی سیکھ لی تھی۔ ایک پروفیسر کے طور پر انہیں جو تنخواہ ملتی تھی،اس کا بڑا حصہ غریبوں کی مدد میں خرچ کرتے تھے۔ خاص طور پر غریب طلبہ کی تعلیم میں وہ مددگار تھے۔ وہ اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ غریب طلبہ کی تعلیم پر خرچ کر دیتے تھے اور خود نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے۔

لاہور ہی میں انہیں سوامی وویکانند کی تقریر سننے کا موقع ملا، جس نے ان کی روحانی سوچ پر گہرا اثر ڈالا۔ وہ اس زمانے میں پنجاب کی سناتن دھرم سبھا سے بھی وابستہ تھے۔

روحانیت کی تلاش

سوامی رام تیرتھ نے صرف ہندو مذہبی متون ہی نہیں بلکہ تلسی داس، سورداس، گرو نانک، شمس تبریزی، مولانا جلال الدین رومی اور دیگر صوفی بزرگوں کے افکار کا بھی گہرائی سے مطالعہ کیا۔ انہوں نے گیتا، وید، اپنشد اور مغربی فلسفیوں کی کتابوں سے بھی استفادہ کیا۔

ان کی علمی دلچسپی کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے اردو زبان میں "الف" کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا، جس کے ذریعے اپنے خیالات پیش کیے۔ 1901ء میں انہوں نے پروفیسرکے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اہلِ خانہ کے ساتھ ہمالیہ کا رخ کیا۔ کچھ عرصے بعد دوارکا پیٹھ کے شنکراچاریہ کی ہدایت پر سنیاس اختیار کیا اور دنیاوی زندگی سے کنارہ کش ہو گئے۔

بیرونِ ملک تبلیغ

ہمالیہ میں قیام کے دوران ریاست ٹہری (گڑھوال) کے مہاراجہ ان کے عقیدت مند بن گئے اور انہی کی سرپرستی میں سوامی رام تیرتھ جاپان میں منعقد ہونے والی ایک مذہبی کانفرنس میں شریک ہوئے۔ وہاں سے وہ امریکہ اور مصر بھی گئے۔جاپان میں تقریباً ایک ماہ اور امریکہ میں دو برس تک انہوں نے مختلف مقامات پر لیکچر دیے۔ ان کا بنیادی پیغام یہی تھا:

"اپنے آپ کو پہچانو، تمہاری اصل حقیقت خدائی نور سے وابستہ ہے۔"

ان کی شخصیت میں ایسی روحانی کشش تھی کہ لوگ ان کی صحبت میں سکون اور اطمینان محسوس کرتے تھے لہٰذا ان کے عقیدت مندوں کی تعدادمیں اضافہ ہوتارہا۔

فرقہ بندی کے مخالف

سوامی جی اختلاف کی بجائے اتفاق میں یقین رکھتے تھے اور دنیا کو اسی کی دعوت دیتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ1904ء میں جب وہ وطن واپس آئے تو ان کے پیروکاروں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنا الگ مذہبی فرقہ  قائم کریں، مگر انہوں نے اس سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ انسانوں کے درمیان نئے اختلافات پیدا کرنے کے بجائے اتحاد پیدا کرنا چاہیے۔لوگوں کو اختلاف نہیں اتحاد اور نظم وضبط کی ضرورت ہے۔

فلسفہ ویدانت کے پیروکار

سوامی رام تیرتھ فلسفۂ ویدانت کے ماننے والے تھے اور وحدتِ وجود کا جو نظریہ آدی شنکر آچاریہ نے پیش کیا تھا اور ہندو اہل علم میں جاری تھا،اسی کے قائل تھے،وہ ویدانت اور یوگ کے موضوع پر کتابیں پڑھا کرتے تھے اور ایسےہی موضوعات پر تقریریں بھی کرتے تھے۔ ان کے نزدیک پوری کائنات ایک ہی روح کے مختلف مظاہر ہیں۔ وہ انسانیت کو مذہب، ذات، خاندان اور سماجی تقسیم سے اوپر اٹھ کر دیکھنے کی تلقین کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ انسان اپنی خوشی کو کبھی دولت، کبھی اشیا اور کبھی لوگوں میں تلاش کرتا ہے، جبکہ حقیقی خوشی اس کے اپنے باطن اور روح میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ تنگ نظری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان خود کو صرف اپنے محدود دائرے تک قید کر لیتا ہے، جبکہ اصل انسانیت ان دائروں سے باہر نکلنے میں ہے۔

قوم پرستی اور حب الوطنی

سوامی رام تیرتھ ایک سچے محبِ وطن بھی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دور میں سب سے بڑا مذہب "راشٹردھرم" یعنی قومی خدمت ہے۔ ان کے نزدیک ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ اپنی صلاحیتیں ملک اور معاشرے کی ترقی کے لیے وقف کرے۔ انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ بیسویں صدی کے وسط تک ہندوستان آزاد ہوگا۔ انہوں نے انقلابی مفکر لالہ ہردیال کو ایک خط میں مشورہ دیا تھا کہ وہ ہندی زبان میں تبلیغ کریں، کیونکہ ان کے خیال میں آزاد ہندوستان کی قومی زبان ہندی ہوگی۔

آخری ایام

سوامی رام تیرتھ کو ٹہری (گڑھوال) سے خصوصی روحانی وابستگی تھی۔ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام بھی وہیں گزارنے واپس آئے۔ 1906ء کی دیوالی کے دن انہوں نے موت کے نام ایک پیغام لکھا اور گنگا کے سپرد کر دیا۔ اسی سال 27 اکتوبر 1906ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ سوامی جی نے اپنی مرضی سے خود کو ندی کے حوالے کیا تھا۔ان کے پسماندگان میں والدین کے علاوہ ایک بیوی اور دوبچے بھی تھے۔

اقبال اور سوامی تیرتھ

اقبال کا سوامی رام تیرتھ سے خاص تعلق خاطر تھا۔ وہ سوامی جی کو بے حداحترام کی نظر سے دیکھتے تھے جس کا اظہار انہوں نے اپنی نظم میں ہی نہیں بلکہ خطوط میں بھی کیا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کرتے تھے۔ اقبال اور سوامی جی ایک ہی کالج میں پڑھاتے تھے اور ایک دوسرے کے دوست بھی تھے۔ اقبال انہیں اس لئے بھی پسند کرتے تھے کہ سوامی جی اسی فلسفہ ویدانت کے ماننے والے تھے جس کا قدیم ہندوستان میں رواج تھا اور بعد کے دور میں بھی ہندو اہل علم اس کے قائل رہے۔اقبال اور سوامی جی کے بیچ گہری دوستی تھی۔ دونوں دورطالبعلمی سے دوست تھے اور یہ دوستی سوامی جی کے آخری وقت تک برقرار رہی۔ ان کے ایک سوانح نگار لکھتے ہیں:

awaz

"لاہور میں سوامی رام کی شاعر مشرق اقبال سے بڑی گہری دوستی ہوگئی ۔ دونوں ایک ساتھ پڑھے اور جوان ہوئے. دونوں شاعر، فلسفی اور عالم تھے. اور دل و جان سے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ دونوں نے اہل قلم کی حیثیت سے کمال حاصل کیا ۔ ہندوستان ہی میں نہیں دنیا بھر میں نام پیدا کیا. اور اپنے پیچھے نظم و نثر کا ایک بھاری ذخیرہ چھوڑ گئے۔

کہتے ہیں کہ سر محمد اقبال کے ملاقاتی اگر ان کو اپنے کمرے میں نہ پاتے تو سمجھ لیتے کہ اقبال اپنے دوست تیر تھ رام کے ہاں ہوں گے۔ اسی طرح اگر تیرتھ رام (بعد کے سوامی رام تیرتھ ) کی تلاش ہوتی تو انہیں اقبال ہی کے ہاں پایا جاتا ۔ رام اور اقبال ادب تاریخ ، فلسفہ ، مذہب اور شاعری کے مضامین پر آپس میں تبادلہ خیالات کرتے ۔ زندگی کے نکات پر بحث ہوتی ۔ اور چونکہ دونوں ذہن کے بڑے تیز تھے اس لئے اس طرح کے بحث مباحثوں سے ایک دوسرے کو جلا ملتی۔ دونوں کو نئے نئے زاویے، نئی نئی باتیں ملتیں۔ دونوں ایک دوسرے کے قدردان تھے ۔ ایک دوسرے کے دوست ایک دوسرے کے ہمدرد اور دکھ درد میں شریک تھے۔

ایک رات سوامی رام کو سخت پیٹ درد کی شکایت ہو گئی۔ درد تھا کہ کسی طرح کم نہ ہوتا تھا۔ اس وقت علامہ اقبال سوامی رام کے سرہانے موجود تھے۔ انہوں نے دوا دارو کی صلاح دی لیکن رام ایک نہ مانے، وہ درد کے باوجود مسکراتے رہے تھے اور کہہ رہے تھے دوا کی کیا ضرورت ہے، درد ایسے ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ درد ساری رات بدستور رہا۔ اگلی صبح تک طبیعت بحال ہوگئی لیکن رام دوا کھانے کو تیار نہ ہوئے۔"

 سوامی رام تیرتھ، مصنف اندرجیت لال، ص, 24- 25

 سوامی جی نے بہت کم عمر پائی۔ محض ٣٢سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی مگر اس کم مدت میں انہوں نے اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد کچھ مدت کالج میں ریاضی  پڑھایا اور پھر  استعفیٰ دے کر ایک سنیاسی کے طور پر دنیا کے مختلف ملکوں میں اپنے نظریے کی تبلیغ کے لئے  گئے۔اقبال ،ان کے نظریے سے خود کو ہم آہنگ پاتے تھے اور ان کے سماجی کاموں سے متاثر تھے۔ ماناجاتا ہے کہ اقبال کے فلسفہ خودی کے فروغ میں سوامی جی کی تعلیمات کا بھی اثر رہا ہے ۔ سوامی جی کی جواں عمری میں وفات کی خبر نے بھی اقبال کو مضطرب کردیا تھا۔

  سوامی رام تیرتھ سے اقبال کے تعلق خاطر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب سوامی جی نے کالج سے استعفیٰ دیا تو لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا اور بہت سے لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ ان کا دماغ خراب ہوگیا ہے اور وہ پاگل ہوگئے ہیں۔ ایسے میں اقبال نے ان کی حمایت کی اور کہا :

’’ اگر سوامی رام تیرتھ پاگل ہیں تو دنیا میں عقل و ہوش کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا یہ وہی دیوانگی ہے جو Spinozaکو لاحق تھی یا کسی پیغمبر کو عظمت عطا کر تی ہے ۔ ‘‘

                                    بحوالہ ۔ اقبال شاعر اور سیاست داں ، ڈاکٹر رفیق زکریا ۔ص ۔66

اقبال کی نظم سوامی رام تیرتھ

سوامی رام تیرتھ کے غرق آب ہونے کی خبر نے سوامی جی کے عقیدت مندوں اور دوستوں کو انتہائی صدمے میں مبتلا کردیا۔ علامہ اقبال بھی ان کے خاص دوست تھے اور یہ خبر ان پر بجلی بن کر گری۔ اقبال نے اس غمناک حالت میں ایک نظم لکھی جس کا عنوان تھا "سوامی رام تیرتھ"۔ اس نظم میں غم کی کیفیت کے اظہار کے ساتھ ساتھ سوامی جی کے روحانی ارتقا کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔نظم درج ذیل ہے:

ہم بغل دريا سے ہے اے قطرہ بے تاب تو

پہلے گوہر تھا ، بنا اب گوہر ناياب تو

آہ کھولا کس ادا سے تو نے راز رنگ و بو

ميں ابھي تک ہوں اسير امتياز رنگ و بو

مٹ کے غوغا زندگي کا شورش محشر بنا

يہ شرارہ بجھ کے آتش خانہ آزر بنا

نفي ہستي اک کرشمہ ہے دل آگاہ کا

'لا' کے دريا ميں نہاں موتي ہے 'الااللہ' کا

چشم نابينا سے مخفي معني انجام ہے

تھم گئي جس دم تڑپ ، سيماب سيم خام ہے

توڑ ديتا ہے بت ہستي کو ابراہيم عشق

ہوش کا دارو ہے گويا مستي تسنيم عشق

awaz

رامانیشورم:سوامی تیرتھ کامجسمہ

اس نظم کے سب سے پہلے شعر میں ہی اقبال براہِ راست سوامی رام تیرتھ کو مخاطب کرتے ہیں۔ "قطرہ" سوامی جی کی انفرادی شخصیت کی علامت ہے اور "دریا" ذاتِ الٰہی یا حقیقتِ مطلق کا استعارہ ہے۔ سوامی رام تیرتھ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں دریائے گنگا میں جل سمادھی اختیار کی تھی۔ اقبال نہایت لطیف انداز میں کہتے ہیں کہ اے بے قرار قطرے! اب تو دریا کے ساتھ ہم کنار ہو گیا ہے، یعنی اپنی اصل حقیقت میں جا ملا ہے۔ زندگی میں تم ایک قیمتی موتی تھے، لیکن موت کے بعد تمہاری عظمت اور بھی نمایاں ہو گئی اور تم ایک نایاب گوہر بن گئے۔

نظم کے دوسرے شعر میں اقبال، سوامی رام تیرتھ کے روحانی مقام پر رشک کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تم نے دنیا کے رنگ، نسل، مذہب اور ظاہری امتیازات کی حقیقت کو سمجھ لیا تھا۔ تمہاری نظر میں پوری انسانیت ایک تھی۔ لیکن میں ابھی تک دنیا کے انہی ظاہری فرقوں، رنگوں اور امتیازات میں الجھا ہوا ہوں۔ اس شعر میں اقبال سوامی رام تیرتھ کی عالم گیر انسان دوستی اور وحدتِ انسانیت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

اگرمجموعی طور پر دیکھیں تو یہ نظم سوامی رام تیرتھ کی وفات پر ایک مرثیہ ضرور ہے، لیکن یہ محض غم کا اظہار نہیں بلکہ ان کی روحانی عظمت کا اعتراف بھی ہے۔ اقبال نے ایک مسلمان شاعر ہوتے ہوئے ایک ہندو سنیاسی کو اس لیے خراجِ عقیدت پیش کیا کہ ان کی نظر میں سوامی رام تیرتھ نے مذہبی تعصبات سے بلند ہو کر خدا کی معرفت، انسان دوستی، ترکِ نفس اور عشقِ حقیقی کی راہ اختیار کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شاعراسلام اقبال نے اسلامی استعاروں کے ذریعے سوامی جی کی عظمت کو پیش کیا ہے، جیسے لا الٰہ الا اللہ، ابراہیمؑ، آزر اور تسنیم کے ذریعے یہ واضح کیا کہ سچی روحانیت کسی ایک مذہب کی میراث نہیں، بلکہ وہ ایک آفاقی حقیقت ہے۔ اسی لیے یہ نظم بین المذاہب احترام، روحانی وحدت اور انسانی عظمت کا ایک خوب صورت نمونہ سمجھی جاتی ہے۔