غوث سیوانی، نئی دہلی
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردناداں پر کلام نرم ونازک بے اثر
اقبال نے اس شعر کو "بال جبریل "کا عنوان بنایا،اسی کے ساتھ انہوں نے یہ وضاحت بھی ہے کہ یہ شعر بھرتری ہری کے فکری اثاثہ سے ماخوذ ہے۔اردو والے سنسکرت کے شاعروں کے نام سے کم ہی واقف ہیں مگر بھرتری ہری کے نام سے کلیات اقبال پڑھنے والے اس ایک شعر کے سبب آگاہ ہیں۔حالانکہ ہندوستان سے زیادہ مغربی ممالک میں سنسکرت کے اس شاعر کو پڑھا جارہا ہے اور اُس کے تراجم ہورہے ہیں۔وہ اقبال کا ممدوح شاعر ہے اور اس کے بارے میں اقبال نے فارسی زبان میں خاصا لکھا ہے۔
موجودہ دور میں لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ بھرتری ہری کون تھا؟ کس دور میں تھا اور اس نے کیا کیا لکھا ہے؟آخر کیا سبب ہے کہ اقبال اِس قدیم دور کے شاعر کو پسند کرتے تھے اور اس کا ذکر بھی احترام سے کیا ہے؟ حالانکہ بھرترہری کے بارے میں مستند معلومات کی بہت کمی ہے پھر بھی آئیے کچھ باتیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
بھرتری ہری کون؟
بھرتری ہری سنسکرت ادب کا ایک ممتاز شاعر تھا،جس کی تحریریں قدیم ہندوستان کا ادبی ، فکری وعلمی اثاثہ ہیں۔اس کی تحریروں کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں ہواہے۔ اقبال نے بھی اسے پڑھا تھا اور متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔محققین کے مطابق بھرتری ہری نے جنسیات سے لے کر اخلاقیات تک پرلکھا ہے اور اس نے کئی کتابیں پیچھے چھوڑی تھیں۔ مشہور ہے کہ اس کی تین طبع زاد تخلیقات ہیں ، جن کے نام نیتی شتک، شرنگار شتک اور ویراگیہ شتک ہیں اور ان کے مجموعے کو "شتک ترئی" کہا جاتا ہے۔نیتی شتک میں اخلاقیات وحکمت کے موضوع پر بیان ہے جب کہ شرنگار شتک میں حسن وجوانی اور جذبات محبت کا اظہار ہے۔
تیسری تصنیف ویراگیہ شتک میں صوفیانہ مضامین ہیں جیسے دنیا کی بے ثباتی، ترکِ دنیا اور روحانی سکون وغیرہ۔ یہ تینوں مجموعے آج بھی سنسکرت ادب کی بہترین تخلیقات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ بھرتری ہری نے انتہائی سادہ اور دلنشیں پیرائے میں اظہارخیال کیا ہے۔یہی سبب ہے کہ صدیاں بیتنے کے بعد بھی اس کی شاعری زندہ ہے اور اس کے بارے میں لوگ جاننا چاہتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ بھرتری ہری کے بارے میں تاریخی معلومات محدود ہیں۔ قیاس ہے کہ پانچویں سے ساتویں صدی عیسوی کے درمیان کے دور میں وہ رہا ہوگا۔مشہور ہے کہ وہ کسی علاقے کا راجہ تھا۔یہ بھی روایت ہے کہ وہ راجہ نہیں تھا بلکہ کسی راجہ کا درباری شاعر تھا۔یہ بھی کہاجاتا ہے کہ کسی عورت کی بے وفائی نے اسے عورتوں سے متنفر کردیا تھالہذا وہ اپنی تحریروں میں اسی سے متعلق مضامین پیش کرتا تھا۔
اقبال تو بھرتری ہری کے مداح ہیں مگر ان کے علاوہ بھی اردو زبان کے بہت سے شاعروں نے اس کی خوشہ چینی کی ہے یاترجمہ کیا ہےجن میں مرزاجعفر علی خان اثرلکھنوی،بابوگوری شنکر لعل اختر، رگھویندر رائو جذب،حسن نعیم شامل ہیں۔ بھرتری ہری کے اشلوکوں کے تراجم یوروپی زبانوں میں بھی ہوئے ہیں اور اب بھی محققین تلاش وجستجو کر رہے ہیں۔

اجین:بھرتری ہری غار
اقبال اور بھرتر ہری کی تخیلی ملاقات
علامہ اقبال نے اپنی طویل فارسی نظم "جاوید نامہ" میں جو آسمانی جنت کے اندر بھرتری ہری سے ملاقات کا تخیلی منظر پیش کیا ہے،وہ بہت ہی دلچسپ ہے۔ انہوں نے سنسکرت کے اس ممتاز شاعر اور فلسفی کو بے حد احترام کے ساتھ پیش کیا ہے اور اچھے القاب سے یاد کیا ہے۔اس کاآغاز کچھ یوں ہوتا ہے:
حوریان را در قصور و در خیام
نالہء من دعوت سوز تمام
آن یکے از خیمہ سر بیروں کشید
وان دگر از غرفہ رخ بنمود و دید
ہر دلے را در بہشت جاودان
دادم از درد و غم آں خاکدان
زیر لب خندید پیر پاک زاد
گفت اے جادوگر ہندی نژاد
آن نوا پرداز ہندی را نگر
شبنم از فیض نگاہ او گہر
ان فارسی اشعار کا آسان مطلب یوں ہے:
حوروں کو ان کے محلات اور خیموں میں، میرے نالۂ سوزاں نے پوری شدت سے پکارا
ایک حور نے خیمے سے سر باہر نکالا، اور دوسری نے اپنے بالا خانے سے چہرے کو نکال کر دیکھا۔
میں نے جنتِ جاوداں کے ہر دل میں، اس خاکی دنیا یعنی ہندوستان کے درد و غم کی تڑپ پیدا کر دی
یہ سن کر وہ پاکیزہ بزرگ مسکرا دیےاور فرمایا: اے ہندی نسل کے جادوگر!
اس نغمہ ساز ہندوستانی(بھرترہری) کو دیکھو، جس کی نگاہ کے فیض سے شبنم بھی موتی بن جاتی ہے۔
اس نظم میں بھرترہری کے ساتھ ایک طویل مکالمہ ہے اور اس کے بارے میں اقبال کے خیالات ہیں جو مولانا جلال الدین رومی اور اقبال کی زبان سے ادا ہوئے ہیں جن کا مفہوم کچھ یوں ہے:
وہ نکتہ آفرین، جس کا نام بھرتری ہری ہے،اس کی فطرت آذر کے بادل کی مانند فیض رساں ہے۔
اس نے دنیا کے گلشن سے صرف تازہ کھلنے والی کلیاں ہی چنی ہیں،تمہارے نغمے نے اسے ہماری طرف کھینچ لیا ہے۔
وہ ایک ایسا بادشاہ ہے جس کی آواز نہایت بلند مرتبہ ہے،اور فقر و درویشی میں بھی اس کا مقام بہت اونچا ہے۔
وہ اپنی گہری فکر سے ایسا حسین نقش بناتا ہے،کہ دو لفظوں میں معنی کی پوری ایک دنیا سمو دیتا ہے۔
وہ زندگی کے کارخانے کے رازوں سے خوب واقف ہے،وہ گویا جمشید ہے اور اس کا کلام جامِ جم کی مانند ہے۔
ہم اس کے فن کے احترام میں کھڑے ہو گئے،اور پھر اس کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ شروع کیا۔
اس کے بعد اقبال نے بھرترہری سے سوال کیا کہ اے وہ شخص جس نے دل کو لبھانے والے حکمت بھرے نکات بیان کیے ہیں، مشرق تیرے کلام سے اسرارِ حیات کا شناسا ہوا ہے۔مجھے بتا کہ شاعری میں یہ سوز و گداز کہاں سے آتا ہے؟ کیا یہ انسان کی خودی سے پیدا ہوتا ہے یا خدا کی طرف سے عطا ہوتا ہے؟
اس سوال کا جواب بھرترہری کی طرف سے آتا ہے کہ:
دنیا میں کوئی نہیں جانتا کہ شاعر کی اصل منزل کہاں ہے، اس کا پردہ تو نغمے کے زیر و بم میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
اس کے سینے میں جو گرم اور تڑپتا ہوا دل ہے،وہ خدا کے حضور بھی چین سے نہیں ٹھہرتا۔
ہماری جان کی لذت تو مسلسل جستجو میں ہے،اور شاعری کا سوز آرزو کے مقام سے جنم لیتا ہے۔
اے وہ شخص جو سخن کی مے سے ہمیشہ سرشار رہتا ہے!اگر تجھے بھی یہ بلند مقام حاصل ہو جائے،تو صرف دو اشعار کے ذریعےاس مادی دنیا میں رہتے ہوئے بھی جنت کی حوروں کے دل جیت سکتا ہے۔
اس کے بعد اقبال کہتے ہیں کہ میں نے اہلِ ہندوستان کو بے چینی اور اضطراب میں مبتلا دیکھا ہے،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حق کا راز بے پردہ بیان کر دیا جائے۔
پھر بھرتری ہری کی طرف سے جواب ملتا ہے۔ یہ پتھر اور اینٹ کے بنے ہوئے کمزور خداؤں کو چھوڑ دو،ایک برتر حقیقت بھی ہے، جو مندر اور آتش کدے دونوں سے ماورا ہے۔
دل کی لذت اور شوق کے بغیر کیا گیا سجدہ بے روح ہوتا ہے،اور اپنی منزل تک نہیں پہنچتا۔ زندگی سراسر عمل کا نام ہے، خواہ وہ اچھا ہو یا برا۔
میں تم سے ایک ایسی بات کھول کر کہتا ہوں جسے ہر شخص نہیں جانتا،خوش نصیب ہے وہ بندہ جس کے دل کی تختی پر یہ حقیقت لکھ دی گئی ہو۔
یہ دنیا، جیسی تم اسے دیکھتے ہو، براہِ راست خدا کا بنایا ہوا نتیجہ نہیں، چرخ بھی تمہارا ہے اور وہ سوت بھی جسے تم تکلی پر کاتتے ہو۔
لہٰذا قانونِ جزا و سزا کے سامنے سرِ تسلیم خم کرو،کیونکہ دوزخ، اعراف اور جنت سب انسان کے اپنے اعمال سے وجود میں آتے ہیں۔

بھرتری ہری کی خیالی تصویر
علمی روایت کا احترام
بھرترہری کے تعلق سے مزید تفصیلات اقبال نے جاوید نامہ میں پیش کی ہیں مگر طوالت کے پیش نظر یہاں اختصار سے کام لیا گیاہے۔ سنسکرت کے ایک عہد قدیم کے شاعر کے تعلق سے اقبال کے اشعار اور ان کے جذبات سے ظاہر ہے کہ وہ ہندوستانی علمی وثقافتی روایت کے اس عظیم شخص کو کس احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اقبال کے اشعار ان کے اس بنیادی فلسفے کی عکاسی کرتے ہیں کہ انسان کی اصل عظمت دولت یا اقتدار میں نہیں، بلکہ ضبطِ نفس، ترکِ ہوس اور خود پر حکمرانی میں ہے، اور اسی نکتے کو انہوں نے بھرتری ہری کی زبان سے بیان کیا ہے۔
اقبال نے اسے ایک ایسے فلسفی، شاعر اور صاحبِ بصیرت انسان کے طور پر پیش کیاہے ہیں جس کی شاعری مختصر الفاظ میں گہرے معانی سمو دیتی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بھرتری ہری کا کلام زندگی کے اسرار و حقائق کو اسی طرح آشکار کرتا ہے جیسے روایت کے مطابق جامِ جم میں پوری دنیا کا حال نظر آ جاتا تھا۔اقبال نے بھرتری ہری کے بہانے سے ہندوستان کی صورت حال بھی بیان کی ہے اور تب کے انگریزوں کے قبضے والے ملک کے حالات پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ہندوستانیوں کو بیداری کا پیغام بھی دیا ہے۔