بھگوان رام سے اقبال کی عقیدت اور نظم "رام"

Story by  غوث سیوانی | Posted by  [email protected] | Date 30-08-2026
بھگوان رام سے اقبال کی عقیدت اور نظم
بھگوان رام سے اقبال کی عقیدت اور نظم "رام"

 



غوث سیوانی، نئی دہلی

علامہ محمد اقبال برصغیر کے ان عظیم مفکرین اور شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مذہب، تہذیب، انسانیت اور روحانیت کو وسیع تناظر میں دیکھا۔ اگرچہ اقبال ایک سچے مسلمان اور اسلامی احیاء کے علمبردار تھے، لیکن انہوں نے دوسرے مذاہب کی عظیم شخصیات اور ان کے نظریات کو بھی احترام کی نظر سے دیکھا اور ان کے نظریات وخیالات  پسند آئے تو انہیں سراہا۔ اقبال نے ہندووں کی جن شخصیات کا ذکراحترام کے ساتھ کیا ہے،ان میں مریاداپرشوتم بھگوان رام بھی شامل ہیں جن کے نام اور کام سے ہندوستان کا بچہ بچہ واقف ہے اور دنیا کے متعدد ملکوں میں ان کے قصے مشہور ہیں۔ اقبال نے  بھگوان رام کو نہایت احترام اور عقیدت کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کیاہے۔

کون ہیں بھگوان رام؟

بھگوان رام کی داستان ہندوستان میں صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ لوگ اسے زبانی طور پر ایک دوسرے  کو بیان کرتے آئے ہیں اوربچے اپنے بزرگوں سے سنتے آئے ہیں مگر قصے کا اصل مآخذ رامائن نامی  کتاب ہے جس کا فارسی زبان میں ترجمہ مغل عہد میں ہواتھا۔ رامائن کی روایت کے مطابق شری رام چندر جی ایودھیا کے راجہ دسرتھ کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ رام کی شادی سیتا نام کی ایک نیک خصلت خاتون سے ہوئی تھی۔ اپنے والد کےبعد رام جی کو تخت سلطنت پر بیٹھنا تھا مگر ان کی سوتیلی ماں نے انہیں بن واس پر بھیج دیا اور اپنے بیٹے بھرت کو راجہ  بنادیا۔رام جی کے ساتھ ان کے چھوٹے بھائی لکشمن اور ان کی بیوی سیتا بھی بنواس پر گئیں۔

جنگل میں بنواس کے دن گزارنے کے دوران لنکا کے راجہ راون نے سیتا کا اغوا کرلیا اور انہیں اپنے ملک لے گیا۔ رام جی نے ہنومان کی فوج کی مدد سے سیتا کو رہا کرایا اور چودہ سال جنگل میں بتانے کے بعد ایودھیا واپس آئے۔ اس دوران بھرت ان کی کھڑائوں کوراج گدی پر رکھ کر حکومت کر تے رہے۔ رام جی کی پوری داستان میں ان کی جواں مردی،انسانیت نوازی، والدین کی اطاعت شعاری کے جوہر نمایاں ہوکر سامنے آتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ صدیوں سے یہ کہانی ہندوستان کے بچہ بچہ کی زبان پر ہے اور ہر سال دسہرہ میں اس داستان کو رام لیلا کی شکل میں اسٹیج کیا جاتا ہے۔ رام کی داستان دنیا کے متعدد ملکوں میں معروف ہے جن میں انڈونیشیا، ملیشیا، کمبوڈیا،تھائی لینڈ وغیرہ شامل ہیں۔

اقبال کے لئے "رام" ایک حقیقی کردار

رامائن کی داستان کی تاریخی حقیقت کیا ہے؟ اس موضوع پر تاریخ دانوں نے خوب بحثیں کی ہیں اور اس کہانی  اور کہانی کے کرداروں کو اساطیر کا حصہ مانا ہے مگر اقبال نے رام کو ایک تاریخی کردار تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے رام کی تعریف نہ صرف اشعار میں کی ہے بلکہ نثر میں بھی کی ہے۔ ذرا اس اقتباس کو ملاحظہ فرمائیں:

"جس عروس معنی کو سری کرشن ،سری رام اور رام نوج بے نقاب کرنا چاہتے تھے سری شنکر کے منطقی طلسم نے اسے؟ محجوب کر دیا اور سری کرشن کی قوم ان کی تجدید کے ثمر سے محروم رہ گئی ۔"

 دیباچہ اسرارخودی

 اس عبارت کو پڑھ کر آپ کو نہیں لگتا کہ سری کرشن اور سری رام کو اقبال کوئی افسانوی کردار نہیں بلکہ حقیقی اور تاریخی کردار سمجھتے ہیں۔ اس عبارت میں اقبال ہندو فلسفے کے دو مختلف رجحانات کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک سری کرشن، سری رام اور رامانوج کی تعلیمات زندگی، اخلاق، عمل اور خدا سے قلبی تعلق پر مبنی تھیں۔ یہ شخصیات انسان کو عملی زندگی میں روحانی ارتقا، محبت، ایثار اور خدا سے تعلق کی دعوت دیتی تھیں۔ اقبال ان تعلیمات کو "عروسِ معنی" سے تعبیر کرتے ہیں، یعنی ایسی ابدی حقیقت جو انسان کی زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔

awaz

اقبال کی نظم "رام"

اقبال نے اپنی نثری تحریر کے ذریعہ واضح کردیا ہے کہ وہ رام اور کرشن کے کردار کو افسانوی نہیں بلکہ حقیقی سمجھتے ہیں۔ظاہر ہے کہ کوئی افسانوی کردار "امام ہند"کا مقام نہیں حاصل کرسکتا جو اقبال نے رام جی کو دیا ہے۔ان کی مشہور نظم "رام"، جو ان کے مجموعۂ کلام بانگِ درا میں شامل ہے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ رام کو صرف ہندوؤں کے مذہبی پیشوا کے طور پر نہیں بلکہ ہندوستان کی تہذیبی اور اخلاقی تاریخ کے ایک عظیم کردار کے طور پر دیکھتے تھے۔اقبال اپنی نظم کا آغاز ان الفاظ سے کرتے ہیں:

لبریز ہے شراب حقیقت سے جام ہند

سب فلسفی ہیں خطۂ مغرب کے رام ہند

اقبال کہتے ہیں کہ ہندوستان کی تہذیب اور روحانی روایت حقیقت، حکمت اور عرفان سے اس قدر مالا مال ہے جیسے کوئی جام بہترین شراب سے لبریز ہو۔ اس روحانی سرمائے کی ایک عظیم علامت بھگوان رام ہیں، جن کی شخصیت اخلاق، صداقت، ایثار اور روحانی عظمت کی نمائندہ ہے۔

دوسرے مصرعے میں اقبال  کہتے ہیں کہ مغرب کے تمام فلسفی بھی ہندوستان کے رام کے سامنے گویا شاگرد معلوم ہوتے ہیں۔ اس کا مقصد رام کی اخلاقی اور روحانی عظمت کو نمایاں کرنا ہے۔ اقبال کے نزدیک رام کی شخصیت محض فلسفیانہ بحثوں تک محدود نہیں بلکہ عملی کردار، اخلاق اور انسانیت کی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔اسی نظم میں وہ کہتے ہیں

ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز

اہلِ نظر سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند

یہ شعر اردو شاعری میں بھگوان رام کے بارے میں کہے گئے بلند ترین اشعار میں شمار ہوتا ہے۔ اقبال نے رام کو "امامِ ہند" کہا۔ یہاں "امام" کا لفظ مذہبی اصطلاح کے بجائے رہنما، پیشوا اور قوم کی اخلاقی قیادت کرنے والی شخصیت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اقبال کے نزدیک رام ہندوستانی تہذیب کی ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنے کردار اور اخلاق کے ذریعے قوم کی رہنمائی کی۔

آگے اقبال کہتے ہیں:

اعجاز اس چراغِ ہدایت کا ہے یہی

روشن تر از سحر ہے زمانے میں شامِ ہند

اس شعر میں اقبال رام کو "چراغِ ہدایت" قرار دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقبال تسلیم کرتے ہیں کہ رام کی تعلیمات اور کردار نے ہندوستان کی اخلاقی اور روحانی زندگی کو روشنی بخشی۔ اقبال کے نزدیک عظیم انسان وہی ہوتا ہے جو اپنے کردار سے معاشرے میں روشنی پیدا کرے۔

نظم کا آخری شعر ہے:

تلوار کا دھنی تھا، شجاعت میں فرد تھا

پاکیزگی میں جوشِ محبت میں فرد تھا

اس شعر میں اقبال، بھگوان رام کی جسمانی بہادری اور روحانی عظمت دونوں کو یکجا کرتے ہیں۔

پہلے مصرعے میں اقبال کہتے ہیں کہ رام تلوار کے ماہر، بہادر اور بے مثال جنگجو تھے۔ "تلوار کا دھنی" سے مراد یہ نہیں کہ وہ محض ایک سپاہی تھے، بلکہ اس سے ان کی جرات، عزم، قیادت اور حق کے لیے جدوجہد کی صلاحیت مراد ہے۔ "شجاعت میں فرد تھا" کے الفاظ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہ بہادری اور دلیری میں اپنی مثال آپ تھے۔

دوسرے مصرعے میں اقبال، رام کے باطنی اور اخلاقی کردار کو نمایاں کرتے ہیں۔ "پاکیزگی" سے مراد کردار کی بلندی، صداقت، دیانت اور اخلاقی طہارت ہے، جبکہ "جوشِ محبت" سے مراد انسانوں سے محبت، ہمدردی، ایثار اور وفاداری ہے۔ اقبال کے نزدیک رام کی عظمت صرف ان کی جنگی صلاحیت میں نہیں بلکہ ان کے پاکیزہ کردار اور محبت بھرے دل میں بھی مضمر تھی۔ اسی لیے وہ انہیں ان صفات میں بھی "فرد" یعنی بے مثال قرار دیتے ہیں۔

پوری نظم اس طرح ہے:

لبریز ہے شراب حقیقت سے جام ہند

سب فلسفی ہیں خطۂ مغرب کے رام ہند

یہ ہندیوں کی فکر فلک رس کا ہے اثر

رفعت میں آسماں سے بھی اونچا ہے بام ہند

اس دیس میں ہوئے ہیں ہزاروں ملک سرشت

مشہور جن کے دم سے ہے دنیا میں نام ہند

ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز

اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند

اعجاز اس چراغ ہدایت کا ہے یہی

روشن تر از سحر ہے زمانہ میں شام ہند

تلوار کا دھنی تھا شجاعت میں فرد تھا

پاکیزگی میں جوش محبت میں فرد تھا

اقبال کی نظر میں رام کی شخصیت

اقبال رام کو صرف ایک تاریخی یا مذہبی شخصیت نہیں سمجھتے بلکہ انہیں سچائی، قربانی، انصاف، وفاداری، صبر اور اخلاق کا مجسمہ تصور کرتے ہیں۔ رام کی زندگی میں باپ کی اطاعت، وعدے کی پاسداری، عدل و انصاف اور عوامی خدمت جیسے اوصاف نمایاں ہیں، اور یہی اوصاف اقبال کے نزدیک کسی بھی عظیم انسان کی پہچان ہیں۔

awaz

عثمانیہ یونیورسٹی،حیدرآباد میں اقبال

اقبال کی شاعری میں خودی کا تصور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ خودی کا مطلب محض خود پسندی نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق، کردار کی مضبوطی، ایثار، ضبطِ نفس اور حق پر قائم رہنا ہے۔ رام کی زندگی ان تمام اوصاف کی عملی مثال پیش کرتی ہے، اس لیے اقبال ان کا احترام کرتے ہیں۔

یہ نظم مذہبی رواداری، تہذیبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کی بہترین مثال ہے۔

اقبال کی نظم "رام" ان کی وسیع النظری، علمی دیانت اور انسان دوستی کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے بھگوان رام کو ہندوستان کی ایک عظیم اخلاقی اور تہذیبی شخصیت کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا اور انہیں "امامِ ہند" کا خطاب دیا۔ اقبال کی نظر میں کسی شخصیت کی عظمت اس کے مذہب سے زیادہ اس کے کردار، اخلاق اور انسانیت کی خدمت میں مضمر ہے۔