نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو اشارہ دیا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے افسر انکیت تیواری کے خلاف تمل ناڈو کے محکمۂ انسدادِ بدعنوانی و نگرانی (ڈی وی اے سی) میں درج رشوت ستانی کے مقدمے کی تحقیقات کسی مرکزی تفتیشی ایجنسی کے حوالے کی جا سکتی ہیں۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ وہ فی الحال ریاستی ایجنسی کی کارروائی پر عائد عبوری روک ہٹانے کے حق میں نہیں ہے۔
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ ای ڈی کی اس درخواست پر سماعت کر رہا تھا، جس میں مقدمے کی تحقیقات ڈی وی اے سی سے لے کر سی بی آئی کے سپرد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ جنوری 2024 میں سپریم کورٹ نے تمل ناڈو کی ایجنسی کی جانب سے درج ایف آئی آر پر مزید کارروائی پر عبوری روک لگا دی تھی۔
سماعت کے دوران تمل ناڈو حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل گرو کرشن کمار نے عدالت کو بتایا کہ ریاست نے عبوری حکم ختم کرنے کی درخواست دائر کی ہے تاکہ ای ڈی افسر کے خلاف تحقیقات آگے بڑھ سکیں۔ ریاستی ایجنسی کا الزام ہے کہ ای ڈی افسر انکیت تیواری کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا، اس لیے تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
تاہم سپریم کورٹ نے عندیہ دیا کہ ریاستی ایجنسی کے بجائے اس معاملے کی تحقیقات کسی دوسری مرکزی تفتیشی ایجنسی کو سونپی جا سکتی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے، "یا پھر ہم تحقیقات کسی مرکزی ایجنسی کے حوالے کر دیں۔" بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ فی الحال پہلے سے دی گئی عبوری راحت ختم نہیں کرے گا۔ چیف جسٹس نے کہا، "ہم عبوری روک نہیں ہٹائیں گے۔ ہم اصل مقدمے پر ہی فیصلہ کریں گے۔"