موجودہ عہد میں بین شعبہ جاتی تحقیق ناگزیر ہے :پروفیسر ثو بان سعید

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 03-04-2026
 موجودہ عہد میں بین شعبہ جاتی تحقیق ناگزیر ہے :پروفیسر ثو بان سعید
موجودہ عہد میں بین شعبہ جاتی تحقیق ناگزیر ہے :پروفیسر ثو بان سعید

 



لکھنؤ۔:موجودہ عہد میں بین شعبہ جاتی تحقیق ناگزیر ہے۔تحقیق کے اہم مقاصد میں اس کی اشاعت اور عصر حاضر میں اس کی کیا معنویت ہے نہایت ضروری ہے ان خیالات کا اظہار خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونی ورسٹی کے شعبہئ اردو کے صدر پروفیسر ثوبان سعید نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں پہلے یک روزہ ریسرچ اسکالرز سمینار میں کلیدی خطبہ کے دوران کیا۔ریسرچ اسکالرز سمینار کی صدارت پروفیسر گلفشاں حبیب (ڈین اسکول آف لینگویجز،لنگوسٹکس اینڈ انڈولوجی۔مانو حیدر آباد)نے فرمائی۔کیمپس کی انچارج پروفیسر ہما یعقو ب نے خیر مقدمی کلمات ادا کیے۔کیمپس کے ریسرچ اسکالرمحمد طارق نے قرآن پاک کی تلاوت اور ترجمہ پیش کیا۔نظامت تیمور احمد خاں نے کی اور شکریے کے کلمات اسما حسین نے ادا کیے۔
سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے پروفیسر ثو بان سعید نے تحقیق کی اخلاقیات پر زور دیا۔انھوں نے تحقیق کے تکنیکی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سرقہ کی متعدد قسموں میں اے آئی کا استعمال اب بہت رائج ہوچکا ہے اس سے بچنا چاہیے۔جامعات میں تحقیق کو اسی لیے اب باقاعدہ سافٹ ویئر کی مدد سے اسے چیک کیا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ تحقیق کو عام کرنا بھی ضروری ہے تاکہ دوسرے لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔اس موقع پر انھوں نے مختلف فن پاروں خصوصاً رشید حسن خاں کی تحقیقات سے مثالیں بھی پیش کیں۔انھوں نے ریسرچ اسکالر سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنی تحقیق میں مراجع و مصادر کا خاص اہتمام کریں اسی سے محقق کا اعتبار قائم ہوتا ہے۔پروفیسر ثو بان سعید نے کہا کہ تحقیق کے دومقاصد ہیں یعنی تحقیق کیوں کی جائے اور کیسے کی جائے۔ریسرچ اسکالر ان کے بغیر منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتے۔
پروفیسرہما یعقو ب نے اس موقع پر خیر مقدم کرتے ہوئے پہلے ریسرچ سمینار کے انعقاد پر مسرت کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ کیمپس کی پہچان کا ایک پہلو یہاں کے ریسرچ اسکالر کی تحقیقات بھی ہیں۔انھوں نے سمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج یہاں کے چار شعبوں (اردو،انگریزی،فارسی اور عربی) کے ریسرچ اسکالراپنے ریسرچ کے موضو عات کے حوالے سے مقالے پڑھیں گے۔
 صدارتی خطاب میں پروفیسر گلفشاں حبیب نے جہاں تحقیق کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی وہیں کہا کہ ہمیں اس بات پر بہت سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ہم اپنی تحقیق کو کس طرح مزید بہتر بنا سکتے ہیں اور لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کرسکتے ہیں۔اس موقع پر لکھنؤ کیمپس کے اس پہلے ریسرچ اسکالرسمینار کے انعقاد پر انھوں نے خاص طورپر مبارک باد پیش کی۔
سمینار کے تین تکینکی اجلاس ہوئے جس میں اسماحسین،محمد قاسم،نجم الثاقب،پی خواجہ معین الدین(شعبہ انگریزی)مریم خاتون،نفیسہ بتول،متہجد حسین،ماریہ خاتون،رقیہ تبسم،رضا عباس(شعبہ فارسی)فائزہ عریضی(شعبہ عربی)رابعہ بانو،محمد عمران،مہر النسا،عدیلہ،سیف الدین احمد،سعدیہ خاتون،حسیب الدین (شعبہ اردو)نے مقالے پڑھے۔مختلف تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر ہمایعقوب،ڈاکٹر نکہت فاطمہ،ڈاکٹر ثمامہ فیصل،ڈاکٹر مجاہد الاسلام،ڈاکٹر نور فاطمہ نے انجام دیے۔سمینار کے مختلف تکنیکی اجلاس کی نظامت نجم الثاقب،محمد عمران،ماریہ خاتون اور سعدیہ خاتون نے انجام دی۔
اختتامی اجلاس کیمپس کی انچارج پروفیسر ہما یعقوب کی صدارت میں منعقد ہوا۔اس اجلاس میں مقالہ پڑھنے والے تمام ریسرچ اسکالرکو ڈاکٹر شاہ محمد فائز(کواڈری نیٹرریسرچ اسکالر سمینار)اور ڈاکٹر عمیر منظر (کنوینرسمینار)کے دست مبارک سے سرٹیفکٹ دیے گئے۔پہلے ریسرچ اسکالرسمینار کے موقع پر کیمپس کے اساتذہ،طلبہ و طالبات نیز ڈاکٹر مجتبی حسن صدیقی،ڈاکٹر محمد سعید اختر اور ڈاکٹر محمد شفیق وغیرہ موجود تھے۔