احتجاج کرنے والوں پر پولس کی اندھادھند فائرنگ ایک وحشیانہ کارروائی : مولانا ارشدمدنی

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | 18 d ago
احتجاج کرنے والوں پر پولس کی اندھادھند فائرنگ ایک وحشیانہ کارروائی : مولانا ارشدمدنی
احتجاج کرنے والوں پر پولس کی اندھادھند فائرنگ ایک وحشیانہ کارروائی : مولانا ارشدمدنی

 

نئی دہلی،:  ہلدوانی میں پولس ایکشن کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے کہا کہ ہلدوانی میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے اوراحتجاج کرنے والوں پر مذہب کی بنیاد پرپولس کی اندھادھند فائرنگ ایک وحشیانہ کارروائی ہے۔
آج یہاں جاری ایک بیان میں مولانا مدنی نے کہاکہ جمعیۃعلماء ہندکا جو نمائندہ وفد متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے کے لئے آج ہلدوانی کے دورہ پرگیاتھا اس نے جو رپورٹ دی ہے وہ انتہائی روح فرساں ہے اوریہ بات بالکل آئینہ کی طرح صاف ہوکرسامنے آگئی ہے کہ پولس اورانتظامیہ کا رول بہت خراب رہاہے، رپورٹ کے مطابق پولیس ظلم و زیادتی کی تمام حدوں کو توڑتے ہوئے لوگوں کو گرفتار کر رہی ہے یہاں تک کہ دروازہ توڑ کر اور جبرا گھروں میں گھس کر مرد و خواتین کو زد و کوب بھی کر رہی ہے، پولس کی زیادتی اورخوف کی وجہ سے اب تک ہزاروں لوگ فسادزدہ علاقے سے نقل مکانی کرچکے ہیں یہ ظلم کی انتہا ہے اور کوئی بھی انصاف پسند معاشرہ اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ہم نے اس سلسلے میں اتراکھنڈ کے ڈی جی پی کو کل ایک خط لکھ کر مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں فوری توجہ دیں اور پولیس بے گناہ شہریوں پر جو زیادتیاں کر رہی ہے اسے ایسا کرنے سے نہ صرف روکا جائے بلکہ گرفتاریوں کا جو مذموم سلسلہ شروع ہوا ہے اسے بھی فورا بند کیا جانا چاہئے اور اس پورے واقعے کی منصفانہ جانچ بھی ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ پولس اور انتظامیہ نے اگر ایماندارانہ طریقہ سے اس معاملہ کو حل کرنے کی کوشش کی ہوتی تو شاید اس سانحہ کو رونماہونے سے روکاجاسکتاتھا، لیکن ایسا کرنے کی جگہ پولس نے طاقت کے استعمال کو ترجیح دی، جس سے صورتحال مزیدبگڑگئی اورپانچ بے گناہ افرادکو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔
مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ جب معاملہ عدالت میں تھا توانتظامیہ کو مسجداورمدرسے کو منہدم کرنے کی اتنی جلدی کیوں تھی؟ میری معلومات کے مطابق اس کیس کی سماعت 8 فروری کو ہائی کورٹ میں گیارہ بجے ہوئی تھی اورکورٹ نے 14فروری کو اس کی دوبارہ سماعت کی تاریخ مقررکی تھی، انتظامیہ کو جب تک انتظارکرنا چاہئے تھا، لیکن اسی دن یعنی 8 فروری کو شام تقریبا پانچ بجے مسجد اورمدرسہ کو منہدم کرنے کے لئے نگر نگم اورانتظامیہ کے لوگ پہنچ گئے اور عجلت کا مظاہرہ کیا گیا اس سے یہ افسوسناک حقیقت بہرحال اجاگر ہوگئی کہ انتظامیہ کی نیت صاف نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں جو معلومات فراہم کی گئی ہے کہ یہ زمین 1937میں برطانوی دورحکومت میں ایک شخص کو لیز پر دی گئی تھی، جس پر مسلمان آبادہوئے اورمسجد اورمدرسہ بھی تعمیر کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ پولس کارروائی پر اب یہ دلیل دی جارہی ہے کہ مقامی لوگ تشددپر آمادہ تھے اوراپنے گھروں کی چھتوں سے سنگ باری کررہے تھے، جس پر قابوپانے کے لئے پولس کو فائرنگ کرنی پڑی۔ یہ بھی مشتہر کیا جارہا ہے کہ پولس پر منصوبہ بند طریقہ سے حملہ کیا گیا، ظاہر ہے کہ اس طرح کی باتیں اب معاملہ کی لیپاپوتی کرنے اورفائرنگ کو درست ثابت کرنے کے لئے کی جارہی ہے، مقامی لوگ تو انتظامیہ کے خلاف احتجاج کررہے تھے اور یہ کوئی جرم نہیں ہے، آئین نے ملک کے ہر شہری کو احتجاج کا حق دیا ہے، بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ نوبت آئی کیوں؟ انتظامیہ کا فرض تھا کہ اس طرح کی کارروائی سے پہلے وہ مقامی لوگوں سے بات چیت کرتی انہیں اعتمادمیں لیتی اورحقیقی صورتحال سے آگاہ کرتی مگر ایساکچھ بھی نہیں ہوا، اچانک نگرنگم کے لوگ جب بلڈوزرلیکر پہنچے تو مقامی لوگوں نے احتجاج کیا جس کو دبانے کے لئے پولس نے لاٹھی چارج کیا اور فارنگ شروع کردی۔انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، ہر جگہ مسلمانوں کے خلاف پولس نظم ونسق قائم کرنے کی جگہ ایک فریق بن جاتی ہے، لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تووہ ایسانہیں کرتی۔
مولانا مدنی نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس احتجاج کو دیکھنے کے دوپیمانہ ہیں، مسلم اقلیت احتجاج کرے تو ناقابل معافی جرم؛ لیکن اگر اکثریت کے لوگ احتجاج کریں اور سڑکوں پر اترکر پرتشدد کارروائیاں انجام دیں اور پوری پوری ریل گاڑیاں اور اسٹیشن پھونک ڈالیں تو انہیں تتر بتر کرنے کے لئے ہلکا لاٹھی چارج بھی نہیں کیا جاتا، انتظامیہ کا مظاہر ہ اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر تفریق افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ حال ہی میں فوج میں ٹھیکہ کے نوکری کے خلاف ہونے والا پرتشدد احتجاج اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، احتجاجیوں نے جگہ جگہ ٹرینوں میں آگ لگائی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا پولس پر پتھر بازی کی تو وہی پولس جو مسلمانوں کے خلاف تمام حدیں توڑ دیتی ہے خاموش تماشائی بنی رہی اس پرتشدد احتجاج کو لیکر جو لوگ گرفتار کئے گئے تھے ان کے خلاف ایسی ہلکی دفعات لگائی تھیں کہ تھانہ سے ہی ان کی ضمانت ہو گئی تھی، اس کے سیکڑوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، ہم اس کے خلاف ایک مدت سے آوازاٹھارہے ہیں لیکن افسوس کے ہر معاملہ کو مذہبی عینک سے دیکھاجانے لگاہے