نیو دہلی :وزیر اعظم نریندر مودی کا ایک مفصل اور جامع انٹرویو میں تجارت، بجٹ، مینوفیکچرنگ، دفاع، اصلاحات، ٹیکنالوجی اور خواتین کے کردار سمیت کئی اہم موضوعات پر اپنی حکومت کا نقطہ نظر پیش کیا۔
تجارتی معاہدوں کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بھارت نے 38 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کیے ہیں جو ملکی صنعت کی مضبوطی اور پالیسی استحکام کا نتیجہ ہیں۔ ان کے مطابق یورپی یونین اور برطانیہ کے ساتھ معاہدوں کے تحت 99 فیصد برآمدات پر ٹیرف ختم ہو جائے گا، جبکہ آسٹریلیا اور یو اے ای کے ساتھ تجارت دوگنی ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معاہدے صرف ٹیرف میں کمی نہیں بلکہ عالمی سپلائی چین میں گہرے انضمام کا ذریعہ ہیں اور وکست بھارت 2047 کے وژن کو تقویت دیتے ہیں۔
ایم ایس ایم ایز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اب چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار عالمی ویلیو چین کا حصہ بن رہے ہیں۔ زیرو ڈیفیکٹ زیرو ایفیکٹ جیسے تصورات نے نوجوانوں اور اسٹارٹ اپس کو حوصلہ دیا ہے۔ حکومت نے کریڈٹ گارنٹی، ٹی ریڈز پلیٹ فارم، جی ایس ٹی آسانی اور بینک قرضوں میں اضافے جیسے اقدامات سے انہیں مضبوط کیا ہے۔
بجٹ 2026 27 کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ حکومت نے تقریباً 12.2 لاکھ کروڑ روپے کا سرمایہ جاتی خرچ مختص کیا ہے جو 2013 کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔ ریلوے، قومی شاہراہوں، میٹرو، ہوائی اڈوں اور فریٹ کوریڈورز پر بڑی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ سیمی کنڈکٹر، بایوفارما، الیکٹرانکس اور ریئر ارتھ جیسے سن رائز سیکٹرز پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
مینوفیکچرنگ کے سوال پر انہوں نے کہا کہ میک ان انڈیا اور پروڈکشن لنکڈ انسینٹو اسکیموں کے نتیجے میں بھارت دنیا کا دوسرا بڑا موبائل فون تیار کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ دفاعی برآمدات 23000 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہیں اور ٹیکسٹائل، فارما، انجینئرنگ اور کھلونا صنعت میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مینوفیکچرنگ روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرتی ہے کیونکہ یہ ہنر کی ہر سطح پر کام دیتی ہے۔
آئی ٹی اور ڈیٹا سینٹرز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بھارت ڈیجیٹل قیادت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن قانون کے ذریعے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے جبکہ ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری سے مصنوعی ذہانت کے شعبے کو تقویت ملے گی۔
دفاعی بجٹ پر انہوں نے بتایا کہ 7.85 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال سے 15 فیصد زیادہ ہیں۔ 75 فیصد سرمایہ مقامی دفاعی صنعت سے خریداری کے لیے رکھا گیا ہے تاکہ خود انحصاری بڑھے اور روزگار پیدا ہو۔
اصلاحات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی، لیبر اصلاحات، ایف ڈی آئی پالیسی اور ڈیجیٹل ادائیگی نظام یو پی آئی جیسے اقدامات نے عام آدمی کی زندگی آسان بنائی ہے۔ اگلے عشرے کے لیے انہوں نے مسابقت بڑھانے، جدت کو فروغ دینے اور حکمرانی کو مزید آسان بنانے کو ترجیح قرار دیا۔
خواتین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات شامل ہیں۔ سیلف ہیلپ گروپس، مدرا یوجنا، لڑکیوں کے لیے اسٹیم ہاسٹل، کیئر اکانومی میں 1.5 لاکھ تربیت یافتہ کیئر گیورز اور ہینڈلوم و ہینڈی کرافٹ پروگرام جیسے اقدامات خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے میں مدد دیں گے۔
مجموعی طور پر وزیر اعظم نے اس بجٹ کو 21ویں صدی کی دوسری سہ ماہی کا پہلا بجٹ قرار دیا اور کہا کہ یہ 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔