نئے پرانے چراغ‘‘ پانچ روزہ ادبی اجتماع کا افتتاح

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 29-08-2026
نئے پرانے چراغ‘‘ پانچ روزہ ادبی اجتماع کا افتتاح
نئے پرانے چراغ‘‘ پانچ روزہ ادبی اجتماع کا افتتاح

 



 نئی دہلی: دہلی کی ادبی روایت کو نئی نسل کے تخلیق کاروں سے جوڑنے اور مختلف عمر کے اہلِ قلم کو ایک مشترکہ ادبی پلیٹ فارم فراہم کرنے کے مقصد سے منعقد ہونے والے پانچ روزہ ادبی اجتماع ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا افتتاحی اجلاس آج 28 اگست 2026 کو اردو اکادمی، دہلی کے قمر رئیس سلور جوبلی آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ یہ ادبی اجتماع یکم ستمبر تک جاری رہے گا، جس میں دہلی کے بزرگ و نوجوان شعرا، ادبا اور ریسرچ اسکالرز کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔

افتتاحی اجلاس کے آغاز میں اکادمی کے سینئر کارکنان جناب محمد ہارون اور جناب عزیر حسن قدوسی نے مہمانِ خصوصی و صدرِ اجلاس پروفیسر صادق علی، سابق صدر شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی اور دیگر معزز مہمانوں کو پودا پیش کرکے خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر خالد رضا خاں، چیف ایڈیٹر، بھارت ایکسپریس نیوز کا بھی استقبال کیا گیا۔

تقریب کی نظامت کے فرائض معروف شاعر و ناظم ڈاکٹر شفیع ایوب نے انجام دیے۔ انہوں نے ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کی تاریخ، پس منظر اور مختلف ادوار میں منعقد ہونے والے اس کے پروگراموں کے ڈھانچے پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے غیر اردو حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے اردو زبان و ادب کی آبیاری اور اردو میں لکھنے پڑھنے کے رجحان کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کی اردو سے وابستگی اس زبان کے دائرے کو مزید وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد رضا خاں نے اردو اکادمی اور اس کے منتظمین کو اس اہم ادبی اجتماع کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والا یہ پروگرام ہندوستان بھر میں ہونے والے ادبی پروگراموں میں اپنی وسعت اور انفرادیت کے اعتبار سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات کو بھی قابلِ ذکر قرار دیا کہ اس اجتماع میں بڑی تعداد میں ممتاز شعرا، ادبا اور ریسرچ اسکالرز شریک ہوتے ہیں اور اپنے تحقیقی و ادبی مقالات پیش کرتے ہیں۔

اجلاس کے مہمانِ خصوصی و صدرِ اجلاس پروفیسر صادق علی نے اپنے صدارتی خطاب میں اردو اکادمی سے وابستہ اپنی دیرینہ یادوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے اپنے دورِ صدارت اور انتظامی وابستگی کے زمانے کے مختلف اہم واقعات اور تجربات حاضرین کے ساتھ شیئر کیے۔ پروفیسر صادق نے ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کی ابتدا اور اس کے پس منظر پر بھی گفتگو کی اور بتایا کہ اس پروگرام کے آغاز میں انہیں خود بھی اہم کردار ادا کرنے کا موقع ملا تھا۔ انہوں نے اس ادبی اجتماع کے تسلسل اور اس کی وسعت پر اردو اکادمی کو مبارک باد پیش کی۔

’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا بنیادی مقصد اردو زبان و ادب کی مختلف اصناف سے وابستہ اہلِ قلم کو ایسا مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں نئی نسل کے تخلیق کاروں کو سینئر شعرا و ادبا کے تجربات سے استفادہ کا موقع مل سکے اور دہلی کی دیرینہ ادبی روایت کو نئی فکر، تازہ امکانات اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھایا جاسکے۔ پانچ روزہ اس اجتماع کے دوران مختلف ادبی نشستیں، سیمینار اور مشاعرے منعقد ہوں گے، جن میں بڑی تعداد میں شعرا، ادبا اور ریسرچ اسکالرز اپنی تخلیقات اور تحقیقی کاوشیں پیش کریں گے۔

افتتاحی اجلاس کے اختتام کے بعد محفلِ شعر و سخن کا انعقاد ہوا، جس کا باقاعدہ آغاز پروفیسر صادق علی، پروفیسر اخلاق احمد آہن اور دیگر معزز شعرا نے شمع روشن کرکے کیا۔ مشاعرے کی صدارت پروفیسر اخلاق احمد آہن، پروفیسر شعبۂ فارسی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض معروف نوجوان شاعر جناب انس فیضی نے انجام دیے۔

مشاعرے میں شہر کے معروف و ممتاز شعرا کے علاوہ نوجوان شعرا نے بھی شرکت کی اور اپنا منتخب کلام پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا