نئی دہلی: کانپور کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی کانپور) نے ایک منفرد فیصلہ کرتے ہوئے اپنی ویب سائٹ ہیک کرنے والے ایک نوجوان کو ادارے میں داخلے کا ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ نوجوان اس سے قبل داخلہ امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔
اس طالب علم نے سائبر سکیورٹی کے انڈرگریجویٹ کورس میں داخلہ نہ ملنے پر مبینہ طور پر آئی آئی ٹی کانپور اور آئی آئی ٹی مدراس کی ویب سائٹس ہیک کر دی تھیں۔ تاہم آئی آئی ٹی کانپور نے فوری قانونی کارروائی کرنے کے بجائے اس کی تکنیکی صلاحیت جانچنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آئی آئی ٹی کانپور کے ڈائریکٹر منیندر اگروال نے پی ٹی آئی-بھاشا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ طالب علم کو پہلے داخلہ اس لیے نہیں دیا گیا تھا کیونکہ اس کے پاس سائبر سکیورٹی کے شعبے میں پہلے سے کوئی عملی تجربہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا، "موجودہ تعلیمی سیشن کے لیے داخلے کا عمل مکمل ہو چکا ہے، اس لیے ابھی داخلہ دینا ممکن نہیں۔ تاہم ہم طالب علم کو ادارے میں بلائیں گے اور ایک باقاعدہ امتحان کے ذریعے اس کی تکنیکی مہارت کا جائزہ لیں گے۔ اگر وہ اپنی صلاحیت ثابت کر دیتا ہے تو اسے اگلے تعلیمی سیشن میں داخلے کا موقع دیا جائے گا۔"
منیندر اگروال نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ طالب علم نے آئی آئی ٹی کانپور اور آئی آئی ٹی مدراس کی سرکاری ویب سائٹس کے بعض حصوں تک غیر مجاز رسائی حاصل کر لی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سینئر اساتذہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ طالب علم سے بات کریں اور اسے سمجھائیں کہ کسی بھی کمپیوٹر نظام تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنا قانوناً جرم ہے اور آئندہ اسے ایسی حرکت سے گریز کرنا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق طالب علم نے آئی آئی ٹی کانپور کی ویب سائٹ پر ایک پیغام بھی درج کیا تھا، جس میں لکھا تھا: "سائٹ ہیک ہو گئی ہے۔ مجھے صرف ایک منصفانہ موقع چاہیے۔"