احسان:ایمان واسلام کی روح،مومن کا سرمایہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-07-2026
احسان:ایمان واسلام کی روح،مومن کا سرمایہ
احسان:ایمان واسلام کی روح،مومن کا سرمایہ

 



غوث سیوانی،نئی دہلی

اگر آپ سے پوچھا جائے کہ اسلام کیا ہے؟ تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟آپ سے پوچھا جائے کہ اسلام کے ارکان کیا ہیں؟ توآپ کیا کہیں گے؟ آپ سے سوال کیا جائے کہ مسلمان کا ماضی شاندار کیوں تھا اور حال بدحال کیوں ہے تو آپ کیا جواب دیں گے؟ مگر ان سوالوں کے جواب ڈھونڈتے ہوئے اکثر لوگ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر توجہ نہیں دیتے جو ایمان کی بنیاد اور اسلام کی روح ہے۔یہ حدیث کسی بھی روایتی مسلمان کو سچا مسلمان بنانے کے لئے کافی ہے کیونکہ اس میں دین کی پوری تلخیص بیان کردی گئی ہے۔

حدیث جبرئیل

 یہ حدیث صحیح البخاری ،کتاب الایمان میں ہے۔ اس کا ترجمہ یوں ہے:

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) لوگوں میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا کہ ایمان کسے کہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پاک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر ایمان لاؤ اور اس کے فرشتوں کے وجود پر اور اس (اللہ) کی ملاقات کے برحق ہونے پر اور اس کے رسولوں کے برحق ہونے پر اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لاؤ۔ پھر اس نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )نے پھر جواب دیا کہ اسلام یہ ہے کہ تم خالص اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور نماز قائم کرو۔ اور زکوٰۃ فرض ادا کرو۔ اور رمضان کے روزے رکھو۔

پھر اس نے احسان کے متعلق پوچھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ درجہ نہ حاصل ہو تو پھر یہ تو سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی۔ نبی( صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ اس کے بارے میں جواب دینے والا پوچھنے والے سے کچھ زیادہ نہیں جانتا (البتہ) میں تمہیں اس کی نشانیاں بتلا سکتا ہوں۔ وہ یہ ہیں کہ جب لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور جب سیاہ اونٹوں کے چرانے والے (دیہاتی لوگ ترقی کرتے کرتے) مکانات کی تعمیر میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں گے (یاد رکھو) قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی کہ اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے کہ وہ کب ہو گی (آخر آیت تک) پھر وہ پوچھنے والا پیٹھ پھیر کر جانے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ۔ لوگ دوڑ پڑے مگر وہ کہیں نظر نہیں آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔ (صحيح البخاري،حدیث: 50)

مطلب کیا ہے؟

اس حدیث کو حدیثِ جبرئیل کہتے ہیں اور اسے محدثین انتہائی اہم حدیث قراردیتے ہیں کیونکہ اس میں ایمان واسلام کی تلخیص بیان کردی گئی ہے۔خاص طور پر وہ حصہ جس میں "احسان"کے بارےمیں بتایا گیا ہے کہ "احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ درجہ نہ حاصل ہو تو پھر یہ  سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔" اس مختصر مگر جامع جملے میں عبادت کی وہ کیفیت بیان کی گئی ہے جو انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کر دیتی ہے۔اصل میں مومن کا ایمان اس قدر پختہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے دل کی نگاہ سے اللہ کو دیکھ سکے جس پر اہل تصوف زور دیتے ہیں اور ان کی تمام ریاضتوں کا مقصدیہی ہوتا ہے کہ سالک ،اللہ کے ساتھ دلی قربت کا احساس کرے۔

اس حدیث کا پہلا حصہ "گویا تم اسے دیکھ رہے ہو" عبادت کے اعلیٰ ترین درجے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص اپنی مادی آنکھوں سے اللہ کو دیکھ سکتا ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ  بندہ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، قرب اور حضوری کا ایسا گہرا احساس پیدا کرے کہ اس کی نماز، دعا، تلاوت اور ہر نیک عمل پوری توجہ، محبت، خشوع اور اخلاص کے ساتھ انجام پائے۔ جب انسان یہ تصور کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہے تو اس کی عبادت رسم نہیں رہتی بلکہ دل کی کیفیت بن جاتی ہے۔

جب کہ حدیث میں دوسرا جملہ یہ کہا گیا ہے کہ "اگر یہ درجہ حاصل نہ ہو کہ تم اللہ کو دیکھنے کا احساس کرسکوتوپھر یہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ظاہر ہے کہ پہلے حصے پر عمل آسان نہیں مگر دوسرے حصے پر عمل  ہر مسلمان کے لیے آسان  ہے۔ اللہ کو دیکھنے کا احساس کرنا ایک بلند ترین کیفیت ہے مگریہ احساس بھی کم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو ہرلمحہ، ہرحال میں اور ہرمقام پردیکھ رہا ہے۔ یہی وہ احساس ہے جو بندے کو گناہوں اور بداعمالیوں سے دور رکھتا ہے۔ اسے حساب وکتاب اور جزا وسزا کا احساس کراتا ہے یعنی انسان کے اندر آخرت میں جوابدہی کا احساس پیدا کراتا ہے۔

حدیث جبرئیل کی ضمن میں امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں بندہ اپنی عبادت کو پورے کمال کے ساتھ انجام دے گا اور اس کے ظاہری ارکان آداب کی بجا آوری اور باطنی خضوع و خشوع میں کسی چیز کی کمی نہیں کرے گا۔ الغرض عبادت کی اس اعلیٰ درجے کی حالت اور ایمان کی اس اعلیٰ کيفیت کو ’’احسان‘‘ کہتے ہیں۔

 نووی، شرح صحيح مسلم، 1 : 27، کتاب الايمان

 احسان اور تصوف

تصوف کا مقصد انسان کی باطنی اصلاح اور تزکیہ قلب ہے۔وہ انسان کے اندر اللہ کے سامنے جوابدہی کااحساس پیدا کرتا ہے اور اس کے لئے ان کے اندر یہ فکر ابھاری جاتی ہے کہ اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔  اہلِ تصوف، اسی حدیث جبرئیل کو اپنی روحانی تربیت کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔صوفیہ ،تربیت نفس کے لئے مراقبہ کا طریقہ اپناتے ہیں اور مراقبہ کے دوران سالک کو اپنی پوری توجہ اللہ کی طرف پھیرنی پڑتی ہے۔اُسے ارادتاً کوشش کرنی پڑتی ہے کہ اس کے دل ودماغ میں اللہ کی یاد راسخ ہوجائے اور بندہ کو ہرلمحہ اللہ کی موجودگی کا احساس ہو۔ جب بندہ کے دل میں اللہ کی نگرانی کا احساس جاں گزیں ہوجاتا ہے تو وہ مجمع میں ہویا تنہائی میں ہمیشہ اچھے کام کرتا ہے اور برائیوں سے دور رہتا ہے۔  تصوف کا مقصد یہی ہے کہ بندے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد، محبت اور حضوری کا احساس اتنا مضبوط ہو جائے کہ اس کی پوری زندگی عبادت، اخلاص اور حسنِ اخلاق کا نمونہ بن جائے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ احسان عبادت کی روح ہے، کیونکہ یہ ظاہری اعمال میں باطنی اخلاص اور کیفیت پیدا کرتا ہے۔

عبادت اور اخلاص

حدیث جبرئیل میں "احسان" کی جو تعلیم دی گئی ہے اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ عبادت صرف ظاہری اعمال وافعال کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے لئے اخلاص کی بھی ضرورت ہے اور اخلاص دل کی خاص کیفیت کا نام ہے۔ جب یہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تو انسان کی عبادت بھی سنور جاتی ہے اور اس کا کردار بھی۔ یہی احسان ہے، جو ایمان اور اسلام کو کمال تک پہنچاتا ہے۔

awaz

شاندار ماضی مگر۔۔

اب آتے ہیں اس سوال پر کہ مسلمانوں کے شاندار ماضی کے باوجود حال بدحال کیوں ہے؟ تو یقین جانیں کہ اس کا بھی "احسان" سے گہرا رشتہ ہے۔عہدوسطیٰ میں جب نیم وحشی منگولوں کے حملوں نے عالم اسلام کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی اور ایسا مانا جارہا تھا کہ بس اسلام آخری سانسیں لے رہا ہے تب یہی "احسان"تھا جس  نےاسلام کی نشاۃ ثانیہ کا کام کیا تھا۔

وہ لوگ جو اسلام کو مٹانے چلے تھے،جنہوں نے بغداد کو تباہ کیا تھا،سمرقندوبخارا کو تاراج کیا تھا،انہیں کی اولاد اسلام کی محافظ بن کر اٹھی تھی۔تاریخ شاہد ہے کہ یہ ان لوگوں کی کوششوں سے ممکن ہوا تھاجنہوں نے اپنی زندگیوں کو "احسان" کے سانچے میں ڈھالا تھا۔آج بھی اگر مسلمان اپنی شوکت رفتہ کو حاصل کرناچاہتے ہیں تو انہیں بھی اسی روحانیت کو اپنانا ہوگا۔ یہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ جو احسان وتصوف عالم اسلام کے تعلیمی اداروں کے نصاب کا اہم ترین حصہ ہوا کرتا تھا،آج مسلمانوں کے تعلیمی اداروں سے خارج ہوچکا ہے۔