نئی دہلی: سپریم کورٹ میں ایک مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) دائر کی گئی ہے، جس میں اعلیٰ آئینی عہدوں پر فائز افراد پر نفرت کو ہوا دینے والے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما، دیگر سینئر وزراء اور بعض ریاستی گورنروں کے مسلم مخالف بیانات کا حوالہ دیا ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات آئینی عہدوں پر فائز افراد کی جانب سے آئینی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی کی مثال ہیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ ایسے بیانات نہ صرف سماج میں نفرت اور تقسیم کو بڑھاتے ہیں بلکہ اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے لیے بھی خطرہ پیدا کرتے ہیں، جس پر عدالت کی مداخلت ضروری ہے۔ یہ مفادِ عامہ کی عرضی 12 معزز شخصیات کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جن میں سابق لیفٹیننٹ گورنر نجب جنگ، سماجی کارکن روپ ریکھا ورما اور معروف انسانی حقوق کے علمبردار جان دیال شامل ہیں۔
عرضی گزاروں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے میں مداخلت کرے اور ایسے بیانات پر روک لگانے کے لیے واضح ہدایات جاری کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما، سینئر وزراء اور گورنرز کی جانب سے مسلسل ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں جو مسلم برادری کو نشانہ بناتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
گزشتہ کچھ برسوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں، خاص طور پر آسام میں، بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آتے رہے ہیں جنہیں فرقہ وارانہ، نفرت انگیز اور اقلیت مخالف قرار دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے بارہا اس پر تشویش ظاہر کی ہے کہ جب اعلیٰ آئینی عہدوں پر بیٹھے افراد اس نوعیت کے بیانات دیتے ہیں تو اس سے نہ صرف سماجی کشیدگی بڑھتی ہے بلکہ آئین میں درج سیکولر اقدار بھی کمزور ہوتی ہیں۔
اسی پس منظر میں یہ مفادِ عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ عدالت آئینی عہدوں پر فائز افراد کے لیے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور گفتار کو یقینی بنائے اور نفرت انگیز بیانات کے خلاف ایک واضح قانونی معیار طے کرے۔