نئی دہلی: جنوبی دہلی کے حوض رانی علاقے میں واقع فلورش اسٹے ہوٹل میں بدھ کے روز پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے میں جہاں 21 افراد جان کی بازی ہار گئے، وہیں مقامی مسلم نوجوانوں نے امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے انسانیت اور ہمدردی کی ایک قابلِ ستائش مثال قائم کی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اگر گدوں کی دکان کے مالک اور ان کے خاندان نے فوری طور پر یہ قدم نہ اٹھایا ہوتا تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ کئی افراد نے اعتراف کیا کہ گدوں کے ڈھیر نے ان کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ہولناک آگ کے دوران مقامی مسلم نوجوانوں نے غیر معمولی حاضر دماغی، جرات اور انسان دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہلی پولیس کے ساتھ مل کر کئی قیمتی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔آتشزدگی کے اس المناک واقعے میں 17 غیر ملکی شہریوں سمیت 21 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد افراد ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس کی عمارت میں پھنس گئے تھے۔ ایسے نازک وقت میں مقامی مسلم نوجوان فوری طور پر امدادی کارروائیوں میں شامل ہوگئے اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مدد کی۔
आज के जांबाजों को सलाम!
— Satish Upadhyay (@upadhyaysbjp) June 3, 2026
मालवीय नगर के हौज रानी स्थित लेमन ग्रीन रेस्टोरेंट में लगी भीषण आग के दौरान इन पांच साहसी नागरिकों (अफजल, मो. शाहरुख, मो. अनीश, मो. आमिर और मो. वसीम) और पांच वीर पुलिसकर्मियों (एचसी दिनेश, एचसी करतार सिंह, एचसी देशराज, एचसी अजय और एचसी मीना) ने अपनी जान… pic.twitter.com/jthYR0aWEh
رضاکار نوجوانوں نے نہ صرف پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے میں تعاون کیا بلکہ کئی متاثرین کو سی پی آر (کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن) بھی دی، جو ایسی ہنگامی طبی تکنیک ہے جس کے ذریعے سانس یا دل کی دھڑکن بند ہونے کی صورت میں مریض کی جان بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق نوجوانوں کی بروقت مدد اور امدادی سرگرمیوں میں فعال شرکت کے باعث متعدد جانیں بچ گئیں اور ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھنے سے رک گئی۔ ان کے جذبۂ خدمت اور انسان دوستی کو مقامی لوگوں اور انتظامیہ کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔
دہلی کے مالویہ نگر ہوٹل آتشزدگی سانحے کے دوران جب ہر طرف افراتفری، خوف اور چیخ و پکار کا ماحول تھا، اس وقت وسیم، شعیب اور اسرار نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر متعدد افراد کی زندگیاں بچانے کے لیے بہادری کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے خطرناک حالات میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور متاثرین کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مذہب نہیں بلکہ انسانیت سب سے بڑی پہچان ہے۔
مقامی لوگوں نے مسلم خاندان کی اس انسان دوستی اور جرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں انہوں نے مذہب اور شناخت سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت کا فریضہ ادا کیا۔ ان کا یہ اقدام نہ صرف کئی جانوں کے تحفظ کا سبب بنا بلکہ باہمی ہمدردی اور انسانی یکجہتی کی ایک روشن مثال بھی بن گیا۔
آگ لگنے کے بعد علاقے کے متعدد نوجوان فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور فائر بریگیڈ، پولیس اور دیگر امدادی اداروں کے ساتھ مل کر پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے میں مدد کی۔ انہوں نے نہ صرف زخمیوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا بلکہ کئی بے ہوش افراد کو سی پی آر دے کر ان کی جان بچانے کی بھی کوشش کی۔
اس افسوسناک حادثے میں 21 افراد ہلاک ہوئے جن میں 11 غیر ملکی شہری بھی شامل تھے، جن کا تعلق زیادہ تر وسطی ایشیا اور افریقی ممالک سے بتایا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق 35 زخمیوں میں سے 19 کی حالت اب بھی تشویشناک ہے اور وہ دہلی کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
مقامی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی Satish Upadhyay نے امدادی کاموں میں حصہ لینے والے نوجوانوں سے ملاقات کی اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں افضال، محمد شاہ رخ، محمد انیش، محمد عامر اور محمد وسیم کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان نوجوانوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر دوسروں کی مدد کی اور متعدد افراد کو سی پی آر بھی دی۔
انہوں نے کہا کہ "انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے۔ مجھے ان نوجوانوں پر فخر ہے جنہوں نے کم از کم دس افراد کو سی پی آر دے کر زندگی کی نئی امید دی۔"
رکن اسمبلی نے پولیس اہلکاروں ہیڈ کانسٹیبل دنیش، کرتار سنگھ، دیش راج، اجے اور مینا کی خدمات کو بھی سراہا جنہوں نے زخمی ہونے کے باوجود کئی لوگوں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب مالویہ نگر کے سابق رکن اسمبلی Somnath Bharti نے بھی مقامی لوگوں کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ جن نوجوانوں نے سی پی آر دی، انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ سامنے والا شخص ہندو ہے یا مسلمان، بلکہ صرف ایک انسان کی جان بچانے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ معاشرے کو مذہبی تقسیم کے بجائے خدمت، ذمہ داری اور انسانیت کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے۔ حوض رانی کے ان نوجوانوں نے ثابت کر دیا کہ مشکل گھڑی میں انسانیت ہی سب سے بڑی پہچان ہوتی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے کے فوراً بعد مقامی افراد امدادی سرگرمیوں میں جٹ گئے۔ ہوٹل کے سامنے واقع گدوں کی ایک دکان کے مالک اور ان کے اہل خانہ نے غیر معمولی حاضر دماغی اور انسان دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دکان کے درجنوں گدے سڑک پر لا کر بچھا دیے تاکہ اوپر پھنسے ہوئے لوگ ان پر کود کر اپنی جان بچا سکیں۔
مقامی نوجوان وسیم راجہ نے بتایا کہ رات تقریباً آٹھ بج کر پچاس منٹ پر انہیں آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ جب وہ موقع پر پہنچے تو پوری عمارت شعلوں کی لپیٹ میں تھی۔ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے فوری طور پر سامنے موجود گدوں کی دکان سے گدے نکال کر سڑک پر جمع کیے۔ اس کے بعد تیسری اور دوسری منزل پر موجود کئی افراد نے انہی گدوں پر چھلانگ لگا کر خود کو محفوظ مقام تک پہنچایا۔
وسیم راجہ کے مطابق بعد میں فائر بریگیڈ کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کا کام شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی کارکنوں کے ساتھ عمارت کے اندر داخل ہونے پر معلوم ہوا کہ کئی لوگ سیڑھیوں میں پھنسے ہوئے تھے جبکہ بعض افراد کمروں کے اندر بستروں کے نیچے اور غسل خانوں میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ ان کے بقول وہاں کے حالات انتہائی دل دہلا دینے والے تھے۔