حج 2027 : درخواستوں کا آغاز، نئی پالیسی میں سہولت، شفافیت اور ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 23-06-2026
حج 2027 : درخواستوں کا آغاز، نئی پالیسی میں سہولت، شفافیت اور ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ
حج 2027 : درخواستوں کا آغاز، نئی پالیسی میں سہولت، شفافیت اور ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ

 



 نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے حج پالیسی 2027 کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی حج کمیٹی آف انڈیا نے آئندہ سال حج کی سعادت حاصل کرنے کے خواہش مند عازمین سے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ وزارتِ اقلیتی امور کے مطابق درخواستوں کا عمل آج سے شروع ہو چکا ہے اور اسے مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور صارف دوست بنایا گیا ہے تاکہ ملک بھر کے عازمین آسانی کے ساتھ اپنی درخواستیں جمع کر سکیں۔

حج 2027 کے لیے درخواست دینے کے خواہش مند افراد حج کمیٹی آف انڈیا کے سرکاری پورٹل اور ’’حج سہولت‘‘ موبائل ایپ کے ذریعے آن لائن درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے درخواستوں کی جانچ، تصدیق اور دیگر انتظامی مراحل کو زیادہ مؤثر اور تیز رفتار بنایا جائے گا۔

نئی حج پالیسی کے تحت حج کوٹے کی تقسیم کا موجودہ تناسب 70:30 برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کے مطابق مجموعی کوٹے میں سے 1,22,518 نشستیں حج کمیٹی آف انڈیا کو جبکہ 52,507 نشستیں نجی حج آپریٹروں کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ تاہم مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ سعودی حکومت سے رابطے میں ہے اور ہندوستانی عازمین کے لیے حج کوٹے میں مزید اضافے کی کوشش جاری رہے گی۔ گزشتہ برس ہندوستان کو مجموعی طور پر 1,75,025 عازمین کا حج کوٹہ حاصل ہوا تھا۔

وزارت کے مطابق یہ پالیسی 18 جون کو منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی حج جائزہ اجلاس کے بعد جاری کی گئی، جس میں حج 2026 کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور حج 2027 کے لیے مختلف تجاویز اور انتظامی اصلاحات کو حتمی شکل دی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ پالیسی کا بروقت اعلان سعودی عرب کی مقررہ ٹائم لائن کے مطابق تیاریوں کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

حج 2027 کی پالیسی میں عازمین کی سہولت، سلامتی اور بہتر نگرانی کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ریاستی حج انسپکٹروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اب ایک حج انسپکٹر 150 عازمین کے بجائے صرف 135 عازمین کی نگرانی اور رہنمائی کرے گا، جس سے میدانِ حج میں بہتر خدمات اور فوری مدد فراہم کرنا ممکن ہوگا۔

اس کے علاوہ گزشتہ سال کی آخری ویٹنگ لسٹ میں شامل سرفہرست 20 فیصد درخواست دہندگان کو ترجیح دینے کا فیصلہ بھی برقرار رکھا گیا ہے، تاکہ طویل عرصے سے منتظر عازمین کو زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ عازمین میں مقبول ثابت ہونے والا 20 روزہ شارٹ حج پیکیج بھی جاری رکھا گیا ہے، جس سے کم مدت میں حج ادا کرنے کے خواہش مند افراد کو سہولت حاصل ہوگی۔

علاقائی ضروریات اور بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے کولکاتا کو بھی نیا امبارکیشن پوائنٹ (روانگی مرکز) بنایا گیا ہے۔ اس فیصلے سے مشرقی ہندوستان، خصوصاً مغربی بنگال، آسام، بہار اور شمال مشرقی ریاستوں کے عازمین کو سفر میں بڑی سہولت ملے گی۔

صحت کے شعبے میں بھی اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے مقرر کردہ طبی معیارات کے مطابق تمام عازمین کا طبی معائنہ لازمی ہوگا۔ شدید یا طویل مدتی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے طبی جانچ کے عمل کو مزید سخت بنایا گیا ہے تاکہ دورانِ حج کسی بھی قسم کے صحت سے متعلق خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

حج انتظامات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے حکومت نے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اے آئی کی مدد سے درخواستوں اور دستاویزات کی جانچ، پروازوں کی منصوبہ بندی، عازمین کی معلومات کے انتظام، شکایات کے اندراج اور ان کے فوری ازالے جیسے متعدد امور کو مرحلہ وار ڈیجیٹل نظام سے جوڑا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے شفافیت، رفتار اور انتظامی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت کا مقصد عازمینِ حج کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا اور حج کے پورے عمل کو جدید، محفوظ اور آسان بنانا ہے تاکہ ہر حاجی روحانی سفر کے دوران بہتر خدمات سے مستفید ہو سکے۔