گوہاٹی: گوہاٹی ہائی کورٹ نے طلاق کے اندراج سے متعلق ایک رٹ عرضی کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’طلاقِ حسن‘ طلاق کا ایک جائز طریقہ ہے اور ملک میں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ عدالت نے ایک عرضی گزار کو ہدایت دی کہ وہ اپنی طلاق کا اندراج کرانے کے لیے آسام مسلم میرج اینڈ ڈائیورس لازمی رجسٹریشن ایکٹ، 2024 کے تحت بارپیٹا علاقے کے شادی اور طلاق رجسٹرار سے رجوع کرے۔
جسٹس ارون دیو چودھری نے ’طلاقِ حسن‘ کے ذریعے دی گئی طلاق کے اندراج سے متعلق رٹ عرضی پر سماعت کے بعد منگل کو یہ حکم جاری کیا۔ عرضی گزار کے مطابق اس کی شادی 2016 میں ہوئی تھی۔ بعد میں دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے اور اس کی اہلیہ نے مبینہ طور پر 2018 میں سسرال چھوڑ دیا۔ دونوں کے درمیان صلح کرانے کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہوئیں۔
اس کے بعد عرضی گزار نے 22 مارچ، 26 اپریل اور 27 مئی 2026 کو تین الگ الگ تاریخوں پر ’طلاقِ حسن‘ دیا اور پھر قانون کے تحت طلاق کے اندراج کے لیے متعلقہ افسر سے رجوع کیا۔ عرضی گزار نے دلیل دی کہ ’طلاقِ حسن‘ پر کوئی پابندی نہیں ہے اور اس نے مقررہ طریقہ کار کے مطابق طلاق دی ہے۔ ریاستی حکومت نے تاہم عدالت سے کہا کہ 1935 کے پرانے قانون کو منسوخ کیا جا چکا ہے اور اس کے تحت مقرر کیا گیا افسر کا عہدہ بھی ختم ہو چکا ہے، اس لیے اس نظام کے تحت اب طلاق کا اندراج نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس چودھری نے کہا کہ عرضی گزار کی جانب سے دی گئی ’طلاقِ حسن‘ طلاق کا ایک جائز طریقہ ہے اور موجودہ وقت میں ملک میں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تاہم عدالت نے 1935 کے قانون کے تحت بارپیٹا میں مقرر افسر کو طلاق نامہ درج کرنے کی ہدایت دینے سے انکار کر دیا، کیونکہ یہ قانون منسوخ ہو چکا ہے اور اس کے تحت قائم عہدہ بھی ختم کیا جا چکا ہے۔ عدالت نے عرضی گزار کو ہدایت دی کہ وہ 2024 کے قانون کے تحت متعلقہ علاقے کے شادی اور طلاق رجسٹرار سے رجوع کرے۔
عدالت نے کہا کہ رجسٹرار کو یہ جانچ کرنا ہوگی کہ آیا عرضی گزار نے واقعی طلاق دی ہے یا نہیں اور اس کی شناخت کی بھی تصدیق کرنی ہوگی۔ اس کے بعد رجسٹرار یہ فیصلہ کرے گا کہ ایکٹ کی دفعہ 12 کے تحت طلاق کا اندراج کیا جانا ہے یا نہیں۔ اگر رجسٹرار طلاق کے اندراج سے انکار کرتا ہے تو عرضی گزار 2024 کے ایکٹ کی دفعہ 17 کے تحت اپیل کر سکتا ہے۔ جج نے یہ بھی کہا کہ عرضی گزار کی اہلیہ کو مناسب فورم پر ’طلاقِ حسن‘ کو چیلنج کرنے کی آزادی حاصل ہوگی۔ نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود عرضی گزار کی اہلیہ عدالت میں پیش نہیں ہوئی تھیں۔ عدالت نے ان ہدایات کے ساتھ رٹ عرضی کا نمٹا دیا۔