احمد آباد:گجرات میں تباہ کن سیلاب کے دوران جہاں ہزاروں خاندان متاثر ہوئے وہیں مسلم سماج نے راحت اور بچاؤ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مساجد۔ مدارس۔ سماجی تنظیموں اور رضاکاروں نے مذہب اور ذات پات سے بالاتر ہو کر متاثرین کی ہر ممکن مدد کی۔
آپ کو بتا دیں کہ گجرات میں مسلسل موسلا دھار بارش کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے جبکہ سورت سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل ہے۔ شہر میں 24 گھنٹوں کے دوران 358 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس سے کئی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔ سورت میں 3,400 سے زائد افراد کو بچایا گیا اور 3,800 سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ ریاست بھر میں 7,522 افراد کو امدادی مراکز پہنچایا گیا جبکہ 3,711 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ اگرچہ کئی علاقوں میں پانی اترنا شروع ہو گیا ہے لیکن متعدد بستیاں اب بھی زیر آب ہیں اور معمولات زندگی شدید متاثر ہیں۔
احمد آباد۔ وڈودرا۔ بھروچ۔ بناس کانٹھا اور دیگر متاثرہ علاقوں میں مسلم رضاکاروں نے کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا۔ کئی مقامات پر مساجد اور مدارس کو عارضی راحت کیمپوں میں تبدیل کر دیا گیا جہاں متاثرہ خاندانوں کے لیے کھانے۔ پینے کا صاف پانی۔ ادویات اور رہائش کا انتظام کیا گیا۔
متعدد مسلم ٹرسٹوں اور فلاحی اداروں نے اجتماعی باورچی خانے قائم کیے جہاں روزانہ ہزاروں افراد کے لیے کھانا تیار کیا گیا۔ نوجوان رضاکاروں نے انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی سامان تقسیم کیا۔ طبی کیمپ لگائے اور صفائی مہم میں بھی بھرپور حصہ لیا۔
گجرات سیلاب: مسلمانوں نے راحت اور بچاؤ کے کاموں میں پیش کی انسانیت کی مثال#Gujraat #Flood #Help #MuslimSocialWork pic.twitter.com/GXMB1h9pLJ
— Awaz-The Voice URDU اردو (@AwazTheVoiceUrd) July 10, 2026
مسلم ڈاکٹروں۔ انجینئروں اور سماجی کارکنوں نے بھی اپنی اپنی سطح پر امدادی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔
متعدد رضاکار سیلاب سے متاثرہ دیہات میں پہنچے اور بزرگوں۔ خواتین اور بچوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے میں مدد فراہم کی۔ان کوششوں نے یہ پیغام دیا کہ قدرتی آفات کے وقت انسانیت ہی سب سے بڑا مذہبہوتی ہے۔ مسلم سماج کی خدمت خلق اور سماجی ذمہ داری کے اس جذبے کو مقامی لوگوں اور انتظامیہ نے بھی سراہا۔
گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں راحت اور بازآبادکاری کے کاموں میں تیزی لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن خاندانوں کا گھریلو سامان سیلاب میں تباہ ہوا ہے انہیں نقصان کے ازالے کے لیے 6800 روپے کی مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے گھر گھر سروے کرکے مستحق خاندانوں کی نشاندہی کی ہے اور امدادی رقم کی تقسیم کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ہرش سنگھوی کے مطابق بیس فیصد سے زیادہ متاثرہ خاندانوں تک یہ مالی امداد پہلے ہی پہنچ چکی ہے جبکہ باقی تمام مستحق خاندانوں کو بھی مقررہ مدت کے اندر امدادی رقم فراہم کر دی جائے گی۔ انتظامیہ مسلسل نقد امدادی پیکٹ تیار کرنے اور تقسیم کے نظام کو مزید مؤثر بنانے میں مصروف ہے۔
سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں مہاجر مزدور بھی شامل ہیں۔ اتر پردیش بہار اور دیگر ریاستوں سے روزگار کی غرض سے آئے ہوئے ڈیڑھ سو سے زائد مزدوروں کا سامان سیلاب میں بہہ گیا یا مکمل طور پر خراب ہو گیا۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ان مزدوروں کو فوری طور پر نئے کپڑے اور دیگر ضروری امدادی سامان فراہم کیا جائے۔یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امدادی سرگرمیاں صرف مقامی آبادی تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان مہاجر مزدوروں تک بھی پہنچائی گئیں جو روزگار کے لیے سورت آئے تھے اور اچانک آنے والی اس قدرتی آفت میں اپنی جمع پونجی اور ضروری سامان سے محروم ہو گئے۔