سینٹرل پارک میں ’’سْر سنگم‘‘ کا شاندار آغاز، مشاعرہ، غزل گائیکی اور قوالی کی محفلیں

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 29-03-2026
 سینٹرل پارک میں ’’سْر سنگم‘‘ کا شاندار آغاز، مشاعرہ، غزل گائیکی اور قوالی کی محفلیں
سینٹرل پارک میں ’’سْر سنگم‘‘ کا شاندار آغاز، مشاعرہ، غزل گائیکی اور قوالی کی محفلیں

 



 نئی دہلی : اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ’’سر سنگم‘‘ کے عنوان سے تین روزہ ثقافتی میلے کا شاندار آغاز ہوا جس میں مشاعرے غزل گائیکی اور قوالی شامل ہیں۔ افتتاحی تقریب میں محکمہ فن ثقافت اور السنہ حکومت دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے شمع روشن کر کے پروگرام کا آغاز کیا۔اس موقع پر لیکھ راج نے کہا کہ دہلی حکومت ہمیشہ گنگا جمنی تہذیب ادبی روایتوں اور فنون لطیفہ کے فروغ کے لیے کوشاں رہی ہے۔ انہوں نے وزیر ثقافت کپل مشرا کی سرپرستی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مختلف زبانوں خصوصاً اردو کے فروغ اور اس سے وابستہ تہذیبی اقدار کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اردو اکادمی نہ صرف ادبی اور ثقافتی پروگرام منعقد کرتی ہے بلکہ کتابوں کی اشاعت مشاعروں سمیناروں اور موسیقی کی محفلوں کے ذریعے اردو زبان و ادب کی خدمت انجام دے رہی ہے۔ ’’سر سنگم‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس کا مقصد عوام کو کلاسیکی اور روایتی فنون سے جوڑنا ہے۔

پروگرام کے پہلے دن کا آغاز ایک شاندار مشاعرے سے ہوا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے شعرا نے شرکت کی۔ قمر انجم نے صدارت کی جبکہ معروف ناظم معین شاداب نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر انا دہلوی تسلیم دانش فرید قریشی انل اگریونشی اختر اعظمی التمش عباس اور خصال مہدی نے اپنا کلام پیش کر کے سامعین کو محظوظ کیا۔

 روایتوں کو زندہ رکھنے میں تعاون کریں۔

’’سْر سنگم‘‘ کے پہلے دن کا آغاز شاندار مشاعرے سے ہوا، جس میں ملک بھر کے نمائندہ شعرا نے شرکت کی۔ مسٹر لیکھ راج نے مہمان شاعروں کا استقبال کرتے ہوئے انھیں یادگاری طور پر خوبصورت پودے پیش کیے۔ مشاعرے کی صدارت معروف شاعر اور دوہوں کے حوالے سے اپنی منفرد شناخت رکھنے والے قمر انجم نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض معروف ناظمِ مشاعرہ اور بین الاقوامی شہرت کے حامل معین شاداب نے انجام دیے۔مشاعرے میں انا دہلوی، تسلیم دانش، فریدقریشی، انل اگریونشی، اختر اعظمی، التمش عباس اور خصال مہدی نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ چنندہ اشعار درجِ ذیل ہیں:

سر کے سارے پاپ میں بن بیٹھا انجان

سر پر پھوڑاٹھیکرا جا تیرے شیطان

قمر انجم

نکلتے وقت ان کے دل سے یہ محسوس ہوتا ہے

دوبارہ جیسے جنت سے نکالے جا رہے ہیں ہم

معین شاداب

چاند سے پوچھو یا پوچھو میرے دل سے

تنہا کیسے رات بتائی جاتی ہے

انا دہلوی

یاد رکھنے میں اسے خرچ بہت آتا تھا

اب کبھی یاد کیا بھول گیا کافی ہے

تسلیم دانش

ہنسنا ہنسانا عادت ہے میری،اپنا بنانا عادت ہے میری

لوگ منہ پھیر کے چلتے ہیں، آواز دے کے بلانا عادت ہے میری

انل اگریونشی

اس طرح سے بھی مجھ کو ڈبویا گیا

میری کشتی کنارے لگا دی گئی

اختر اعظمی

شروع عشق میں انساں بہت پرجوش رہتا ہے

پھر اس کے بعد ساری زندگی خاموش رہتا ہے

التمش عباس

انھیں مجھ سے محبت اب نہیں ہے

وفا میں وہ صداقت اب نہیں ہے

خصال مہدی

مشاعرے کے بعد نوجوان گلوکارہ ودوشی نے اپنی مترنم آواز میں غزل گائیکی سے سامعین کو محظوظ کیا۔ آخری پروگرام میں سلطان نیازی اور عثمان نیازی کی سربراہی میں آفیشیل نیازی برادرز کی ٹیم نے شاندار قوالی پیش کر کے محفل میں سماں باندھ دیا اور حاضرینِ محفل سے بھرپور داد وصول کی

مشاعرے کے بعد نوجوان گلوکارہ ودوشی نے اپنی سریلی آواز میں غزلیں پیش کیں جبکہ اختتامی مرحلے میں سلطان نیازی اور عثمان نیازی کی قیادت میں نیازی برادران نے قوالی پیش کر کے محفل کو گرما دیا اور حاضرین سے خوب داد سمیٹی۔

سینٹرل پارک میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور ادب و موسیقی کے اس حسین امتزاج سے لطف اندوز ہوئے۔ اردو اکادمی کا مقصد بھی یہی ہے کہ اردو زبان ادب اور ثقافت کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے اسی لیے اس پروگرام کے لیے شہر کے مرکزی مقام کا انتخاب کیا گیا۔

واضح رہے کہ ’’سر سنگم‘‘ کا یہ تین روزہ میلہ 27 سے 29 مارچ تک روزانہ شام پانچ بجے سے رات دس بجے تک جاری رہے گا جس میں روزانہ مشاعرہ غزل گائیکی اور قوالی کی محفلیں سجیں گی۔ پہلے دن کے تمام پروگراموں کی نظامت اطہر سعید نے انجام دی اور اپنی خوبصورت پیشکش سے سامعین کو محفل سے جوڑے رکھا۔