نئی دہلی: دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بدھ کو کہا کہ قومی راجدھانی میں خاندان سے باہر کسی شخص کے نام جنرل پاور آف اٹارنی (جی پی اے) کے ذریعے جائیداد کی منتقلی مناسب اسٹامپ ڈیوٹی کی ادائیگی کے بغیر نہیں ہو سکے گی۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر (سی ایم او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، قریبی رشتہ داروں کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے حق میں تیار کیے گئے جی پی اے کو سب رجسٹرار کے لیے کلیکٹر آف اسٹامپ کے پاس بھیجنا لازمی ہوگا، جو اس معاملے پر 30 دن کے اندر فیصلہ کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے جی پی اے کے ذریعے ہونے والی جائیداد سے متعلق دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ کے لیے سب رجسٹراروں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ ریکھا گپتا نے کہا کہ یہ فیصلہ قومی راجدھانی میں غیر منقولہ جائیدادوں کی رجسٹریشن کے دوران سرکاری محصولات کی چوری روکنے، زمین مافیا اور دھوکہ دہی پر قابو پانے اور سرکاری آمدنی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، "یہ دیکھا گیا ہے کہ کئی معاملات میں دستاویزات کو صرف جی پی اے کا نام دے کر معمولی اسٹامپ ڈیوٹی پر رجسٹر کرا لیا جاتا ہے، حالانکہ ان میں جائیداد کی فروخت، قبضہ کی حوالگی اور ملکیت کی منتقلی جیسی شقیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ یہ براہ راست اسٹامپ ڈیوٹی کی چوری ہے، جسے اب کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔"
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب والدین، میاں بیوی، بیٹا، بیٹی، بھائی اور بہن جیسے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ کسی اور شخص کے حق میں تیار کیے گئے جی پی اے کو سب رجسٹرار براہ راست رجسٹر نہیں کر سکیں گے۔ ایسے تمام معاملات مناسب اسٹامپ ڈیوٹی کے تعین کے لیے متعلقہ کلیکٹر آف اسٹامپ کے پاس بھیجنا لازمی ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ کلیکٹر آف اسٹامپ ہر ایسے معاملے پر 30 دن کے اندر تحریری اور وجوہات پر مبنی فیصلہ جاری کریں گے، جس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ متعلقہ دستاویز صرف ایک عام پاور آف اٹارنی ہے یا اس پر کنوینس ڈیڈ (فروخت نامہ) کی طرح مکمل اسٹامپ ڈیوٹی عائد ہوگی۔
ریکھا گپتا نے واضح کیا کہ کلیکٹر آف اسٹامپ کے حکم اور مقررہ اسٹامپ ڈیوٹی کی ادائیگی کے بغیر ایسے جی پی اے کی رجسٹریشن نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی سب رجسٹرار ان قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معاملہ کلیکٹر آف اسٹامپ کے پاس بھیجے بغیر ایسے جی پی اے کو رجسٹر کرتا ہے تو اس متعلقہ افسر کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ اس پورے عمل کو زیادہ شفاف اور جوابدہ بنانے کے لیے ہر سب رجسٹرار دفتر میں ایسے معاملات کا الگ رجسٹر رکھا جائے گا اور اس کی ماہانہ رپورٹ ارسال کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایک ماہ کے اندر ان تمام معاملات کی نگرانی کے لیے آن لائن ٹریکنگ نظام بھی تیار کیا جائے گا۔