نئی دہلی: مانسون اجلاس شروع ہونے کے بعد نیٹ (NEET) سوالیہ پرچہ لیک معاملے اور طلبہ کے احتجاج پر اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے درمیان حکومت نے بدھ کو لوک سبھا میں کہا کہ وہ اس معاملے پر ایوان میں بحث کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
صبح کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد جب دوپہر 12 بجے لوک سبھا کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اسپیکر اوم برلا نے حکومت کی جانب سے بیان دینے کے لیے پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو کو دعوت دی۔ اس دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے نیٹ پیپر لیک معاملے پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا اور اس مسئلے پر اپوزیشن کی تحریکِ التوا کے تحت بحث کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔
کرن ریجیجو نے کہا، ’’حکومت نیٹ پیپر لیک معاملے پر بحث کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ہم نے پہلے دن سے یہی موقف اختیار کیا ہے۔ تاہم بحث قواعد کے مطابق ہوتی ہے۔ بحث کب ہوگی، کتنی دیر چلے گی اور کس ضابطے کے تحت ہوگی، اس کا فیصلہ اسپیکر اوم برلا تمام جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد کریں گے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کے لیے ہم سب کو مل کر بامقصد بحث کرنی چاہیے، حکومت بھی یہی چاہتی ہے۔‘‘