نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے ایل پی جی کی مبینہ قلت اور شہروں سے مزدوروں کی مبینہ نقل مکانی کے معاملے پر پیر کے روز حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ جب غرور پالیسی بن جائے تو معیشت کمزور ہو جاتی ہے اور ملک دہائیوں پیچھے چلا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت نے اس بحران کے سلسلے میں بھی وہی حکمت عملی اپنائی جو اس نے کووڈ بحران کے دوران اختیار کی تھی۔ راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیا، (وزیر اعظم) مودی جی نے کہا تھا کہ ایل پی جی بحران کو کووڈ کی طرح سنبھالیں گے۔ اور واقعی ایسا ہی کیا۔ بالکل کووڈ کی طرح — پالیسی کا فقدان، بڑے اعلانات، اور بوجھ غریبوں پر۔
انہوں نے کہا کہ 500-800 روپے روزانہ کمانے والے مہاجر مزدوروں کے لیے رسوئی گیس پہنچ سے باہر ہو گئی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا، رات کو گھر لوٹنے والے مزدور کے پاس چولہا جلانے تک کے پیسے نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ شہر چھوڑ کر گاؤں کی طرف واپس جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو مزدور کپڑا ملوں اور کارخانوں کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، آج وہی ٹوٹ رہے ہیں۔
کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا، “ٹیکسٹائل سیکٹر پہلے ہی آئی سی یو میں ہے۔ مینوفیکچرنگ دم توڑ رہی ہے۔ اور یہ بحران آیا کہاں سے؟ سفارتی میز پر ہوئی اس غلطی سے جسے حکومت آج تک تسلیم نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ جب غرور پالیسی بن جائے تو معیشت کمزور ہو جاتی ہے، مزدور نقل مکانی کرتے ہیں، صنعتیں تباہ ہو جاتی ہیں اور ملک دہائیوں پیچھے چلا جاتا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا، سوال صرف ایک ہے — ہر بحران میں سب سے پہلے غریب ہی کیوں مرتا ہے؟ خاموش مت رہو۔ یہ صرف غریب کا نہیں، ہم سب کا سوال ہے۔