نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز ایوان میں اپنے ایک تحریری سوال اور حکومت کے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت اپنے مفادات کے لیے بھارتی زراعت کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ کانگریس کے سابق صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ کسانوں کے حقوق اور ایم ایس پی (کم از کم امدادی قیمت) کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر آواز اٹھاتے رہیں گے۔
راہل گاندھی نے اپنے غیر ستارہ دار سوال اور حکومت کے جواب کی نقل شیئر کرتے ہوئے فیس بک پر لکھا: "میں نے لوک سبھا میں حکومت سے سیدھا سوال کیا تھا کہ 2021 میں کسانوں سے کیا گیا ‘C2+50 فیصد’ قانونی ایم ایس پی کا وعدہ اب تک نافذ کیوں نہیں کیا گیا؟ حکومت نے جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے صرف اپنی پرانی ایم ایس پی پالیسی دہرا دی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس نے ریاستوں پر ایم ایس پی بونس ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور اسے بغیر کسی واضح دلیل کے "قومی ترجیحات" کے نام پر درست قرار دیا گیا۔ قائد حزب اختلاف نے کہا: "ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے میں ‘غیر تجارتی رکاوٹوں’ کو کم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ کیا اس کا مطلب ایم ایس پی اور سرکاری خریداری کے نظام کو کمزور کرنا ہے؟ حکومت اس سوال سے بھی بچ رہی ہے۔"
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کسانوں سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کرنا چاہتی اور وہ اپنے مفادات کے لیے بھارتی زراعت کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ راہل گاندھی نے کہا: "ہم کسانوں کے حقوق اور ایم ایس پی کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔"
رائے بریلی سے لوک سبھا کے رکن راہل گاندھی نے 10 مارچ کو تحریری سوال کیا تھا کہ کیا حکومت نے 2021 میں احتجاج کرنے والے کسانوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ تمام فصلوں کے لیے ‘C2+50 فیصد’ کی شرح سے قانونی ضمانت کے ساتھ ایم ایس پی نافذ کرنے پر غور کرے گی؟
اس کے جواب میں زراعت کے وزیر مملکت بھگیرتھ چودھری نے کہا: ہر سال حکومت ریاستی حکومتوں اور متعلقہ مرکزی وزارتوں اور محکموں کی تجاویز پر غور کرنے کے بعد کمیشن فار ایگریکلچرل کاسٹس اینڈ پرائسز (CACP) کی سفارشات کی بنیاد پر ملک بھر میں 22 مقررہ زرعی فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت (MSP) مقرر کرتی ہے۔ وزیر نے مزید کہا کہ 2018-19 کے مرکزی بجٹ میں یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ ایم ایس پی کو پیداواری لاگت کے کم از کم ڈیڑھ گنا سطح پر رکھا جائے۔
انہوں نے کہا: اسی اصول کے مطابق حکومت نے 2018-19 سے تمام مقررہ خریف، ربیع اور دیگر تجارتی فصلوں کے لیے پیداواری اوسط لاگت پر کم از کم 50 فیصد منافع کے ساتھ ایم ایس پی میں اضافہ کیا ہے، جس سے ملک بھر کے کسانوں کو فائدہ ہوا ہے۔