نئی دہلی: آسام حکومت نے جمعہ کو پیش کیے گئے بجٹ میں تجویز پیش کی ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے افراد کو ریاستی حکومت کی فلاحی اسکیموں کا فائدہ نہیں دیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ، اگر کوئی سرکاری ملازم کثرتِ ازدواج کا مرتکب پایا گیا تو اسے ملازمت سے برطرف کیا جائے گا۔
اپنا پہلا بجٹ پیش کرتے ہوئے ریاست کے وزیر خزانہ جینت ملا بروآ نے کہا کہ فلاحی اسکیموں کا فائدہ صرف مستحق افراد تک پہنچانا ہی مقصد نہیں، بلکہ معاشرے میں شمولیت، دیانت داری اور اخلاقی اقدار کو بھی فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، ’’خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی انصاف کو فروغ دینے کے مقصد سے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والا کوئی بھی مرد ریاستی حکومت کی کسی بھی فلاحی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کا اہل نہیں ہوگا۔
‘‘ بجٹ میں آسام سروس (ڈسپلن اینڈ اپیل) رولز، 1964 میں ترمیم کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے تحت اگر کوئی سرکاری ملازم کثرتِ ازدواج کا قصوروار پایا جاتا ہے تو قانون کے مطابق اسے سرکاری ملازمت سے برطرف کیا جا سکے گا۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا، ’’دیانت داری اور ذمہ دار شہری ہونے کی حوصلہ افزائی کے لیے میری تجویز ہے کہ کسی بھی فوجداری قانون کے تحت مجرم قرار دیا گیا شخص حکومت کی نوٹیفائیڈ فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کا اہل نہیں ہوگا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کے دوران باقاعدہ بجٹ پیش نہ ہونے کے باعث فلاحی اسکیموں کا معمول کا نفاذ متاثر ہوا تھا، تاہم حکومت اگست سے ان اسکیموں کو دوبارہ شروع کرے گی۔ جینت ملا بروآ نے کہا کہ حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں سے مختلف طبقات کے لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں، اور ان اسکیموں کے لیے مختلف مدوں میں 6,000 کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تمام مستفیدین پر مبنی اسکیموں پر عمل درآمد ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کے لیے تیار کیے گئے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر فار ڈائریکٹ بینیفٹ اسکیم (DIDS) کے تحت قائم مربوط ڈیجیٹل مستفیدین کے نظام کے ذریعے کیا جائے گا، جس میں آدھار پر مبنی تصدیق کی سہولت بھی شامل ہوگی۔